مسیحی صلیبی جنگیں کیا تھیں؟


سوال: مسیحی صلیبی جنگیں کیا تھیں؟

جواب:
صلیبی جنگوں نے مسیحی ایمان کے خلاف کچھ نہایت کثیر الوَقُوع دلائل فراہم کئے ہیں۔ کچھ اسلامی دہشت گرد دعویٰ کرتے ہیں کہ اُن کی دہشت گردی کے حملے اُن زیادتیوں کا بدلہ ہیں جو مسیحیوں نے صلیبی جنگوں میں کیں۔ لہذہ، صلیبی جنگیں کیا تھیں اور اِنہیں مسیحی ایمان کے لئے اتنے بڑے مسلہ کے طور پر کیوں دیکھا جاتا ہے؟

سب سے پہلی بات، صلیبی جنگیں "مسیحی صلیبی جنگوں" کے طور پر پیش نہیں ہونی چاہیے۔صلیبی جنگوں میں شامل زیادہ تر لوگ حقیقی مسیحی نہیں تھے، اگرچہ وہ مسیحی ہونے کا دعویٰ کرتے تھے۔ بہت سے صلیبی جنگجوؤں کی طرف سے مسیح کے نام کو بدنام کیا گیا، غلط استعمال کیا گیا، اور اُن کے اعمال کی وجہ سے مسیح کی توہین کی گئی۔ دوسری بات، صلیبی جنگیں تقریباً سن 1095 سے 1230 کے درمیانی عرصہ میں لڑی گئیں۔ کیا سینکڑوں سال پہلے کے نام نہاد مسیحیوں کے غیر بائبلی افعال و اعمال کو ابھی بھی موجود مسیحیوں کے خلاف قائم رہنا چاہیے؟

تیسری بات، یہ ایک مناسب عُذر نہیں ہے، لیکن ماضی میں صرف مسیحی مذہب اکیلا شدت پسند نہیں رہا ۔ حقیقت میں صلیبی جنگیں مسلمانوں کے اُس سرزمین پر حملوں کا ردِ عمل تھیں جو بنیادی طور پر پہلے مسیحیوں کی ملکیت تھی۔ تقریباً سن 200 سے سن 900 تک اسرائیل، یردن، مصر، شام، اور تُرکی کی سرزمین بنیادی طور پر مسیحیوں کی سرزمین تھی۔ جب اسلام اقتدار میں آیا، مسلمانوں نے اِن علاقوں پر حملے کئے اور اِن علاقوں میں بسنے والے مسیحیوں پر ظالمانہ تشدد کیا، غلام بنایا، مُلک بدر کیا، اور یہاں تک کہ بہتوں کو قتل کیا۔ ردعمل میں، رومن کیتھولک چرچ اور یورپ سے "مسیحی" بادشاہوں/شہنشاہوں نے مقبوضہ سرزمین کو چھڑوانے کے لئے صلیبی جنگوں کا حکم دیا ۔ صلیبی جنگوں میں کئے گئے بہت سے نام نہاد مسیحیوں کے کام آج بھی قابلِ افسوس ہیں۔ یسوع مسیح کے نام پر علاقوں کو فتح کرنے، شہریوں کو قتل کرنے، اور شہروں کو تباہ کرنے والوں کے لئے کوئی بائبلی تائید نہیں ہے۔ اِسی طرح، اسلام بھی ایسا مذہب نہیں ہے جو ایسے معاملات میں معصومیت کی حثییت سے بات کر سکتا ہے۔

مختصر طور پر خلاصہ کرتے ہوئے، صلیبی جنگیں گیارھویں سے تیرھویں صدی کے دوران مشرقی وُسطی کی اُس سرزمین کو چھڑانے کی کاوشیں تھیں جن پر مسلمانوں نے قبضہ کیا ہوا تھا۔ صلیبی جنگیں نہایت ظالمانہ اور نقصان رساں تھیں۔ بہت لوگوں کو مسیحی ہونے کے لئے مجبور کیا گیا۔ اگر وہ انکار کرتے اُنہیں قتل کیا جاتا۔ مسیح کے نام پر جنگ اور تشدد کے وسیلہ سے کسی جگہ پر قابض ہونے کا خیال بالکل غیر بائبلی ہے۔ صلیبی جنگوں میں ہونے والے بہت سے کام ہر اُس بات کے مکمل طور پر متضاد ہیں جن کے لئے مسیحی ایمان کھڑا ہے۔

صلیبی جنگوں کے نتیجے کے طور پر دہریوں، ناستکوں، نقادوں، اور بہت سے دیگر مذاہب کی طرف سے مسیحی ایمان پر حملہ کیا جاتا ہے، تو پھر ہم کیسے جواب دے سکتے ہیں؟ ہم مندرجہ ذیل طریقوں سے جواب دے سکتے ہیں۔ 1) کیا آپ اُن لوگوں کے اعمال کے لئے ذمہ دار ٹھہرنا چاہتے ہیں جنہوں نے 900 سے بھی زیادہ سال پہلے زندگی گزاری تھی ؟ 2) کیا آپ ہر اُس شخص کے اعمال کے ذمہ دار ٹھہرنا چاہتے ہیں جو آپ کے ہم ایمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہے؟ صلیبی جنگوں کے لئے تمام مسیحیوں پر الزام لگانے کی کوشش اسلامی دہشت گردی کے لئے تمام مسلمانوں پر الزام لگانے کے مماثل ہے۔

English
اردو ہوم پیج میں واپسی
مسیحی صلیبی جنگیں کیا تھیں؟