کیا نظریہ تخلیق سائنسی ہے؟


سوال: کیا نظریہ تخلیق سائنسی ہے؟

جواب:
اِن دنوں میں نظریہ ِ تخلیق کی صداقت کے بارے میں کافی بحث و تکرار پائی جاتی ہے۔ نظریہ تخلیق کی تعریف کچھ یوں کی جاتی ہے"یہ نظریہ کہ کائنات اور جاندار نظریہ ارتقاء جیسےفطرتی عوامل کی بجائے الہیاتی تخلیق کے خاص عمل سے وجود میں آئے ہیں جیسا کہ بائبل کی تفصیلات بیان کرتی ہیں "۔ تخلیقی سائنس کو اکثر دُنیوی معاشرے (سیکولر کمیونٹی) کی طرف سے ردّ کیا جاتا ہے، اور اِس پر یہ الزام لگا یا جاتا ہے کہ اِس میں سائنسی حقائق کی کمی ہے ۔ تاہم نظریہ ِ تخلیق کسی بھی موضوع پر سائنس کے ساتھ واضح ہم آہنگی رکھتاہے۔ نظریہ ِ تخلیق حقیقی دُنیا کے واقعات، مقامات اور چیزوں کے بارے میں بیان کرتا ہے۔ اِس کا تعلق صرف اور صرف انفرادی نظریات یا خیالی تصورات کے ساتھ نہیں ۔ ایسے تسلیم شدہ سائنسی حقائق بھی موجود ہیں جو نظریہِ تخلیق کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں اورجس ا نداز سے یہ حقائق ایک دوسرے سے مربوط ہیں اُس لحاظ سے یہ خود کو تخلیقی مفہوم دیتے ہیں ۔ جس طرح دوسرے وسیع سائنسی تصورات باہمی طور پر مربوط کئے جاتے ہیں تاکہ حقائق کے ایک تسلسل کو واضح طور پر دکھایا جا سکے، ایسے ہی نظریہ ِ تخلیق بھی کرتا ہے۔

پس پھر نظریہ ِ تخلیق"فطرت پرستی /نیچرل ازم " کے مقابلے میں سائنسی کیسے ہو سکتا ہے کیونکہ" فطرت پرستی /نیچرل ازم ایک فلسفیانہ نقطہ نظر ہے جس کے مطابق ہر چیز قدرتی خصوصیات اور وجوہات سے پیدا ہوتی ہے اور جس میں مافوق الفطرت یا رُوحانی تشریحات کو خارج کیا جاتا ہے" ۔ یہاں پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اِس سوال کے جواب کا انحصار اِس بات پر ہے کہ آپ لفظ "سائنسی" کی وضاحت کیسے کرتے ہیں۔ تعریف کے لحاظ سے نظریہ ِ تخلیق کے ماننے والوں کے تصورات کو خارج کرتے ہوئے "سائنس" اور" فطرت پرستی/نیچرل ازم" کو اکثر ایک ہی خیال کیا جاتا ہے ۔ ایسی تعریف کو قبول کرنے کے لیے "فطرت پرستی /نیچرل ازم " کی ایک غیر منطقی تعظیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ سائنس کو"مظاہر ِ قدرت کے مشاہدے، شناخت، با ترتیب تفصیل ، تجرباتی تحقیقات اور کسی چیز یا مظہر کی نظریاتی اور اصولی وضاحت" کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ سائنس کو فطرت پرست بننے کےلیے کسی چیز کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ نظریہِ تخلیق کی طرح فطرت پرستی کو پہلے سے فرض کر دہ ایسے مفروضات کے تسلسل کی ضرورت ہوتی ہے جن کی بنیاد قطعی طور پر تجربات نہیں ہوتی ۔ یہ مفروضات معلومات یا جانچ پڑتال کے نتائج سے اخذ نہیں کئے جاتے۔ اِن پہلے سے فرض کردہ فلسفیانہ مفروضات کو کسی بھی معلومات کے حصو ل سے پہلے قبول کیا جاتا ہے۔ کیونکہ نظریہ ِ فطرت پرستی اور نظریہ ِ تخلیق دونوں پہلے سے فرض کردہ اُن مفروضات سے گہرے طور پر متاثر ہیں جو نہ توقابلِ تصدیق ہیں نہ ہی قابلِ آزمائش۔یہ مفروضات حقائق سے پہلے اچھی طرح زیر بحث آتے ہیں لہذا یہ کہنا درست ہے کہ نظریہ ِ تخلیق کم از کم نظریہ فطرت پرستی جتنا تو سائنسی ہے ہی ۔

نظریہِ فطرت پرستی کی طرح نظریہ تخلیق بھی اس لحاظ سے "سائنسی" ہو سکتا ہے کہ یہ دریافت/تحقیق کے سائنسی طریقے کے ساتھ ہم آہنگ ہے ۔ تاہم یہ دو نظریات بذات ِ خود سائنس نہیں ہیں کیونکہ دونوں نظریات میں ایسے پہلو شامل ہیں جو عام مفہوم میں "سائنسی " خیال نہیں کئے جاتے ۔ نہ تو نظریہ ِ تخلیق اور نہ ہی نظریہ ِ فطرت پرستی قابل ِ تصدیق ہیں ؛ایساکوئی تجربہ موجودنہیں ہے جو انہیں حتمی طور پر غلط ثابت کر سکے ۔ ایسی کوئی پیشن گوئی بھی نہیں کیونکہ یہ نہ تو نتائج کے بارے میں پیشن گوئی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور نہ ہی اِس میں اضافہ کرتے ہیں ۔ محض اِن دونکات کی بنیاد پر ہم دیکھتے ہیں کہ سائنس کی رو سےاِن دونوں میں سے کسی ایک کو دوسرے سے زیادہ درُست سمجھنے کی کوئی منطقی دلیل موجود نہیں ہے۔

نظریہ ِ فطرت پرستی کو ماننے والے نظریہ ِ تخلیق کو ردّ کرنے کے لئے جو دلائل پیش کرتے ہیں معجزات کا نظریہ ا ُن میں سے ایک اہم دلیل ہے ۔نظریہ فطرت پرستی کو ماننے والے خاص طو ر پر طنزیہ انداز میں کہتے ہیں تخلیق جیسے انوکھے معجزات ناممکن ہیں کیونکہ یہ فطرت کے اُن قوانین/اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں جن کا تاریخی لحاظ سے باقاعدہ طور پر مشاہدہ کیا گیا ہے کہ وہ ہر وقت یکساں طور پر کام کر رہے ہیں۔ فطرت پرستوں کی طرف سے ایسا نظریہ اپنانا یا ایسی بات کہنا مضحکہ خیز ہے کیونکہ اگر آپ دیکھیں تو ً غیر حیاتیاتی تولید یعنی غیر جاندار مادے سے جاندار کے پیداہونے کے مفروضے پر غور کریں۔ غیر حیاتیاتی تولید(بے جان سے جاندار کا پیدا ہونا) سائنسی لحاظ سے سب سے زیادہ رَد کیا جانے والا نظریہ ہے۔ لیکن پھر بھی ایک حقیقی فطرت پرست یہ سمجھتا اور مانتا ہے کہ زمین پر خود ساختہ ، خود سے برقرار رہنے والے، پیچیدہ جاندار غیر جاندار مادےسے محض اتفاق کی بناء پر پیدا ہوئے تھے ۔ تمام انسانی تاریخ میں ایسی چیز کبھی مشاہدے میں نہیں آئی ۔ کسی سادہ مخلوق کو زیادہ پیچیدہ شکل میں ترقی کرنے کے لئے درکار فائدہ مند ارتقائی تبدیلیوں کا بھی کبھی مشاہد ہ نہیں کیا گیا ۔ پس ایسی صورتحال میں جب چیزوں کو کوئی سائنسی طریقہ کار بیان نہیں کر سکتا تو نظریہ ِ تخلیق یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ چیزیں جو ہماری سمجھ سے بالا ہیں اور جو سائنسی لحاظ سے نا ممکن ہیں اُن کے وقوع پذیر ہونے کی واحد وجہ معجزات ہو سکتے ہیں، اور یہ نظریہ مانتا ہے کہ کلامِ مُقدس اُن سب واقعات کے وقوع پذیر ہونے کی تفصیل بیان کرتا ہے ۔ معجزات کی بناء پر نظریہ تخلیق کو غیر سائنسی قرار دینا اِس بات کا بھی تقاضا کرتا ہے نظریہ فطرت پرستی کو بھی غیر سائنس قرار دیا جائے ۔

ایسے بہت سے حقائق موجود ہیں جو نظریہ تخلیق بمقابلہ نظریہ فطرت پرستی کے مباحثے میں دونوں اطراف سے استعمال کئے جاتے ہیں۔ حقائق تو آخر حقائق ہیں مگرکوئی ایسی چیز حقیقت نہیں کہلا سکتی جو خود"حقیقت" ہونے کی دعویدار ہو لیکن اُس کو ثابت کرنے کے لیے بے انتہا تشریح کی ضرورت پڑے۔ نظریہ تخلیق اور دنیوی نظریہ فطرت پرستی کے درمیان پائے جانے والے اختلا ف کی بنیاد مکمل طور پر مختلف تشریحات پر ہے۔ چارلس ڈاروّن نے خصوصی طور پر ارتقا ءبمقابلہ تخلیق بحث و مباحثہ کے تعلق سے بذات خود یہ نقطہ پیش کیا تھا ۔ اپنی کتاب اوریجن آف سپیشز (The Origin of Species)کے تعارف میں وہ بیان کرتا ہے "مَیں بخوبی جانتا ہوں کہ اِس جلد میں مشکل سے صرف ایک نقطے پر بات کی گئی ہے جس پرایسے حقائق کو پیش نہیں کیا جا سکتا،جو ظاہر ی طور پراُن نتائج کی طرف رہنمائی کرتے ہوں جو براہ راست طور پر اُن دلائل کے خلاف ہوتے ہیں جن پر مَیں پہنچا ہوں ۔" ڈاروّن یقیناً نظریہ ِ تخلیق کی نسبت نظریہ ِ ارتقاء پر ایمان رکھتا تھا لیکن وہ اِس بات کو تسلیم کرنے کو تیار تھا کہ کسی عقیدے کو منتخب کرنے کے لئےچیزوں کی اپنے طریقے سے کی گئی تشریح کلیدی حیثیت رکھتی ہے ۔ یہ عین ممکن ہے کہ ایک سائنسدان ایک مخصوص حقیقت کو نظریہ فطرت پرستی کے معاون کے طور پر دیکھے جبکہ دوسرا سائنسدان اُسی حقیقت کو نظریہ ِ تخلیق کا حامی پائے ۔

مزید برآں یہ حقیقت کہ نظریہ ِ تخلیق نظریہ ِ ارتقاء کی طرف سےپیش کردہ فطرت پرستی کے تصورات کا واحد ممکنہ متبادل ہے اِس لیے یہ ایک بہت اہم موضوع ہے خاص طور پر اُس صورت میں بھی جب سائنس کی کچھ نمایاں شخصیات نے اِس دو نوعیتی تقسیم کو تسلیم کیا ہے ۔ بہت سے معروف اور بااثر سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ فطری ارتقاء یا خصوصی تخلیق کا عمل زندگی کے بارے میں واحد ممکنہ وضاحت ہے ۔ گوکہ تمام سائنسدان اِس بات پر متفق نہیں ہیں کہ کونسا نظریہ درُست ہے لیکن قریباً سب اس بات پر متفق ہیں کہ اِن دونوں میں سے ایک لازمی طور پر درست ہے۔

ہمارے پاس یہ سیکھنے کے لئے بہت ساری وجوہات ہیں کہ "نظریہ ِ تخلیق" سیکھنے کے تعلق سے بالکل منطقی اور سائنسی کیوں ہے۔ ان میں حقیقت پسندانہ امکان کے تصورات ، میکرو ارتقاء (macro-evolution) کے لئےایسے شواہد کی پشت پناہی جو بذاتِ خود ناقص ہیں، تجربے کا ثبوت وغیرہ شامل ہیں ۔ نظریہ فطرت پرستی کے پہلے سے فرض کردہ مفروضات کو قبول کرنے اور نظریہ تخلیق کےماننے والوں کےمفروضات کو یکسر اور مکمل طور پر ردّ کرنے کی کوئی منطقی بنیاد نہیں ہے۔ نظریہ ِ تخلیق پر مبنی مضبوط عقیدہ سائنسی دریافت کے عمل میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالتا۔ نیوٹن، پیسٹَر، مینڈل، پاسکل، کیلون، لینائیس، اور میکس ول جیسےلوگوں کی کامیابیوں کا جائزہ لیں۔ یہ سب واضح طور پر نظریہ تخلیق کو ماننے والے تھے ا ور اِس پر مطمئن تھے ۔ نظریہ فطرت پرستی کی طرح نظریہ تخلیق بھی سائنس نہیں ہے۔ تاہم نظریہ تخلیق سائنس کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ہے ۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
کیا نظریہ تخلیق سائنسی ہے؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں