settings icon
share icon
سوال

تخلیق کے بارے میں اعتقادات باقی علمِ الہیات پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں ؟

جواب


تخلیق /ارتقاء کی بحث برسوں سے جاری ہے ۔ بہت سے لوگوں کو ایسا لگتا ہے کہ دو مخالفین ایک دوسرے پر چیخ رہے ہیں اور اِن میں سے کوئی بھی دوسرے کی بات نہیں سُنتا۔ یہ شدید تنقید اس نقطے تک پہنچ چکی ہے جہاں ہر فریق فطری طور پر دوسرے کو رد کر دیتا ہے – نظریہ ارتقاء کے حامل نظریہ تخلیق کے حامیوں کو سائنس کو مکمل طور پر نظرانداز کرنے کےلیے مستردکرتے ہیں اور نظریہ تخلیق کے حامی ارتقاء پسندوں پر الزام لگا تے ہیں کہ وہ اپنی سمت اُٹھنے والے سبھی طرح کے سوالات کو خاموشی کی چادر اوڑھنے کےلیے ہر طرح کی منافقانہ سازشوں میں ملوث ہیں ۔ یہ بات کرنا دونوں فریق کے دلائل کو مبالغہ آمیز قرار دے کر مسترد کرنا نہیں ہے بلکہ یہ صرف اس بات کی نشاندہی کرنا ہے کہ اس زبانی جنگ میں کچھ مختصر مگر قابل ِ اعتماد گفتگو جاری ہے ۔

سچائی کی تہہ تک جانے میں در پیش دشواری کی وجہ سے بہت سے مسیحی تخلیق/ ارتقاء کی بحث کی ایک ثا نوی درجے کے مسئلے کے طور پر درجہ بندی کرتے ہیں جس کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں کہ کوئی شخص یسوع مسیح کی انجیل کے وسیلہ سے خدا کےساتھ درست تعلق کیسے قائم کرتا ہے ۔ اس طرح کی سوچ بنیادی طور پر درست ہے۔ ہم اس بحث میں اس قدر پھنس سکتے ہیں کہ ہماری توجہ مرکزی معاملے یعنی انجیل کے پیغام کی منادی سے ہٹ جاتی ہے ۔ تاہم جیسا کہ " ثانوی " درجے کے بہت سے دیگر مسائل کے ساتھ ہے کوئی شخص تخلیق کے بارے میں جو کچھ ایمان رکھتا ہے وہ اس لحاظ سے اہم کردار ادا کرتا ہے کہ کوئی شخص عموماً علم ِ الہیات اور بالخصوص انجیل کو کس نظر سے دیکھتا ہے ۔زیادہ اہم بات یہ ہے کہ کوئی شخص جس نظر سے نظریہ تخلیق کو دیکھتا ہے اُس کا اُس کے باقی کے الہیاتی نظریات پر بڑا گہرا اثر پڑتا ہے ۔

نظریہ تخلیق کے تعلق سے مسیحیت میں کئی طرح کے نقطہ نظر پائے جاتے ہیں :

1. اصلی 24x6تخلیق- خدا نے تمام چیزوں کو 24گھنٹوں پر مبنی 6 دنوں میں تخلیق کیا تھا ۔

2. ایک دن –ایک دور کا نقطہ نظر- تخلیق کے واقعات بالکل اُسی طرح رونما ہوئے تھے جیسے پیدایش 1 باب میں دکھائے گئے ہیں مگر اِس عمل میں بیان کردہ 24 گھنٹوں کے 6 دن کی بجائے ایک "دن" کو ایک "غیر متعین مدت، لامحدود وقت کے دور کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

3. بناوٹی نقطہ نظر- پیدایش 1باب کے دن الہیاتی تخلیق کی بناوٹ یا ڈھانچے کو پیش کرتے ہیں جس کے پیش نظر تمام چیزوں کی تخلیق کو بیان کیا جاتا ہے ۔

کلیسیائی تاریخ کے بیشتر حصے میں کلیسیا کے اندر تخلیق کا 24x6نقطہ نظرگذشتہ 150 سالوں سے زیادہ عام تھا ۔ تمام مسیحی اس نقطہ نظر پر قائم نہیں تھے اور جو قائم تھے وہ تمام اس کے پابند نہیں تھے۔ تاہم اس میں کوئی سوال نہیں کہ یہ زیادہ تر مسیحی تاریخ کے دوران پیدایش کی کتاب کی سب سے نمایاں تشریح رہی ہے ۔ 24x6 کے نقطہ نظر سمیت ہم کسی بھی چیز پر محض اس لیے یقین کرنا نہیں چاہتے کہ یہ روایتی اور تاریخی ہے بلکہ ہم ایک عقیدے پر ایمان رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ اس کی تقویت کتاب کے متن سے ہوتی ہے ۔

اس خاص معاملے میں بہت سے قدامت پسند مذہبی ماہرین کا خیال ہے کہ 24x6 کے نقطہ نظر کو متن سے سب سے زبردست تفسیری حمایت بھی حاصل ہے ۔ سب سے پہلے اور سب سے اہم طور پر یہ ایک قدرتی نقطہ نظر ہے جو کوئی شخص عام طور پر متن کے مطالعہ سے حا صل ہوتا ہے ۔ مزید برآں یہاں اور بھی نکات ہیں جیسے کہ تخلیق کے ہفتے کے دوران سات دنوں کے نمونے کا قیام ہے جو کہ ہمارے کیلنڈر کے ہفتے کا نمونہ ہے ( خروج 20 باب 8-11آیات)۔

جدید سائنس کی آمد کے وقت سے تخلیق کے 24x6 کے نقطہ نظر کو مسیحیوں کی طرف سے بڑی تیزی سے تر ک کیا گیا ہے ۔ اس تردید کی بنیادی حقیقت یہ ہے کہ تخلیق کا 24x6 کا نقطہ نظر کائنات کے لیے " کم عمر زمین"(کہیں 6000 سے 30000 سالوں ) کے نظریے کو لازمی قرار دیتا ہے جبکہ مروجہ سائنسی نظریے کا کہنا ہے کہ کائنا ت اربوں سال پُرانی ہے ۔ ایک دن – ایک دَور کا نقطہ نظر ( جو بعض اوقات نظریہ بتدریج تخلیق کہلاتا ہے ) پیدایش کے تخلیقی بیان کو کائنات کی عمر کے تعلق سے " کم عمر زمین " کے نقطہ نظر سے جوڑنے کی ایک کوشش ہے ۔

براہ مہربانی اس بات کو مدنظر رکھیں کہ ایک دن – ایک دور کا نقطہ نظر اب بھی اس بات کا قائل ہے کہ خدا نے تمام چیزوں کو تخلیق کیا ہے اور یہ اب بھی ملحد انہ ( فطرتی) ارتقاء کو مسترد کرتا ہے ۔ ڈے ایج تھیوری کو " الہیاتی ارتقاء" کے ساتھ بھی متذبذب نہیں کیا جانا چاہیے یہ نظریہ کہ ارتقائے کبیر درست ہے جو غیر معقول اتفاق کی رہنما ئی میں رونما ہونے کی بجائے خدا کی رہنمائی میں واقع ہوا تھا ۔ ڈے ایج تھیوری کے حامی خود کو ایسے لوگوں کے طور پر دیکھتے ہیں جو بائبل کے بیان کو سائنس کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہیں۔ اِس کے مخالفین اس نقطہ نظر کو خدا کے کلام کی صداقت کو مستر د کرنے کےلیے ایک آسان راستے کے طور پر دیکھتے ہیں ۔

چونکہ بہت سے مسیحی تخلیق/ ارتقاء کی بحث کو ثانوی اہمیت کے طور پر دیکھتے ہیں لہذا کوئی شخص تخلیق کے بائبلی نقطہ نظر کی تشریح کیسے کرتا ہے اس کے بارے میں الہیاتی مضمرات پر عام طور پر بہت کم یا کوئی خدشہ ظاہر نہیں کیا جاتا۔ تاہم کوئی بھی شخص تخلیق کے تعلق سے جو کچھ بھی مانتا ہے وہ درحقیقت بہت اہم ہے کیونکہ یہ کلامِ مقدس کے لا خطا ، قابلِ اعتماد اور بااختیار ہونے کے مسئلے کو پیش کرتا ہے ۔ یہ بات بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے کہ کوئی شخص کسی خاص نقطہ نظر کا خدا کے کلام کی روشنی میں کیوں انتخاب کرتا ہے ۔ یہ ایمان رکھنا کہ بائبل الہامی اور لاخطا ہے مگر پیدایش کی کتاب کے پہلے دوابواب الہامی اور لاخطا نہیں ایک الگ بات ہے ۔ لیکن یہ ماننا کہ بائبل مخص غلط یا بھروسے کے قابل نہیں ہے ایک الگ بات ہے ۔ دوسرے الفاظ میں جب تخلیق کے بارے میں کسی کے نقطہ نظر کی بات آتی ہے تو کلیدی مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ یہ نظریہ بائبل کے اختیار اور قابل ِ یقین ہونے کیساتھ کیسے تعلق رکھتا ہے۔

اگر بائبل پر پہلے دو ابواب میں بھروسہ نہیں کیا جا سکتا تو وہ کون سی بات ہے جو اس کے باقی ماندہ تمام حصہ میں اِسے قابلِ یقین بناتی ہے ؟ عام طور پر بائبل ناقدین اپنے حملوں کو پیدایش کی کتاب کے پہلے گیارہ ابواب بالخصوص تخلیق کے بیان پر مرکوز کرتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ وہ کلام ِ مقدس کے اس حصہ کو نشانہ کیوں بناتے ہیں ؟ پیدایش کی کتاب کے پہلے گیارہ ابواب باقی کی بائبل کی کہانی کی بنیاد کو قائم کرتے ہیں ۔ آپ پیدایش 1 سے 11 ابواب کے بغیر کلام ِ مقدس کی آئندہ کہانی کو سمجھ نہیں سکتے ہیں۔ بائبل کے باقی حصوں کےلیے اِن ابواب میں بہت سا بنیادی مواد پایا جاتا ہے مثلا ً تخلیق ، زوال، گناہ ، عدالت کی یقین دہانی ، نجات دہندہ کی ضرورت ، اور انجیل کا تعارف ۔ ان بنیادی عقائد کو نظر انداز کرنا آئندہ بائبل کو غیر واضح اور غیر متعلقہ قرار دے گا ۔

اس کے باوجود بائبل کے ناقدین پیدایش کی کتاب کے ان ابتدائی ابواب کو قدیم ترین تاریخ کی بجائے قدیم عبرانی افسانے کے طور پر لینا چاہتے ہیں ۔ ابھی اِس معاملے کی سچائی یہ ہے کہ دیگر ثقافتوں کی تخلیق سے متعلقہ کہانیوں کے مقابلے میں پیدایش کی کتاب کا بیان –یہاں تک کہ اس کی لفظی تشریح میں بھی یہ افسانے کی بجائے زیادہ تاریخ کی طرح پڑھی جاتی ہے ۔ زیادہ تر قدیمی ادب میں تخلیق کو دیوتاؤں کے مابین جدوجہد کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ تخلیق سے متعلق بیشتر قصے مذہبی کائنات کے مرکز کے طور پر ثقافت کو قا بل ِ اعتراض پیش کرتے ہیں ۔ تخلیق کی دوسری کہانیوں کے ساتھ بہت سی مماثلت رکھنے کے باوجود پیدایش کی کتاب کا بیان اس لحاظ سے مختلف ہے کہ یہ خدا کو تخلیق کے واحد حاکم ( نہ کہ بہت سےمعبود وں میں سے ایک ) اور بنی نو ع انسان کو اُس کی تخلیق کے تاج کے طور پر پیش کرتا ہے جو اُ س کی تخلیق پر اُس کے مختار کے طور پر خدمت سر انجام دیتا ہے ۔

بلاشبہ پیدایش کی کتاب کے بیان کے حوالے سے ایسے سوالات موجود ہیں جن کے جواباب پیش نہیں کیے جاتے ہیں جیسا کہ تخلیق کی صحیح تاریخ ۔ اور نہ ہی اُن مخصوص وسیلوں یا طریقہ کار کے بارے میں بہت سی تفصیلات ہیں جن کا خدا نے استعمال کیا ہو گا ۔ یقیناً یہی وجہ ہے کہ بائبل کےساتھ ہم آہنگ مختلف تخلیقی بیانات کے بارے میں مباحثے ہوتے رہتے ہیں ۔ پیدایش کی کتاب کے بیان کا مقصد ایک ایسا مکمل تاریخی بیان پیش کرنا نہیں ہے جو جدید دور کے تاریخ دانوں کے نزدیک قابل ِ قبول ہو ۔ پیدایش کی کتاب کا بیان یہودی لوگوں کی مندرج تاریخ سے بھی پہلے کا ہے جب وہ موعودہ سرزمین میں داخل ہونے کی تیاری کر رہے تھے اور اُنہیں یہ جاننے کی ضرورت تھی کہ وہ کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں ۔

ایک اور قابل ِ غور بات یہ ہے کہ زیادہ تر مسیحی علمِ الہیات پیدایش کی کتاب کے بیان کی تاریخی حقانیت پر مبنی ہے ۔ شادی کا تصور تخلیق کے بیان (پیدایش 2باب 24آیت) سے ماخوذ ہے اور یسوع مسیح نے اناجیل مماثلہ میں اس کا ذکر کیا ہے ۔ خداوند یسوع خود اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ انسان کو " ابتداء ہی سے " ( متی 19باب 4آیت)مرد اور عورت تخلیق کیا تھا ۔ قابلِ فہم ہونے کےلیے یہ بیانات پیدایش کی کتاب کے تخلیقی بیان کی تاریخی سچائی پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ نجات کے عقیدے کا انحصار آدم نامی ایک حقیقی شخص کی موجودگی پر ہے ۔ پولس مسیح میں ہماری نجات کو اپنے خطوط میں دو مرتبہ ( رومیوں 5باب اور 1کرنتھیوں 15باب ) آدم میں ہماری شناخت سے جوڑتا ہے ۔ 1کرنتھیوں 15باب 21-22آیات میں ہم پڑھتے ہیں کہ "کیونکہ جب آدمی کے سبب سے مَوت آئی تو آدمی ہی کے سبب سے مُردوں کی قیامت بھی آئی۔ اور جیسے آدمؔ میں سب مَرتے ہیں وَیسے ہی مسیح میں سب زِندہ کئے جائیں گے ۔" پوری انسانیت قدرتی پیدایش کے وسیلہ سے " آدم میں " ہونے کے باعث گناہ آلود حالت میں ہے ۔" اِسی طرح جنہیں خدا نے نجات کے لیے چُنا ہے وہ رُوحانی پیدایش کے وسیلہ سے "مسیح میں" ہونے کے باعث نجات پاتے ہیں۔ آدم میں اور مسیح میں ہونے کا فرق مسیحی علم النجات کی صحیح تفہیم کے لیے بہت اہم ہے اور اگر کوئی حقیقی آدم نہ ہوتا جس سے ساری انسانیت پیدا ہوئی تھی تو یہ فرق اس اعتبار سے بامعنی نہ رہتا ۔

پولس بالکل اسی جوش کے ساتھ رومیوں 5باب 12-21آیات میں دلیل دیتا ہے ۔ لیکن اس حوالے کوجو با ت منفرد بناتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ حوالہ واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ "پس جس طرح ایک آدمی کے سبب سے گناہ دُنیا میں آیا اور گناہ کے سبب سے مَوت آئی اور یُوں مَوت سب آدمیوں میں پھیل گئی اِس لئے کہ سب نے گناہ کِیا" ( رومیوں 5باب 12آیت)۔یہ آیت مکمل بگاڑ (کیلون ازم منشور کا " پہلا اُصول")کی دلیل میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور 1کرنتھیوں کے حوالے کی طرح اِس تعلیم کو دینے کے لیے یہ بھی ایک حقیقی آدم کے وجود پر انحصار کرتی ہے۔ حقیقی آدم کے بغیر کوئی حقیقی گناہ بھی نہیں اور کسی حقیقی نجات دہندہ کی ضرورت بھی نہیں ۔

اس کے باوجود کہ کوئی شخص عقیدہ تخلیق کے بارے میں کون سا موقف اختیار کرتا ہے کم از کم ایک نکتہ پوری طرح سے واضح ہے جس کے بارے میں کوئی بحث نہیں ہوتی: خدا نے آسمانوں اور زمین کو تخلیق کیا تھا ( پیدایش 1باب 1آیت)۔ ہم مانتے ہیں کہ 24x 6 نقطہ نظر زبردست بائبلی دلیل رکھتا ہے بہرحال دیگر نقطہ نظر بھی ہیں جو مسیحی قدامت پسندی کے دائرہ میں رہتے ہوئے درست تشریحات پیش کرتے ہیں ۔

ہمیں اس بات پر زور دینے کی ضرورت ہے کہ بائبل ہماری ابتداء کے بارے میں ( واضح یا غیر واضح طور پر ) ملحدانہ یا ڈاروّن کے نقطہ نظر کی تعلیم نہیں دیتی ۔ لہذا یہ بیان دینا کلامِ مقدس کے بارے میں پست نقطہ نظر رکھنا ہے کہ تخلیق /ارتقاء سے متعلق بحث کی کچھ اہمیت نہیں ہے ۔ ہم ابتدا کے تعلق سے بائبل کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اِس لیے اہم ہے کہ یہ اس بات کو بیان کرتا ہے کہ ہم دیگر ہر معاملے میں اسے کس نظر سے دیکھیں گے ۔اگر ہم اُس وقت بائبل پر یقین نہیں کر سکتے جب یہ تخلیق کے معاملے پر بات کرتی ہے تو ہمیں نجات کے بیان کے حوالے سے اس پر کیونکر یقین کرنا چاہیے؟ منطقی طور پر ہم تخلیق کے بارے میں جو یقین رکھتے ہیں وہ ہمارے باقی کےعلم ِ الہیات کےلیے بہت اہم ہے ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

تخلیق کے بارے میں اعتقادات باقی علمِ الہیات پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries