بائبل تخلیق بمقابلہ ارتقاء کے بارے میں کیا کہتی ہے؟


سوال: بائبل تخلیق بمقابلہ ارتقاء کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

جواب:
تخلیق اور ارتقاء کے درمیان جاری بحث کے تعلق سے اِس سوال کاجو جواب دیا جا رہا ہے اُس کا مقصد کوئی سائنسی دلیل پیش کرنا نہیں ہے۔ اِس مضمون کا حقیقی مقصد در اصل یہ ہے کہ بائبل کے مطابق یہ دیکھا جائے کہ تخلیق اور ارتقاء کے حوالے سے جو بحث موجودہ طور پر چل رہی ہے وہ کیوں ہے۔ رومیوں 1باب 25 آیت بیان کرتی ہے کہ "اِس واسطے کہ اُنہوں نے خُدا کی سچائی کو بدل کر جھوٹ بنا ڈالا اور مخلوقات کی زیادہ پرستش اور عبادت کی بہ نسبت اُس خالق کے جو ابد تک محمود ہے۔ آمین۔"

تخلیق اور ارتقاء میں جو بحث چل رہی ہے اِس میں ایک اہم چیز کو ہمیشہ ہی مدِنظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ زیادہ تر سائنسدان جو ارتقاء کے حامی ہیں وہ یا تو دہریے ہیں یا پھر وجوب پرست (لا ادری/تشکیک پرست)ہیں۔ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو الہیاتی ارتقاء کو مانتے ہیں۔ مزید کچھ ایسے ہیں جو خُدا کی ذات کے بارے میں الحاد پرستی کا نظریہ رکھتے ہیں وہ یہ تو مانتے ہیں کہ خُدا موجود ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ موجودہ طور پر خُدا کا اِس ساری کائنات میں کسی طرح کا کوئی عمل دخل نہیں ہے، ہر ایک چیز فطری اصولوں کے مطابق بغیر کسی رکاوٹ کے چل رہی ہے۔ بہت سارے ایسے بھی ہیں جو جان بوجھ کر سارے معلوماتی مواد کو دیکھتے ہیں اور پھر اِس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ سارے معلوماتی مواد کی روشنی میں دُنیا اور کائنات کی تخلیق کے حوالے سے ارتقاء ہی بہتر نظریہ ہے۔ بہر حال اِس ساری بحث کے اندر سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ نظریہ ارتقاء بائبل اور خُدا پر ایمان رکھنے کیساتھ متصادم ہے۔ یہ دونوں باتیں باہمی طور پر ہم آہنگ نہیں ہیں۔

اِس بات کو بھی مدِنظر رکھنا بہت ضروری ہے کہ کچھ ایسے سائنسدان بھی ہیں جو ارتقاء کو مانتے ہیں لیکن وہ خُدا اور بائبل پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور وہ خُدا، بائبل اور ارتقاء میں کسی طرح کا کوئی تضاد نہیں دیکھتے۔ بہر حال ارتقاء کے رضا کار حامی سائنسدانوں کی ایک بہت بڑی تعداد یہ مانتی ہے کہ زندگی کا آغاز کسی بھی برتر ہستی کی قدرت یا مداخلت کے بغیر ہوا تھا۔ موجودہ دور میں ارتقاء کے جو نظریے پیش کئے جا رہے ہیں وہ مکمل طور پر فطرت پرستی کی سائنس کے ساتھ منسلک ہیں ۔

یہ بات بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ اِس حوالے سے مختلف لوگ جو جو موقف بھی اپنائے ہوئے ہیں اُن کے پیچھے کچھ رُوحانی قوتیں کار فرما ہیں۔دہریت تب ہی سچی ثابت ہو سکتی ہے جب اِس دُنیا کے وجود کو ایک خالق(یعنی خُدا) کے وجود اور قدرت کے بغیر پیش کیا جائے - یعنی یہ بتایا جائے کہ خُدا اور اُسکی قدرت کے بغیر یہ ساری کائنات کیسے وجود میں آئی تھی۔ اگرچہ نظریہ ارتقاء کی چند ایک اقسام پر کچھ لوگ چارلس ڈاروّن سے پہلے کسی نہ کسی صورت میں یقین رکھتے تھے لیکن حقیقت میں ارتقاء کے بارے میں قابلِ قیاس تصور اُسی نے پیش کیا جسے بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ اُس کی طرف سے پیش کردہ تصور کو "فطری چناؤ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ڈاروّن کسی دور میں اپنے آپ کو مسیحی کہا کرتا تھا پھر اُس کی زندگی میں کچھ ایسے حادثات ہوئے کہ اُس نے مسیحی ایمان کو ترک کرتے ہوئے خُدا کے وجود سے بھی انکار کر دیا۔

ڈاروّن کا مقصد خُدا کے وجود کو جھٹلانا نہیں تھا نہ ہی اُس کا نظریہ ایسا کوئی خیال پیش کرتا ہے۔ لیکن بد قسمتی سے اُس کے تصورات کو دہریت کو پھیلانے والوں نے اپنے غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے۔ آج کے دور میں جس طرح سے بہت سارے ایماندار جدید ارتقائی نظریے کے سامنے مزاحمتی رَد عمل ظاہر کرتے ہیں اُس کی بہت ساری وجوہات میں سے ایک خاص وجہ یہ ہے کہ یہ بات صرف ایک ارتقائی نظریے کے طور پر اُن کے سامنے نہیں آتی بلکہ اُن کے سامنے ایک ایسے پیکج کے طور پر آتی ہے جو دہریت (یعنی خُدا کے وجود سے انکار) کے نظریے کی قوت سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ارتقاء کے حامی سائنسدان بہرحال اِس بات کو نہیں مانتے کہ اُن کا مقصد صرف زندگی کےآغاز کے بارے میں ایک اور نظریے کو پیش کرنا نہیں بلکہ لوگوں کی زندگیوں میں دہریت کی بنیاد کو قائم کرنا بھی ہے۔ اور بائبل کے مطابق چیزوں کو دیکھتے ہوئے مسیحیوں کا ارتقاء کے نظریے کے حوالے سے مزاحمتی رَدعمل رکھنے کی ایک خاص وجہ یہی ہے۔

بائبل مُقدس ہمیں بتاتی ہے کہ "احمق نے اپنے دل میں کہا کہ کوئی خُدا نہیں" (14زبور 1 آیت؛ 53 زبور 1 آیت)۔بائبل اِس بات کا بھی اعلان کرتی ہے کہ خُدا کو اِس دُنیا اور کائنات کے خالق کے طور پر نہ ماننے کے لیے لوگوں کے پاس کچھ عذر باقی نہیں ہے۔ "کیونکہ اُس کی اندیکھی صفتیں یعنی اُس کی ازلی قدرت اور الوہیت دُنیا کی پیدایش کے وقت سے بنائی ہوئی چیزوں کے ذریعے معلوم ہو کر صاف نظر آتی ہیں یہاں تک کہ اُن کو کچھ عذر باقی نہیں" (رومیوں 1باب20 آیت)۔ بائبل مُقدس کے مطابق ہر وہ شخص جو خُدا کے وجود کا انکار کرتا ہے وہ احمق ہے۔ حماقت کے معنی محض عقلیت کی کمی نہیں ہیں۔ دیکھا جائے تو ارتقاء کے حامی سائنسدان انتہائی ذہین ہیں۔ حماقت در اصل درست علم کا صحیح جگہ پر اطلاق کرنے کی نا قابلیت ہے۔ امثال 1باب7 آیت بیان کرتی ہے کہ "خداوند کا خوف علم کا شروع ہے لیکن احمق حکمت اور تربیت کی حقارت کرتے ہیں۔"

دہریت کے وہ پیروکار جو ارتقاء کی حمایت کرتے ہیں وہ اکثر تخلیق یا با حکمت نمونے (جس کا مطلب ہے کہ تخلیق کے اندر جو نمونہ یا ڈیزائن نظر آتا ہے وہ محض کسی اتفاق کی وجہ سے نہیں بلکہ کسی قادرِ مطلق ہستی نے اپنی حکمت سے اُسے بنایا ہے)کے نظریات کا مذاق اُڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ نظریات سائنسی نہیں ہیں اِس لیے یہ اِس قابل بھی نہیں ہیں کہ اِن کا سائنسی مشاہدہ کیا جا ئے۔ وہ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ کوئی بھی چیز جسے سائنس کے زمرے میں شامل کرنا مقصود ہو اُس کا ہر طور پر فطری اصولوں کے مطابق ہی ہونا ضروری ہے۔ تخلیق اپنی تعریف کے لحاظ سے ہی فطری دُنیا کے اصولوں سے مختلف ہے۔ اب اُن کے مطابق چونکہ خُدا کی ذات کا سائنسی مشاہدہ نہیں کیا جا سکتا اِس لیے تخلیق یا با حکمت نمونے کو بھی کسی طور پر سائنسی تصور نہیں کیا جا سکتا۔

اگر بجا طور پر بات کی جائے تو جس قدر با حکمت نمونے کو سائنسی بنیادوں پر نہیں پرکھا جا سکتا بالکل اُسی قدر ارتقاء کو بھی سائنسی بنیادوں پر نہیں پرکھا جا سکتا، لیکن غیر ایماندار دہریت اور ارتقاء کے حامیوں کے نزدیک یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ پس نتیجے کے طور پر ہر طرح کا تعلیمی، تجرباتی اور مشاہداتی مواد پہلے سے سوچے ہوئے، پہلے سے فرض کئے ہوئے اور پہلے سے قبول کیے ہوئے نظریہ حیات کے فلٹر میں سے گزار ا جاتا ہے اور اُس کے مدِ مقابل کسی بھی دوسری وضاحت کو قبول نہیں کیا جاتا۔

نہ تو اِس کائنات کی ابتدا اور نہ ہی زندگی کی ابتدا کا براہِ راست سائنسی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ تخلیق اور ارتقاء دونوں نظریات کو قبول کرنے کے لیے اُنکے حامیوں کی طرف سے اِن نظریات پر ایمان رکھنے کی ضرورت ہے۔ ہم وقت میں پیچھے کو سفر کر کے اِس کائنات کی ابتدا یا پھر اِس کائنات کے اندر زندگی کی ابتدا کے مقام پر قطعی طور پرنہیں جا سکتے۔ وہ لوگ جو اکثر بڑی ہٹ دھرمی اور ٹھاٹ کے ساتھ تخلیق کے نظریے کو رَد کرتے ہیں اُن کو اپنے رویے پر منطقی انداز کے ساتھ غور کرنا پڑے تو پھر اُنہیں اُنہی منطقی بنیادوں پر تخلیق کے ساتھ ساتھ ارتقاء کو بھی رَد کرنا پڑے گا۔

اگر تخلیق کا نظریہ حقیقی ہے تو پھر ایک خالق بھی موجود ہے جس کے سامنے ہم سارے جوابدہ ہیں۔ ارتقاء کا وہ نظریہ جو خاص طور پر موجودہ دور میں پیش کیا جاتا ہے در اصل دہریت کو فروغ دینے کا ایک ذریعہ ہے۔ ارتقاء در اصل دہریت کو بیان کرنے کے لیے ایک بنیاد مہیا کرتا ہے کہ زندگی ایک خالق خُدا کے بغیر کیسے شروع ہوئی جس کا وہ ہر وقت انکار کرتے رہتے ہیں۔ حالیہ دور میں نظریہ ارتقاء کے جدید تصورات ایسے اداروں یا شعبوں کے طور پر کام کرتے ہیں جنہیں مذہبِ دہریت کی "متبادل تخلیق" کے شعبوں کے طور پر مانا جا سکتا ہے۔

بائبل بالکل واضح ہے: خُدا خالق ہے۔ ہر ایک وہ تفسیر، تشریح یا نظریہ جو اِس دُنیا یا تخلیق کی ابتدا کے معاملات میں سے خُدا کی ذات کی مداخلت کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ کلامِ مُقدس کے بالکل خلاف ہے۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
بائبل تخلیق بمقابلہ ارتقاء کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں