تخلیق مقابل نشو نما کی بابت کلام پاک کیاکہتا ہے؟



سوال: تخلیق مقابل نشو نما کی بابت کلام پاک کیاکہتا ہے؟

جواب:
تخلیق مقابل نشو نما کی بابت غور و فکر کے دوران سوال کے اس جواب کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ایک سائنس کابحث چھیڑاجائے یا پیش کیا جائے بلکہ اس لئے کہ تخلیق کے لئے یا نشو نماکے سائنس کے ثبوت کے لئے ہم پیدائش کی کتاب میں سےاور میحی انکشاف کے جوابات کی بے حد سفارش پیش کر سکیں۔ اس تصنیف کےحصہ کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ بائبل کے مطابق کیوں تخلیق مقابل نشو نما کا ثبوت یہاں تک کہ موجود ہے جہاں رومیوں 1:25 واضح طور پراعلان کرتاہے کہ "انہوں نے خداکی سچائی کو بدل کر جھوٹ بنا ڈالا، اور مخلوقات کی زیادہ پرستش اور عبادت کی بہ نسبت اس خالق کے — جوابد تک محمود ہے۔ آمین"۔

بحث میں ایک بنیادی حقیقت یہ ہے کہ اکثر سائنسدان جو نشو نمامیں یقین کرتے ہیں وہ کافر یا لا ادری بھی ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ہیں جو خدا کے قدرتی نشو نمااور دیگر باتوں کو اس بطور لیتے ہیں جن کا نظریہ ہوتاہےکہ (خدا موجود تو ہے مگر وہ دنیا کے کسی کام کاج میں شامل نہیں ہوتا اور ہر ایک چیز خود سے قدرتی طریق کے ساتھ آگے بڑھناہے)۔ کچھ سائنسدان جو سچ مچ میں اور ایمانداری سے اکائی پر غور کرتے اور اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ نشو نمااکائی کے ساتھ بہتر طریقہ سے موزوں ہے۔ کسی طرح یہ اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ سائنسدانوں کی ایک چھوٹی سی فیصدی ہے جو نشو نماکی وکالت کرتےہیں۔ نشو نما پراعتقاد کرنے والے (ارتقائی) سائنسدانوں کی ایک بہت بڑی جماعت اس بات سے اتفاق رکھتے ہیں کہ زندگی کسی اعلی ہستی کی مداخلت کےبغیر پوری طوح سے نشو نما حاصل کرتاجاتا ہے۔ نشو نما کا اجاگر ہونا ایک فطرت پسندی کی سائنس ہے۔

دہریت کے سچ ثابت ہونے کے لئے ایک خالق کےعلاوہ کسی اور کو باری باری سےایک چیز کو دوسری چیز سے بدلنے کی وضاحت پیش کرتےہیں کہ کس طرح کائنات اور زندگی وجود میں آئے۔ حالانکہ نشو نما کی کچھ صورتوں یا شکلوں کی بابت چارلس ڈارون نے پہلے ہی سے بتلا رکھا ہے۔ وہ نشو نما کے طریق عمل کے قدرتی چناؤ کے لئے ایک قابل اعتماد نمونہ کو بڑھانے والوں میں سے پہلا شخص تھا۔ ڈارون نے ایک بار خود کو ایک مسیحی ہونے بطور اپنی پہچان کرائی تھی جس کے نتیجہ بطور اس کی زندگی میں کچھ شدید حادثات پیش آئے تھے پھر بعد میں اس نے مسیحی ایمان کااظہارکرتے ہوئے خداکے وجود کااعلان کیا۔ یعنی کہ نشو نما کی تحقیقات ایک ملحد کے ذریعہ سے ہوئی۔ ڈارون کا نشانہ خدا کے وجود کو غلط ثابت کرنا نہیں تھا مگر یہ اس کے نشو نما کی تحقیقات کی تحریروں کےآخری نتائج میں سے ایک تھا۔ نشو نما دھریت کو ایک قابل شئے قرار دیتاہے۔ نشو نماکے سائنسدان غالبا یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں گے کہ ان کا نشانہ زندگی کے اصل کے لئے ایک باری وار وضاحت پیش کرے اور دہریت کے لئے ایک بنیاد پیش کرے۔ مگر کلام پاک کے مطابق سچ مچ میں کیوں نشو نما کا نظریہ وجود رکھتاہے۔

کلام پاک ہم سے کہتا ہے کہ "احمق نے اپنے دل میں کہا، کوئي خدا نہیں" (زبور 53:1؛ 14:1)۔ کلام پاک یہ بھی دعوی کرتا ہے کہ ایک خالق خدا پرایمان نہ لانے کے لئے لوگوں کے پاس کوئی بہانہ نہیں ہے۔ "کیونکہ خدا کی ان دیکھی صفتیں یعنی اس کی ازلی قدرت اور الوہیت دنیا کی پیدائش کے وقت سے بنائی ہوئي چیزوں کے ذریعہ سے معلوم ہو کر صاف نظر آتی ہیں۔ یہاں تک کہ ان کو کچھ عذر باقی نہیں" (رومیوں 1:20)۔ کلام پاک کے مطابق جو کوئی خدا کے وجود کاانکار کرتاہے وہ بیوقوف ہے تو پھر کیوں بہت سے لوگ یہاں تک کہ کچھ مسیحی لوگ بھی اس میں شامل ہیں جویہ قبول کرنے کے لئےتیار نہیں کہ نشو نماکے سائنسدان غیر تعصب سائنس کی اگائی کے مترجم ہیں۔ کلام پاک کے مطابق سب کے سب بیوقوف ہیں! بیوقوفی عقل و فہم کی ایک کمی کی دلالت نہیں کرتا کیونکہ بہت سے نشو نماکے سائنسدان ذہنی طور سے بہت ہوشیار ہوتے ہیں۔بیوقوفی مناسب طور سے نافذ کئے ہوئے علم کی ایک ناقابلیت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ امثال 1:7 ہم سے کہتاہے کہ "خداوند کا خوف علم کا شروع ہے لیکن احمق حکمت اور تربیت کی حقارت کرتے ہیں۔"

نشو نما کے سائنسدان تخلیق کا ٹھٹھا اڑاتےیا فہم رکھنے والے غیر مطابق سائنس بطور نظریہ رکھتے اور سائنس کے امتحان کے ناقابل ہوتے ہیں۔کسی چیزکا قیاس کرنے کےلئے "سائنس" ثبوت پیش کرتااور کہتا ہےکہ اس پر عمل کرنااور آزمایا جانا ضروری ہے۔اس کو "فطرت سے متعلق" ہونا چاہئے۔ تخلیق نمایا طور سے "فوق الفطرت" ہے۔ خدا اور فوق الفطرت کا نہ مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور نہ آزمایا جا سکتاہے۔ (اس طرح بحث جاری رہتی ہے) لہذا تخلیق یا فہم کی بناوٹ سائنس بطور سو چا نہیں جا سکتا۔ جی ہاں۔ تخلیق کی طرح ہی نشو نماکا بھی نہ مشاہدہ کیا جا سکتایا اسے آزمایا جا سکتاہے۔ مگر ایک ایسا معاملہ نظر نہیں آتا جو نشو نما پر یقین کرنے والوں کے ساتھ ہو۔ نتیجہ بطور تمام اکائی کوپہلے سے بغیر باری وار وضاحت کے غور طلب کرتے ہوئے پہلے سے سوچے جانے، پیش قیاس کرنے اور نشو نماکے اصولی مسئلہ کو قبول کئے جانے کے ذریعہ صاف کیا گیا ہے اور اسے بغیر کسی باری وار وضاحت کے لحاظ کیا گیا ہے۔

کسی طرح کائنات اور زندگی کے منبع کونہ آزمایا جاسکتاہے اور نہ مشاہدہ کیا جا سکتاہے۔ تخلیق اور نشو نما اصل کے لحاظ سے ایمان کی بنیاد کے اصول ہیں۔ اس لئے جیسے پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ اس کو آزمایا نہیں جا سکتا۔ کیونکہ کائنات کی اصل کا مشاہدہ کرنے اور اس میں زندگی کے پائے جانے کی حقیقت کی جانچ کے لئےہم کو لاکھوں (ہزاروں) سال پیچھے جانا ہوگا۔ نشو نماکے سائنسدان اس بنا پر نشو نما کا انکار کرتےہیں کہ اصولی طور سے انہیں مجبور کیا جا تا ہے۔ یہ بھی کہ نشو نماکا انکار مطابق سائنس کے ایک منبع کی وضاحت بطور ہے۔ منبع کے لحاظ سے نشو نما تخلیق سے زیادہ سائنس کی وضاحت کے لئے موزوں نہیں ہے۔ نشو نما مفروضہ طور سے منبع کے لئے وضاحت ہے جسے آزمایا جا سکتاہے۔ لہذا یہ صرف منبع کا اصولی مسئلہ ہے جو "مطابق سائنس بطور لحاظ کیا جا سکتاہے۔ سائنسدان جو نشو نما کی وکالت کرتے اس کی قابلیت کی ایمانداری سے جانچ کئے بغیر ہی بظاہر قابل اعتماد منبع کے اصولی مسئلہ کا انکار کرتے ہیں کیونکہ یہ "سائنس" کے غیر معقول محدود وضاحت کے موزوں نہیں ہے۔

اگر تخلیق سچ ہے تو ایک خالق ہے جس کے ہم سب ضامن ہیں۔ نشو نما دہریت کے لئے ایک قابل بنانے والا ہے۔ نشو نما ملحدوں کے لئے ایک بنیاد پیش کرتا ہے یہ سمجھانے کے لئے کہ خدائے خالق سے ہٹ کر کس طرح دیگر زندگیوں کا وجود ممکن ہے۔ نشو نماایک خدائے خالق کی ضرورت کا جو کائنات میں شامل ہے اس کاانکار کرتاہے۔ نشو نما دھریت کے مذہب کے لئے "تخلیق کا اصولی مسئلہ" ہے۔ بائبل کے مطابق، چناؤ بالکل صاف ہے کہ یا تو ہم اپنے قادر مطلق اور عالم کل خدا اور اسکے کلام پر اعتقاد رکھ سکتے ہیں یاپھر ہم غیر معقول "مطابق سائنس کی بنا پر پائے جانے والے بیوقوفوں کی تحریری وضاحت پر یقین کر سکتے ہیں۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



تخلیق مقابل نشو نما کی بابت کلام پاک کیاکہتا ہے؟