settings icon
share icon
سوال

کیا یسوع گناہ کر سکتا تھا؟اگر اُس کے لیے گناہ میں پڑنا نا ممکن تھا تو پھروہ کمزوریوں میں ہمارا ہمدرد کیسے ہو سکتا ہے(عبرانیوں 4باب15 آیت) ، اگر وہ گناہ نہیں کر سکتا تھا تو پھر اُسکا آزمائش میں پڑنے کا مقصد کیا تھا؟

جواب


اِس دلچسپ سوال کے دو پہلو ہیں اور اِس کے بارے میں دو نظریات ہیں ۔ اِس بات کو یاد رکھنا بہت ضروری ہے کہ سوال یہ نہیں ہے کہ "کیا یسوع نے گناہ کیا تھا"۔جیسا کہ دونوں نظریات اِس بات پر متفق ہیں اور بائبل بھی اِس بارے میں واضح طور پر کہتی ہے کہ یسوع نےکبھی کوئی گناہ نہیں کیا تھا ( 2کرنتھیوں 5باب 21آیت ؛ 1پطرس 2باب 22آیت)۔ اصل سوال یہ ہے کہ "کیا یسوع گناہ کر سکتا تھا؟"گناہ کرنے کی عدم صلاحیت (impeccability) کے حامی اِس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ یسوع گناہ نہیں کر سکتا تھا ۔اِس کے برعکس انسان کے اندر گناہ کرنے کی صلاحیت (peccability) کے حامی اِس نظریے پر یقین رکھتے ہیں کہ یسوع گناہ کر سکتا تھامگر اُس نے گناہ نہیں کیا ۔ ابھی اِن دونوں میں سے کون سا نظریہ درست ہے ؟ کلامِ مقدس کی تعلیم پوری طرح واضح ہے کہ یسوع کامل تھا – وہ گناہ نہیں کر سکتا تھا ۔ اگر وہ اُس وقت گناہ کر سکتا تھا تو یقیناً وہ آج بھی گناہ کرنے کے قابل ہوگا کیونکہ اب بھی اُس کی ذات میں وہی جوہر ہے جو زمین پر رہتے ہوئے اُن میں موجود تھا ۔ وہ مجسم خدا ہے اور ہمیشہ اِیسے ہی رہے گا ۔کیونکہ وہ کامل خدا اورکامل انسان کی صورت میں ایک ایسی شخصیت بنا ہے جو ناقابلِ تقسیم ہے ۔ یہ یقین رکھنا کہ یسوع گناہ کر سکتا تھا اصل میں اِس بات کو ماننا ہے کہ خدا گناہ کر سکتا تھا ۔ " کیونکہ باپ کو پسند آیا کہ ساری معموری اُسی میں سکونت کرے" (کلسیوں 1باب 19آیت) مزید کلسیوں 2باب 9آیت میں لکھا ہے کہ"کیونکہ الوہیت کی ساری معموری اُسی میں سکونت کرتی ہے "۔

گوکہ یسوع کامل انسان تھا مگر وہ اُس گناہ آلود فطرت کے ساتھ پیدا نہیں ہوا تھا جس کے ساتھ ہم پیدا ہوتے ہیں ۔یقیناً وہ ہماری طرح آزمایا گیا اور وہ آزمائشیں شیطان کی طرف سے آئی تھیں مگر وہ گناہ سے پاک رہا کیوں خدا گناہ کرنے سے قاصر ہے ۔ گناہ کرنا اُس کی فطرت کے بالکل خلاف ہے(متی 4باب 1آیت؛ عبرانیوں 2باب 18آیت؛ 4باب 15آیت؛ یعقوب 1باب 13آیت)۔ تعریف کے لحاظ سے گناہ سے مراد شریعت کی خلاف ورزی کرنا ہے ۔ شریعت خدا نے بنائی ہے اور شریعت بنیادی طور پر یہی بتاتی ہے کہ خدا کیا کرے گا یا کیا نہیں کرےگا ؛ اِس لیے گناہ ایسی چیز ہے جو خدا اپنی فطرت کے لحاظ سے نہیں کرے گا۔

آزمایا جانا بذاتِ خود گناہ نہیں ہے ۔ کوئی شخص آپ کو ایسی باتوں یا کاموں کے ذریعے آزما سکتا ہےجنہیں کرنے کی آپ کی خواہش نہ ہو جیسا کہ خون کرنا یا جنسی گمراہی میں ملوث ہونا۔ ممکن ہے کہ آپ کسی بھی وجہ سے ایسے کاموں میں حصہ لینے کی خواہش نہ رکھتے ہوں مگر پھر بھی آپ آزمائے جاتے ہیں کیونکہ کسی شخص نے آپ کو ایسا کرنے کی ممکنہ طور پر پیشکش کی ہے ۔ لفظ " آزمایش" کےلیے کم از کم دو تعریفیں پیش کی جا سکتی ہیں :

‌أ. کسی دوسرے شخص یا آپ کی ذات سے باہر کسی چیز کی طرف سے یا آپ کی اپنی گناہ آلود فطرت کی طرف سے آپ کو گناہ کی پیشکش ہونا۔

‌ب. حقیقی طور پر گناہ آلودہ فعل میں ملوث ہونا، ممکنہ لطف اندوزی اور ایسے کسی فعل کی ممکنہ خوشی اور نتائج کے بارے میں اِس حد تک سوچ بچار کرنا کہ وہ فعل آپ کے ذہن میں پہلے ہی سے ہونا شروع ہو جائے۔

پہلی تعریف گناہ آلودہ فعل یا سوچ کا ذکر نہیں کرتی ؛ مگر دوسری تعریف گناہ آلودہ فعل یا سوچ کا ذکر کرتی ہے ۔ جب آپ گناہ آلودہ فعل کے خیالوں میں کھو جاتے ہیں اور اس کے بارے میں غور کرتے ہیں کہ اِس کو عملی شکل کیسے دی جائے تو اس صورت میں آپ گناہ کی حد عبور کر چکے ہوتے ہیں ۔ یسوع کو آزمائش کی پہلی تعریف کے مطابق آزمایا گیا۔ یسوع کو کبھی گناہ آلودہ فطرت کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا کیونکہ ایسی فطرت اُس میں نہیں تھی۔ شیطان نے یسوع کے سامنے کئی گناہ آلودہ افعال رکھے اور اُن میں ملوث ہونے کی اُسے پیشکش کی مگر وہ اندرونی طور پر اُن اعمال میں ملوث ہونے کو تیار نہیں تھا۔ لہذا جیسے ہم آزمائے جاتے ہیں وہ بھی آزمایا گیا مگر پھر بھی بے گناہ رہا ۔

ایسے لوگ جو کاملیت /گناہ کی عدم صلاحیت (impeccability)کے نظریے کے حامی ہیں وہ مانتے ہیں اگر یسوع گناہ نہیں کرسکتا تھا تو وہ حقیقی طور پر آزمایش کا تجربہ بھی نہیں کر سکتا تھا اور اِس لیےوہ گناہ کے خلاف ہماری کوششوں اور آزمایشوں میں ہمارا سچا ہمدرد نہیں ہو سکتا۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ کسی شخص کے لیے کسی بات کو سمجھنے کے لیے اُس کا تجربہ حاصل کرنا ضروری نہیں ہوتا ۔ خدا ہر چیز کے بارے میں ہر بات جانتا ہے ۔ اگرچہ خدا نے گناہ کی کبھی خواہش نہیں کی اور یقیناً کبھی گناہ بھی نہیں کیا مگر اس کے باوجود وہ جانتا اور سمجھتا ہے کہ گناہ کیا ہے ۔ خدا جانتا اور سمجھتا ہے کہ آزمایا جاناکیسا ہوتا ہے ۔کیونکہ یسوع سب کچھ جانتا ہے اس لیے وہ ہماری آزمایشوں میں ہمارا سچا ہمدرد بن سکتا ہے اور اِس کے لیے ضروری نہیں کہ اُس نے ہماری طرح اُن گناہوں کا تجربہ کیا ہو۔

یسوع جانتا ہے کہ آزمایش میں مبتلا ہونے کی کیفیت کیا ہوتی ہے مگر وہ یہ نہیں جانتا ہے کہ گناہ کرنا کیا ہوتا ہے ۔ یہ بات یسوع کو ہمارا مدد گارر بننے سے روکتی نہیں ۔ ہم اُن گناہوں کے ذریعےسے آزمائے جاتے ہیں جو انسانوں میں عام ہیں ( 1کرنتھیوں 10باب 13آیت)۔ اِن گناہوں کو عام طور تین اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے "جسم کی خواہش، آنکھوں کی خواہش اور زندگی کی شیخی " ( 1یوحنا 2باب 16آیت)۔ یسوع کی آزمایش اور اِس کے ساتھ حوّا کی آزمایش اور گناہ کی جانچ پڑتال کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ان دونوں کی آزمایش کا تعلق اِن تین اقسام سے ہی ہے ۔ ہماری طرح یسوع ہر بات میں اور ہر لحاظ سے آز مایا گیا مگر پھر بھی وہ مکمل طور پر پاک رہا۔ اگرچہ ہماری گناہ آلودہ فطرت اندرونی طور پر کئی گناہوں میں ملوث ہونے کی خواہش کرتی ہیں مگر یسوع کے وسیلہ سے ہم گناہ پر غالب آنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ ہم آگے کو گناہ کے غلام نہیں بلکہ خدا کے غلام ہیں ( رومیوں 6باب خصوصی طور پر 2 اور 16-22آیات)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا یسوع گناہ کر سکتا تھا؟اگر اُس کے لیے گناہ میں پڑنا نا ممکن تھا تو پھروہ کمزوریوں میں ہمارا ہمدرد کیسے ہو سکتا ہے(عبرانیوں 4باب15 آیت) ، اگر وہ گناہ نہیں کر سکتا تھا تو پھر اُسکا آزمائش میں پڑنے کا مقصد کیا تھا؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries