ایک مسیحی کے پلاسٹِک/کاسمیٹِک سرجری کروانے کے بارے میں بائبل کیا فرماتی ہے؟


سوال: ایک مسیحی کے پلاسٹِک/کاسمیٹِک سرجری کروانے کے بارے میں بائبل کیا فرماتی ہے؟

جواب:
بائبل خاص طور پر کسی مسیحی کے پلاسٹِک سرجری یا کاسمیٹِک سرجری کروانے کے بارے میں بات نہیں کرتی۔ بائبل میں ایسا کچھ نہیں ہے جس سے ظاہر ہو کہ پلاسٹک سرجری خود میں یا خود سے غلط ہے۔ تاہم، ایسی کئی باتیں ہیں جنہیں کسی شخص کو ایسی کاروئی کرنے یا نہ کرنے کے فیصلے سے پہلے سمجھنا چاہیے۔ کسی کے جسم کو تبدیل کرنا غیر فطری ہے، اور جسمانی اور نفسیاتی دونوں کے درمیان مخفی نقصانات کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ کسی شخص کو بھی اپنے آپ کو "چُھری کے نیچے" نہیں رکھنا چاہیے جب تک کہ وہ پہلے تمام متبادل خطرات اور سرجری سے جُڑے نقصانات کی تحقیق نہ کر لے۔ ایک شخص کو سرجری کی خواہش کے لئے اپنے مقاصد کو بھی مکمل طور پر پہچاننے کی ضرورت ہے۔ جسمانی خرابیوں کے ساتھ بہت سے لوگوں کے لئے ، توالدی یا حاصل کردہ ، معاشرے میں فِٹ ہونے اور "نارمل" محسوس ہونے کی خواہش رکھنا قدرتی ہے۔ تھوڑے سے غیر معمولی امراض کے معاملات بھی ہیں جیسا کہ بہت بڑی یا مصیبت زدہ ناک ،جن کی وجہ سے کوئی بھی اپنےبارے میں غیر آرام دہ محسوس کر سکتا ہے۔ لیکن بہت سی پلاسٹک سرجریاں جسمانی طریقوں سے جذباتی خلا کو پُر کرنے، کسی کو اپنی طرف متوجہ کرنے، یا دوسروں سے تعریف حاصل کرنے کی کوششیں ہیں۔

عام طور پر سب سے زیادہ کام کرنے والے کاسمیٹک کے طریقہ کاروں میں چھاتی کو بڑھانا/اُوپر اُٹھانا، لِپو سکشن (جسم کی چربی کو ختم کرنا)، چہرہ سنواری کرنا، پپوٹا انگیزی کرنا(آئی لِڈ لفٹ)، سرین یا جسم کے دوسرے حصوں کو سنوارنا، ٹانگ کی رگ کا علاج کرنا ، بوٹاکس/چربی انجکشن لگوانا ، اور ناک اور چہرے کو نئی شکل دینا شامل ہیں۔ ہر سال تقریباً بیس لاکھ لوگ پیسہ خرچ کرتے، وقت اور آرام کو قربان کرتے ہوئے اِس قسم کے طریقہ کار اپناتے ہیں۔ جب ایک شخص باطل مقاصد کے وجہ سے سرجری کرواتا ہے، تو وہ خود اپنا بُت بن جاتا ہے۔ بائبل ہمیں شیخی باز اور خود پسند نہ ہونے (فلپیوں دوسرا باب آیات 3 تا 4) اور دوسروں کی توجہ اپنی طرف نہ کھینچنے کا حکم دیتی ہے (پہلا تھِمُتھیُس دوسرا باب آیت 9)۔ کوئی اور غرض مہنگی ثابت ہو گی۔ یہ سب سے بڑی سمجھ داری ہے کیونکہ بہت سے لوگوں کے گھرانےہوتے ہیں، اورپلاسٹک سرجری کو گھرانے کی ضرورتوں پر ترجیح نہیں ہونی چاہیے۔ بائبل یہ بھی بتاتی ہے کہ ہمیں روپے پیسے کو عقلمندی سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے جو خُدا نے ہمیں عطا کی ہے (امثال باب 11 آیات 24تا 25؛ لوقا باب 16 آیات 10 تا 12)۔

پلاسٹک کی سرجری کے عمل سے گزرنے سے پہلے سب سے اہم کام اِس مسلے کے بارے میں خُدا سے مشورہ کرنا ہو گا۔ بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ خُدا ہماری ہر تشویش اور ہمارے ہر معاملے میں ہماری فکر کرتا ہے، لہذہ ہمیں اپنی فکریں اُسے دے دینی چاہیے (پہلا پطرس باب 5 آیت 7)۔ روح القدس اور خُدا کے کلام کی حکمت اور رہنمائی کے وسیلہ سے ہمارے پاس ایسے فیصلے کرنے کی قابلیت ہے جو خُدا کو خوش کریں گے اور اُسے جلال دیں گے۔ "حُسن دھوکا اور جمال بے ثبات ہے لیکن وہ عورت جو خُداوند سے ڈرتی ہے ستُودہ ہو گی" (امثال باب 31 آیت 30)۔ یہاں تک کہ سب سے زیادہ ماہر سرجن بھی وقت کو پیچھے نہیں لا سکتے، اور تمام کاسمیٹک سرجریوں کا عمر کے ساتھ آخر کار ایک ہی نتیجہ ہو گا۔ جسم کے جن حصوں کواُٹھایا جاتا ہے وہ دوبارہ جھُک جاتے ہیں، اور جن کو چہرے کی خصوصیات میں زیبائشی طور پر تبدیل کیا جاتا ہے اُن میں بالآخر جُھریاں پڑ جاتی ہیں۔ سب سے زیادہ بہتر کام انسان کو اندرونی طور پر خوبصورت بننا ہے، "بلکہ تمہاری باطنی اور پوشیدہ انسانیت حلم اور مزاج کی غُربت کی غیر فانی آرائش سے آراستہ رہے کیونکہ خُدا کے نزدیک اِس کی بڑی قدر ہے" (پہلا پطرس باب 3 آیت 4)۔

English
اردو ہوم پیج میں واپسی
ایک مسیحی کے پلاسٹِک/کاسمیٹِک سرجری کروانے کے بارے میں بائبل کیا فرماتی ہے؟