settings icon
share icon
سوال

کیا بائبل بگاڑ کا شکار، تحریف شُدہ، تدوین شُدہ ، نظر ثانی شُدہ یا جعل سازی کا شکار ہو چکی ہے؟

جواب


عہدِ عتیق کی کتابیں تقریباً 1400ق م سے 400ق م کے درمیانی عرصے میں لکھی گئیں۔ عہدِ جدید کی کتابیں تقریباً 40بعد از مسیح سے 90بعد از مسیح کے درمیانی عرصے میں لکھی گئیں۔ لہذابائبل کی کتابوں کو لکھے گئے تقریباً 3400سے 1900سالوں تک کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اِس عرصے کے دوران اصل نسخہ جات گم ہو چکے ہیں۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ وہ اب موجود نہیں ہیں۔ اور اِس عرصے کے دورا ن بائبل کی کتابوں کی بار بار نقول تیار ہوئیں۔ پھر نقول سے نقول تیار کی گئیں۔ اِس تناظر میں، کیا ہم اب بھی بائبل پر اعتماد کر سکتے ہیں؟

کلامِ مُقدس کیونکہ خُدا کے الہام سے ہم تک پہنچا ، یہ خُدا کے منہ سے نکلا ہے اِس لیے یہ لا خطا اور خطا نا پذیر ہے (2 تیمتھیس 3 باب 16-17 آیات؛ یوحنا 17 باب 17 آیت)

ابھی خطا نا پذیری کے اصول کا اطلاق اصل متن پر تو ہوتا ہے لیکن نقول پر نہیں ہوتا۔ اگرچہ فقیہہ اور کاتب بائبل کی نقول تیار کرنے میں بہت زیادہ محتاط تھے، لیکن کامل کوئی بھی نہیں ہے۔ پس وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صحائف کی نقول میں معمولی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں۔ اِن معمولی تبدیلیوں میں سب سے زیادہ تعداد الفاظ کے ہجوں کی ہیں (جیسے کہ امریکی ہمسائے کے لیے neighbor لکھتے ہیں جبکہ برطانوی neighbour لکھتے ہیں)، یا پھر دو مرکبی الفاظ کو آگے پیچھے لکھا گیا ہے (جیسے کہ کچھ مسودات میں "یسوع مسیح" لکھا ہوا ہے اور کچھ میں "مسیح یسوع")۔ اور بعض مسودات میں کاتب کہیں پر غلطی سے کوئی لفظ لکھنابھول گئے ہیں۔ مختصراً 99 فیصد سے زیادہ بائبل کے مسودات کے متن پر کوئی سوال نہیں اُٹھایا جاتا۔ 1 فیصد سے بھی کم متن پر مختلف طرح کے سوالات کئے جاتے ہیں، اور اِس 1 فیصد میں جو لکھائی کی معمولی کمزوریاں رہ گئی ہیں اُن کی وجہ سے نہ تو کسی طرح کی عقائدی تعلیم کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے اور نہ ہی اِسکاخُدا کے کسی حکم پر اثر پڑتا ہے یا اُس کی غلط سمجھ آتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہمارے پاس کلامِ مُقدس کی جو نقول ہیں وہ خالص اور پاک ہیں۔ بائبل مُقدس نہ تو کسی بگاڑ کا شکار ہوئی ہے، نہ یہ تحریف شدہ، تدوین شُدہ ، نظر ثانی شُدہ یا جعل سازی شُدہ ہے۔

کوئی بھی غیر جانبدار دستاویزی عالم اِس بات سے متفق ہو گا کہ بائبل حیرت انگیز طور پر صدیوں سے محفوظ ہے۔14ویں صدی بعد از مسیح کی نقول تیسری صدی کی نقول جیسی ہیں۔ جب بحیرہ مُردار کے طومار دریافت ہوئے، تو مفسرین یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہ پرانے عہد نامہ کے دیگر قدیم ترین نسخوں کی طرح تھے،اور پہلے سے دریافت کردہ کسی بھی چیز کے مقابلے میں بحیرہ مردار کے طومار سینکڑوں سال پرانے تھے۔ یہاں تک کہ بائبل کے حوالے سے بہت بڑے تشکیک پرست اور ناقدین بھی اِس بات کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے کہ بائبل صدیوں سے کسی بھی دوسری قدیم دستاویزات سے کہیں زیادہ درُست طریقے سے منتقل کی گئی ہے۔

ایساقطعی طور پر کوئی ثبوت نہیں ہے کہ بائبل میں نظر ثانی ، ترمیم ، یا جعل سازی کی گئی ہے۔ بائبل کے نسخوں کا حجم خُدا کے کلام کو بگاڑنے والی کسی بھی کوشش کو پہچاننے میں آسانی فراہم کرتا ہے۔مسودات میں نقول کو تیار کرنے کے دوران جو 1 فیصد الفاظ میں معمولی تبدیلی ہے وہ قطعی طور پر بائبل کی کسی بھی عقائدی تعلیم کے بارے میں کوئی شک پیدا نہیں کرتے اور ہمیں بائبل کی نقول کے قدیم نسخوں اور موجودہ نسخوں میں تعلیمی لحاظ سے کہیں پر کوئی اختلاف نظر نہیں آتا۔

دوبارہ اُسی سوال پر آتے ہیں۔ کیا ہم بائبل پر اعتماد کر سکتے ہیں؟ بالکل کر سکتے ہیں! خُدا نے غیر ارادی ناکامیوں اور انسان کی جانب سے دانستہ حملوں کے باوجود اپنے کلام کو محفوظ رکھا ہے۔ ہم نہایت یقین سے کہتے ہیں کہ جو بائبل آج ہمارے پاس ہے یہ وہی بائبل ہے جو اصل میں لکھی گئی تھی۔ بائبل خُدا کا کلام ہے، اور ہم اِس پر بھروسہ کر سکتے ہیں (2 تیمتھیس 3 باب 16 آیت؛ متی 5 باب 18 آیت)

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا بائبل بگاڑ کا شکار، تحریف شُدہ، تدوین شُدہ ، نظر ثانی شُدہ یا جعل سازی کا شکار ہو چکی ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries