تمام مختلف مذاہب میں سے میں کیسے جان سکتا ہوں کہ کونسا مذہب درُست ہے؟


سوال: تمام مختلف مذاہب میں سے میں کیسے جان سکتا ہوں کہ کونسا مذہب درُست ہے؟

جواب:
کوئی شک نہیں ہے کہ دُنیا میں مختلف مذاہب کی تعداد یہ جاننا مشکل بنادیتی ہے کہ کونسا مذہب درُست ہے۔ سب سے پہلے، آئیے مجموعی طور پر کچھ خیالات پر غور کرتے ہیں، اور پھر نظر ڈالتے ہیں کہ کوئی شخص کِس طرح سے اور کِس انداز میں موضوع تک رسائی حاصل کر سکتا ہے جِس سے حقیقت میں خُدا کے بارے میں درُست نتیجہ اخذ ہو سکے۔ ایک مخصوص مسلہ کے مختلف جوابات کا چیلنج مذہب کے موضوع کے لئے منفرد نہیں ہے۔ مثال کے طور پر، آپ ریاضی کے 100 طالب علموں کو بٹھائیں، اُن کو حل کرنے کے لئے ایک پچیدہ مسلہ دیں، اور یہ ممکن ہے کہ بہت سے طالب علم غلط جواب دیں۔ لیکن کیا اِس کا یہ مطلب ہے کہ درُست جواب موجود نہیں ہے؟ بالکل نہیں۔ جو غلط جواب دیتے ہیں، صرف اُن کی غلطی کو ظاہر کرنے ، اور درُست جواب تک پہنچے کے لئے ضروری تکنیکوں کو جاننے کی ضرورت ہے۔

ہم خُدا کے بارے میں سچائی تک کیسے پہنچتے ہیں؟ ہم ایک منظم طریقہ کار (سِسٹیمیٹیکل میتھوڈولوجی) کا استعمال کرتے ہیں جِسےدرُست نتائج کے ایک مجموعہ کے طور پر حتمی نتیجہ کے ساتھ سچائی کے لئے متعدد آزمائشوں کو استعمال کرتے ہوئے سچائی کو جھوٹ سے جُدا کرنے کے لئےتیار کیا گیا ہے۔ کیا آپ حتمی نتائج کا تصور کر سکتے ہیں جن پر ایک سائنسدان پہنچے گا اگر وہ لیبارٹری میں جاتا ہے اور کیمیکلز کو بغیر وجہ یا ترتیب کے ایک ساتھ ملانا شروع کرتا ہے؟ یا اگر ایک طبیب ایک مریض کو اچھا کرنے کی اُمید میں بے ترتیب ادویات کے ساتھ اُس کا علاج کرنا شروع کر دیتا ہے؟ سائنسدان اور نہ ہی طبیب ایسا کرتے ہیں، بلکہ وہ ایک منظم طریقہ کار استعمال کرتے ہیں جو باضابطہ، منطقی ، مشہودہ، اور درُست حتمی نتائج حاصل کرنے کے لئے ثابت کئے گئے ہوں۔

ایسا معاملہ ہے، تو ہم کیوں سوچتے ہیں کہ تھیالوجی (ذاتِ خُدا کا مطالعہ) کو مختلف ہونا چاہیے؟ کیوں سمجھتے ہیں کہ بے ترتیب اور غیر منضبط طریقہ سے اِس تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے اور پھر بھی درُست نتائج پیدا ہو سکتے ہیں؟ بدقسمتی سے، یہ ایسی رسائی ہے جو بہت سے لوگ حاصل کرتے ہیں، اور بہت سے مذاہب ہونے کی وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے۔ یہ کہتے ہوئے، اب ہم دوبارہ اپنے سوال پر آتے ہیں کہ خُدا کے بارے میں حقیقت پر مبنی نتائج تک کیسے پہنچا جا سکتا ہے۔کونسا منظم نقطہ نظر استعمال کیا جانا چاہیے؟ سب سے پہلے، ہمیں سچائی کے مختلف دعوؤں کی جانچ کرنے کے لئے ایک ڈھانچہ (فریم ورک) قائم کرنا ہو گا، اور پھر ہمیں درُست نتیجہ حاصل کرنے کے لئے ایک سڑک کے نقشہ (روڈ میپ) کی پیروی کرنے کی ضرورت ہے۔ استعمال کرنے کے لئے ایک اچھا ڈھانچہ (فریم ورک) مندرجہ ذیل ہے۔

1۔ منطقی یکسانیت

عقائد کے نظام کے دعوؤں کو منطقی طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہونا چاہیے اور کسی بھی طور پر ایک دوسرے سے مختلف نہیں ہونا چاہیے۔ مثال کے طور پر، بُدھ مت کا حتمی مقصد تمام خواہشات سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے۔ اِس کے باوجود، کسی کو اپنی تمام خواہشات سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے خواہش کرنا لازم ہے، جو کہ ایک متنازعہ اور غیر منطقی اصول ہے۔

2۔ تجرباتی حمایت

کیا عقائد کے نظام کی حمایت کرنے کا کوئی ثبوت ہے(چاہے ثبوت منطقی، بیرونی طور پر مشہودہ ہو، وغیرہ)؟ قدرتی طور پر، یہ صرف اہم دعوؤں کے ثبوت حاصل کرنے کی خواہش کرنے کے لئے درُست ہے تاکہ اِس کا دعوی ثابت ہو سکے۔ مثال کے طور پر، مورمنز سکھاتے ہیں کہ یسوع شمالی امریکہ میں رہتا تھا۔ اِس کے باوجود ایسے دعوئے کی حمایت کے لئے آثارِ قدیمہ کا یا کوئی اور ثبوت نہیں ہے۔

3۔ وجود میں مطابقت (اگزِشٹینشل ریلیونسی)

عقائد کے نظام کی تصدیق ہونا ضروری ہے جیسا کہ ہم جانتے ہیں، اور ضرور ہے کہ یہ پیروکار کی زندگی میں ایک پُر معنی فرق پیدا کرے۔ مثال کے طور پر، وحدانیت (ڈی ازم) دعویٰ کرتی ہے کہ خُدا نے دُنیا کو صرف کائنات میں پھینک دیا اور اُن لوگوں کے ساتھ کوئی سروکار نہیں رکھتا جو اُس پر رہتے ہیں۔ اِس طرح کا عقیدہ کِس طرح کسی کے روز مرہ انداز میں اثر انداز ہو تا ہے؟ مختصراً ، یہ نہیں ہوتا۔

مندرجہ بالا ڈھانچے (فریم ورک) کا اطلاق جب مذہب کے موضوع پر کیا جاتا ہے، تو اِس سے خُدا کے بارے میں درُست نظریہ اور زندگی کے چار بڑے سوالات کا جواب دینے میں رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔

1۔ ابتدا ہم کہاں سے آئے ہیں؟

2۔ اخلاقیات ہمیں زندگی کیسے گزارنی چاہیے؟

3۔ منشا زندگی کا کیا مقصد ہے؟

4۔ منزل انسان کہاں جا رہا ہے؟

لیکن کوئی شخص خُدا کے حصول کے لئے اِس ڈھانچے (فریم ورک) کا اطلاق کیسے کر سکتا ہے؟ درجہ بہ درجہ سوالوں/ جوابوں کے قریب پہنچنا، کام کرنے کی بہترین حکمت عملیوں میں سے ایک ہے۔ ممکنہ سوالوں کی فہرست کو کم کرنے سے مندرجہ ذیل فہرست مرتب ہوتی ہے۔

1۔ کیا کامل سچائی کا کوئی وجود ہے؟

2۔ کیا سبب/منطق اور مذہب ایک ہو سکتے ہیں؟

3۔ کیا خُدا ہے؟

4۔ کیا خُدا کو جانا جا سکتا ہے؟

5۔ کیا یسوع خُدا ہے؟

6۔ کیا خُدا میری فکر کرتا ہے؟

سب سے پہلے ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ کیا واقعی سچائی کا کوئی وجود ہے۔ اگر نہیں ہے، تو پھر ہم واقعی کسی بھی (روحانی یا غیر روحانی) چیز پر یقین نہیں کر سکتے ہیں، اور ہم یا تو مادہ پرست(اگناسٹی سِزم) بن سکتے ہیں، یا ایک غیر یقینی حالت میں رہیں گے کہ ہم کسی چیز کو جان بھی سکتے ہیں کہ نہیں، یا ہر نظریہ کو قبول کرتے ہوئے نظریہ تکثیریت کے حامی(پلُورل اِسٹ) بن سکتے ہیں، کیونکہ ہم یقین نہیں کر سکتے کہ کون درُست ہے۔

کامل سچائی کی وضاحت اِس طور پر کی جاتی ہے کہ جو حقیقت کے مساوی ہو، جو اپنے مضمون کے مطابق ہو، ویسے ہی بتائے جیسی کہ وہ ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ کامل سچائی جیسی کوئی چیز ہے ہی نہیں، بلکہ ایسا نظریہ رکھنا خود کو دھوکہ دینا ہے۔ مثال کے طور پر، علم، حقیقت، اور سچائی کو نسبتی ماننے والوں (ریلاٹوِسٹ) کا کہنا ہے، "تمام سچائی نسبتی ہے"، پھر بھی یہ پوچھنا ضروری ہے ، کہ یہ بیان بالکل سچ ہے؟ اگر ایسا ہی ہے، تو پھر کامل سچائی وجود رکھتی ہے، اگر ایسا نہیں ہے، تو پھر اِس پر غور کیوں کریں؟ پوسٹ ماڈرن ازم کا کہنا ہے کہ کوئی سچائی نہیں ہے، پھر بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ کم از کم ایک کامل سچائی پوسٹ ماڈرن ازم سچ ہے۔ آخر میں، کامل سچائی نا قابلِ تردید بن جاتی ہے۔

اِس کے علاوہ، کامل سچائی قدرتی طور پر محدود ہے، اور اپنے متضاد کو خارج کرتی ہے۔ دو اور دو چار ہوتے ہیں، کوئی دوسرا جواب ممکن نہیں ہے۔ جیسے ہی مختلف عقائد کے نظاموں اور عالمی نظریات کا موازنہ کیا جاتا ہے، یہ نقطہ اہم ہو جاتا ہے۔ اگر ایک عقیدے کا نظام ایسے اجزاء رکھتا ہو جو سچ ثابت ہو چُکے ہوں،تو پھر کوئی بھی مقابل عقائد کا نظام برعکس دعوؤں کے لازمی جھوٹ ہو گا۔ اِس کے علاوہ، ہمیں ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ کامل سچائی خلوص اور خواہش سے متاثر نہیں ہوتی۔ اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی شخص کتنے خلوص کے ساتھ جھوٹ کو گلے لگاتا ہے، یہ پھر بھی جھوٹ ہی رہتا ہے۔ اور دُنیا کی کوئی بھی خواہش کسی جھوٹ کو سچ نہیں بنا سکتی ۔

پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ کامل سچائی کا وجود ہے۔ اِس صورت میں، مادہ پرستی (اگناسٹی سِزم)، پوسٹ ماڈرن ازم، نسبتی نظریہ (ریلیٹو ازم)، اور تشکیک پرستی (سکیپٹی سِزم) تمام نظریات جھوٹے ہیں۔

اب ہم دوسرے سوال پر آتے ہیں کہ آیا سبب/منطق کو مذہبی امور میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہے، لیکن کیوں ممکن نہیں؟ حقیقت یہی ہے کہ روحانی دعوؤں کی جانچ پڑتال کے لئے منطق ضروری ہے، کیونکہ یہ ہمیں سمجھنے میں مدد کرتا ہے کہ بعض لوگوں کے دعوؤں کو کیوں ردّ کرنا چاہیے اور دوسروں کو قبول کرنا چاہیے۔ منطق نظریہ تکثیریت (پلُورل ازم، جِس کا کہنا ہے کہ سچائی کے تمام دعوئے، یہاں تک کہ ایک دوسرے کے مخالف دعوئے بھی برابر اور درُست ہیں) کو جڑ سے اُکھاڑنے کے لئے بھی نہایت اہم ہے۔

مثال کے طور پر، اسلام اور یہودیت دعویٰ کرتے ہیں کہ یسوع خُد انہیں ہے، جبکہ مسیحیت دعویٰ کرتی ہے کہ وہ خُدا ہے۔ منطق کے بنیادی قوانین میں سے ایک غیر تضاد کا قانون ہے، جو بیان کرتا ہے کہ کوئی بھی چیز ایک ہی وقت، اور ایک ہی مفہوم میں "اے" اور "غیر اے" دونوں نہیں ہو سکتے۔ اِس قانون کا یہودیت، اسلام، اور مسیحیت کے دعوؤں پر اطلاق کرنے کا مطلب ہے کہ ایک درُست ہے اور دوسرے دو غلط ہیں۔ یسوع کا خُدا ہونا اور خُدا نہیں ہونا دونوں ایک ساتھ نہیں ہو سکتا۔ منطق کا مناسب استعمال نظریہ تکثیریت (پلُورل ازم) کے خلاف ایک مضبوط ہتھیار ہے کیونکہ یہ واضح طور پر ثابت کرتا ہے کہ سچائی کے مخالف دعوئے دونوں سچ نہیں ہو سکتے۔ یہ تفہیم "آپ کے لئے سچ لیکن میرے لئے نہیں" کی مکمل ذہنیت کو ڈگمگا دیتی ہے۔

منطق "تمام راستے پہاڑ کی چوٹی کو جاتے ہیں" کی ساری مشابہت کو بھی ختم کرتا ہے جِسے نظریہ تکثیریت والے (پلُورل اِسٹ) استعمال کرتے ہیں۔ منطق ظاہر کرتا ہے کہ عقائد کا ہر نظام نشانات کا اپنا ایک مجموعہ رکھتا ہے جو آخر میں بنیادی طور پر مختلف مقامات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ منطق واضح کرتا ہے کہ روحانی سچائی کی تلاش کی صیحح مثال اُلجھنوں کے راستے سے کہیں زیادہ ہے جو سچائی کے وسیلہ سے قائم کی جاتی ہے ، جبکہ تمام دوسرے مہلک کنارے پر پہنچ جاتے ہیں۔ تمام عقائد میں کچھ سطحی مماثلت ہو سکتی ہے، لیکن وہ اپنے بنیادی عقائد میں بڑی حد تک مختلف ہیں۔

نتیجہ یہ ہے کہ مذہب کے معاملات میں آپ سبب اور منطق کو استعمال کر سکتے ہیں۔ اِس صورت میں نظریہ تکثیریت (پلُورل ازم، عقیدہ کہ سچائی کے تمام دعوئے برابر طور پر سچے اور درُست ہیں) نامنظور کیا جاتا ہے کیونکہ یہ ایمان رکھنا غیر منطقی اور متضاد ہے کہ سچائی کے مخالف دعوئے کُلی طور پر دونوں درُست ہو سکتے ہیں۔

اب ایک بڑے سوال کی باری آتی ہے، کیا خُدا ہے؟ دہریے اور نظریہ منکرین کے ماننے والوں (نیچرل اِسٹ، جو اِس مادی دُنیا اور کائنات سے باہر کسی چیز کو قبول نہیں کرتے) کا کہنا ہے کہ "کوئی خُدا نہیں ہے"۔ اگرچہ اِس سوال پر تاریخ بھر میں لاتعداد جلدیں لکھی گئی ہیں، اور بحث ومباحثے کئے گئے ہیں، لیکن اِس کا جواب دینا حقیقت میں مشکل نہیں ہے۔ مناسب توجہ دینے سے پہلے آپ کو یہ سوال پوچھنا ضروری ہے کہ، بالکل "کچھ نہ" ہونے کی بجائے ہمارے پاس "کچھ" کیوں ہے؟ دوسرے الفاظ میں، آپ اور آپ کے ارد گرد ہر چیز کیسے اور کہاں سے آئی؟ ذاتِ خُدا کے وجود کے لئے دلیل بہت آسانی سے پیش کی جا سکتی ہے۔

کچھ موجود ہے۔

آپ "کچھ نہیں" سے"کچھ" حاصل نہیں کر سکتے۔

اِس لئے ایک اہم اور ابدی ہستی موجود ہے۔

آپ اپنے موجود ہونے کا انکار نہیں کر سکتے کیونکہ آپ کو اپنےوجود کا انکار کرنے کے لئے بھی وجود رکھنا پڑے گا (جو کہ خُود مغلوبی ہے)، لہذہ، پہلا بیان سچ ہے۔ کوئی بھی نہیں مانتا کہ آپ "کچھ نہیں" سے "کچھ" حاصل کر سکتے ہیں (مثال کے طور پر، یہ کہ "کچھ نہیں" نے کائنات کو پیدا کیا)، لہذہ، دوسرا بیان بھی سچ ہے۔ اِس لئے، تیسرا بیان بھی لازمی طور پر سچ ہے، کہ ایک ابدی ہستی ہر چیز کو معرض وجود میں لانے کی ذمہ دار ہے۔

یہ ایک ایسا خیال ہے جِس کا دہریہ انکار نہیں کر سکتا، وہ صرف دعویٰ کرتے ہیں کہ کائنات ابدی ہے۔ تاہم اِس موقف کے ساتھ مسلہ یہ ہے کہ تمام سائنسی ثبوت اِس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ کائنات کا کوئی شروع ہے (بِگ بینگ تھیوری)۔ اور ہر چیز جِس کا آغاز ہوتا ہے، اُس کی وجہ/ سبب (کاز) ہوتا ہے، اِس لئے کائنات کا کوئی سبب (کاز) ہے، اور یہ ابدی نہیں ہے۔ کیونکہ ابدیت کے صرف دو ذرائع ایک ابدی کائنات (جو کہ غلط ثابت ہوئی) یا ایک ابدی خالق ہے، صرف منطقی نتیجہ یہ ہے کہ خُدا موجود ہے۔ خُدا کے وجود کے بارے میں سوال کا جواب اثبات میں دینا درُست عقائد کے نظام کے طور پردہریوں (ایتھی ازم) کو ردّ کرتا ہے۔

یہ نتیجہ اِس بارے میں کچھ نہیں کہتا کہ خُدا کس قسم کا وجود رکھتا ہے، بلکہ حیرت انگیز طور پر یہ ایک بنیادی کام کرتا ہے، یعنی یہ تمام مظاہر پرستانہ (پینتھی اِسٹِک) مذاہب کو ردّ کرتا ہے۔ تمام مظاہر پرستانہ عالمی نظریات کہتے ہیں کہ کائنات ہی خُدا ہے اور یہ ابدی ہے۔ اور یہ دعویٰ غلط ہے۔ لہذہ، ہندومت، بُدھ مت، جین ازم، اور تمام دوسرے مظاہر پرستانہ (پینتھی اِسٹِک) مذاہب درُست عقائد کے نظام کے طور پر ردّ کئے جاتے ہیں۔

اِس کے علاوہ، ہم اِس خُدا کے بارے میں جِس نے کائنات کو خلق کیا کچھ دلچسپ باتیں سیکھتے ہیں۔ وہ

• اپنی ذات میں مافوق الفطرت ہے (کہ وہ اپنی تخلیق سے باہر وجود رکھتا ہے)۔

• نا قابلِ یقین حد تک قادر ہے (اُس نے تمام چیزوں کو خلق کیا جو معلوم ہے)۔

• ابدی ہے (خود سے موجود ہے، کہ وہ وقت اور خلا (ٹائم اینڈ سپیس) سے باہر بھی موجود ہے)۔

• ہر جگہ حاظر و ناظر ہے (اُس نے خلا کو خلق کیا اور اُس کی قید سے باہر ہے)۔

• وقت کی قید سے باہر اور لا تبدیل ہے (اُس نے وقت کو پیدا کیا)۔

• روحانی وجود رکھتا ہے (کیونکہ وہ فضا سے بُلند ہے)۔

• شخصیت ہے (غیر شخص شخصیت کو پیدا نہیں کر سکتا)۔

• اہم ہے (کیونکہ ہر چیز اُس پر انحصار کرتی ہے)۔

• لامحدود اور واحد ہے (کیونکہ آپ دو لامحدویت نہیں رکھ سکتے)۔

• الگ الگ لیکن پھر بھی اتحاد رکھتا ہے (کیونکہ ذات تنوع کا اظہار کرتی ہے)۔

• ذہین ہے (زبردست طریقے سے ہر چیز کو تخلیق کیا)۔

• بامقصد ہے (کیونکہ اُس نے دانستہ طور پر ہر چیز کو پیدا کیا )۔

• اخلاقی ہے (قانون ساز کے بغیر کوئی اخلاقی قانون وجود نہیں رکھ سکتا)۔

• خیال رکھنے والا ہے (یا کوئی اخلاقی قانون نہ دیا جاتا)۔

یہ ہستی یہودیت، اسلام، اور مسیحیت کے خُدا سے ملتی جُلتی بہت سے خوبیوں کو ظاہر کرتی ہے، جو دلچسپی سے کافی ہے، اور صرف یہی بنیادی عقائد ہیں جو مظاہر پرست (پینتھی ازم)، اور دہریوں (ایتھی ازم) کی تردید کے بعد قائم رہتے ہیں۔ اِ س بات پر بھی غور کریں کہ زندگی (ابتدا) کے بارے میں بڑے سوالوں میں سے ایک کا اب جواب دیا جاتا ہے، ہم جانتے ہیں کہ ہم کہاں سے آئے۔

یہ ہمیں اگلے سوال تک لے کر جاتی ہے، کیا ہم خُدا کو جان سکتے ہیں؟ اِس مقام پر، مذہب کی ضرورت زیادہ اہم چیز نجات کی ضرورت سے تبدیل کر دی گئی ہے۔ اگر انسان خُدا کو اچھی طرح سے جاننا چاہتا ہے، تو یہ خُدا پر ہے کہ وہ اپنے آپ کو اپنی تخلیق پر ظاہر کرے۔ یہودیت، اسلام، اور مسیحیت سب ایک ایسی کتاب رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں جو خُدا کی طرف سے انسان کے لئے مکاشفہ ہو، لیکن سوال یہ ہے کہ کونسی (اگر کوئی ہے) حقیقت میں درُست ہے؟ چھوٹے چھوٹے اختلافات کو ایک طرف رکھ کر، تنازعہ کے دو بنیادی نقاط ، 1) بائبل کا نیا عہد نامہ، 2)یسوع مسیح کی شخصیت ہیں ۔ اسلام اور یہودیت دونوں دعویٰ کرتے ہیں کہ بائبل کا نیا عہد نامہ جِس بات کا دعویٰ کرتا ہے اُس میں جھوٹ ہے، اور دونوں یسوع مسیح کے مجسم خُدا ہونے کا انکار کرتے ہیں ، اگرچہ مسیحیت دونوں کے سچ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔

اِس سیارے پر ایسا کوئی ایمان نہیں ہے جو مسیحیت کے لئے موجود ثبوتوں کے پہاڑوں کو جوڑ سکتا ہے۔ قدیم مسودوں کی بہت بڑی تعداد سے کے کر، (یسوع مسیح کی وفات سے صرف 15 سال بعد کے بعض ) عینی شاہدین کی زندگی کے دوران لکھی گئی دستاویزات کی ابتدائی تاریخوں، تفصیلات کی بہتات (نئے عہد نامہ کی 27 کتابوں کے 9 مصنفین)، آثارِ قدیمہ کے ثبوتوں جن میں سے کوئی بھی نئے عہد نامہ کے کئے گئے کسی ایک دعویٰ سے بھی اختلاف نہیں کرتا ، اُس حقیقت تک جِس کی منادی کرتے ہوئے رسولوں نے اپنی جان تک دے دی، وہ یسوع کو کام کرتے دیکھ چُکے تھے اور یہ بھی کہ وہ مردوں میں سے زندہ ہو گیا ہے، مسیحیت اپنے اِن دعوؤں کے انبار کے لئے ثبوت فراہم کرنے میں معیار قائم کرتی ہے۔ نئے عہد نامہ کی تاریخی صداقت یہ ہے کہ یہ اصل واقعات کی سچی تفصیل ویسے ہی بیان کرتی ہے جیسے وہ واقع ہوئے ، اُن تمام ثبوتوں تک ایک ہی بار پہنچنے کا واحد درُست نتیجہ ہے جن کی جانچ پڑتال کی گئی ہے۔

جب یہ یسوع تک آتی ہے ، تو اُس کے بارے میں ایک بہت ہی متجسس بات ملتی ہے، کہ اُس نے جسم میں خُدا ہونے کا دعوی کیا۔ یسوع کے اپنے الفاظ (مثال کے طور پر، اِس سے پہلے کہ ابرہام پیدا ہو میں ہوں)، اُس کے افعال (مثال کے طور پر، گناہ معاف کرنا، پرستش قبول کرنا)، اُس کی گناہ سے پاک اور معجزانہ زندگی (جِس کا استعمال اُس نے اپنے سچے دعوؤں کو مخالفین کے دعوؤں پر ثابت کرنے کے لئے کیا)، اور اُس کی قیامت، سب اُس کے خُدا ہونے کے دعوؤں کی حمایت کرتے ہیں۔ نئے عہد نامہ کے مصنفین اپنی تحریروں میں بار بار اِس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں۔

اب، اگر یسوع خُدا ہے، تو پھر وہ جو بھی کہتا ہے لازمی طور پر سچ ہے۔ اور اگر یسوع نے کہا (اور اُس نے کہا) کہ بائبل خطا سے پاک اور ہر اُس بات میں سچی ہے جو وہ کہتی ہے ، تو اِس کا مطلب ہے کہ بائبل جِس بات کی منادی کرتی ہے وہ سچ ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے سیکھ چُکے ہیں، دو مقابل سچائی کے دعوئے دونوں درُست نہیں ہو سکتے۔ لہذہ، اسلامی قرآن یا یہودیت کی تحریروں میں موجود ہر وہ بات جو بائبل سے اختلاف رکھتی ہے سچ نہیں ہو سکتی۔ حقیقت میں اسلام اور یہودیت دونوں ناکام ہو جاتے ہیں کیونکہ یہ دونوں کہتے ہیں کہ یسوع مجسم خُدا نہیں ہے، جبکہ ثبوت دوسری جانب کچھ اور ہی کہہ رہے ہیں۔ اور چونکہ ہم واقعی خُدا کو جان سکتے ہیں (کیونکہ اُس نے خود اپنے آپ کو اپنے تحریری کلام ، اور مسیح میں ظاہر کیا ہے)، مادہ پرستی (اگناسٹی سِزم) کی تمام اشکال کو ردّ کیا جاتا ہے۔ آخر میں، زندگی کے بارے میں ایک اور بڑے سوال یعنی اخلاقیت کا جواب دیا جاتا ہے، جیسا کہ بائبل میں واضح ہدایات موجود ہیں کہ انسان کو کیسے زندگی گزارنے کی ضرورت ہے۔

اِسی بات کا بائبل اعلان کرتی ہے کہ خُدا انسانوں کا گہرائی سے خیال رکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ تمام اُسے قریب سے جانیں۔ درحقیقت، وہ اتنا خیال رکھتا ہے کہ وہ اپنی تخلیق کو دکھانےکے لئے کہ وہ حقیقت میں کیسا ہے انسان بن گیا۔ بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے خُدا بننے کی کوشش کی، لیکن صرف یہ واحد خُدا ہے جِس نے انسان بننے کی کوشش کی تاکہ وہ اُن کو نجات دے سکے جو اُس سے جُدا تھے اور جن سے وہ ازل سے دِل کی گہرائیوں سے پیار کرتا ہے۔ یہ حقیقت مسیحیت کی زندگانی سے مطابقت ثابت کرتی ہے اورزندگی کے بارے میں پچھلے دو بڑے سوالوں مقصد اور منزل کے جوابات بھی دیتی ہے۔ خُدا نے ہر شخص کو ایک خاص مقصد سے بنایا ہے، اور ہر ایک کی ایک منزل ہے جو اُس کا انتظار کر رہی ہے ، خُدا کے ساتھ ابدی زندگی کی منزل ،یا خُدا سے ابدی جُدائی کی منزل ۔ یہ استخراج (اور خُدا کا مسیح میں انسان بننے کا نقطہ)وحدانیت (ڈی ازم) کو بھی ردّ کرتا ہے، جو کہتے ہیں کہ خُدا انسان کے معاملات میں دلچسپی نہیں رکھتا۔

آخر میں، ہم دیکھتے ہیں کہ خُدا کے بارے میں حتمی سچائی حاصل ہو سکتی ہے اور دُنیا کے عالمی نقطہ نظر اُلجھن کو کامیابی سے مختلف سچے دعوؤں کی جانچ پڑتال کرتے اور غلط بیانیوں کومنظم طریقے سے ایک طرف رکھتے ہوئے حل کر دیا گیا ہے تاکہ صرف سچائی باقی رہ جائے۔ منطقی یکسانیت ، تجرباتی حمایت ، اور موجود میں مطابقت کی آزمائشوں کو استعمال کرتے ہوئے ، اور درُست سوالوں کی پوچھ گچھ کرنے سے ، مذہب اور خُدا کے بارے میں سچائی پر مبنی اور مناسب نتائج حاصل کرتے ہیں۔ ہر ایک کو اِس بات پر اتفاق کرنا چاہیے کہ کسی بات پر ایمان لانے کی واحد وجہ سچائی سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ہے۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حقیقی ایمان مرضی کا معاملہ ہے، اور اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ثبوت کتنا منطقی طور پر پیش کیا گیا ہے، بعض پھر بھی خُدا کا انکار کریں گے جو موجود ہے، اور اُس کے ساتھ ہم آہنگی کے واحد حقیقی راستہ گنوا دیں گے۔

English
اردو ہوم پیج میں واپسی
تمام مختلف مذاہب میں سے میں کیسے جان سکتا ہوں کہ کونسا مذہب درُست ہے؟