settings icon
share icon
سوال

مَیں یہ کیسے جان سکتا ہوں کہ اتنے سارے مذاہب میں سے درست مذہب کونسا ہے؟

جواب


یقیناً اِس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ دُنیا میں مختلف طرح کے مذاہب کی اِس بڑی تعدادنے یہ جاننا مشکل بنادیا ہے کہ کونسا مذہب درُست ہے۔ آئیے اس مجموعی موضوع کے بارے میں کچھ خیالات پر غور کرتے ہیں اور پھر دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص کس طور سے اس موضوع کو دیکھنا چاہیے تاکہ اِس کے ذریعے حقیقی طور پر خُدا کے بارے میں درُست نتیجہ اخذ ہو سکے۔ ایک مخصوص مسئلے کے لیے کئی طرح کے جوابات ملنے کا چیلنج مذہب کے موضوع کے لئے کوئی منفرد بات نہیں ہے۔ مثال کے طور پرآپ ریاضی کے 100 طالب علموں کو بٹھائیں، اُن کو حل کرنے کے لئے ایک پیچیدہ سوال دیں تو اِس صورت میں ممکن ہے کہ بہت سے طالب علم غلط جواب دیں۔ لیکن کیا اِس کا یہ مطلب ہے کہ درُست جواب موجود نہیں ہے؟ بالکل نہیں۔ بلکہ جتنے طالب علموں نے غلط جواب دیا ہے اُن پر صرف اُن کی غلطی کو ظاہر کرنے اور درُست جواب تک پہنچے کے لئے ضروری تکنیکوں سے انہیں آگاہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ہم خُدا کے بارے میں سچائی تک کیسے پہنچتے ہیں؟اِس کے لیے ہم ایک منظم طریقہ کار کا استعمال کرتے ہیں جسےمختلف قسم کی جانچ پڑتال کے طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے سچائی کو جھوٹ سے الگ کرنے کےلیے ترتیب دیا گیا ہے جس کے آخر میں حتمی نتائج پر مشتمل مجموعہ حاصل ہوتا ہے ۔ اگر ایک سائنسدان لیبارٹری میں جاتا ہے اور بغیر کسی ترتیب اور جواز کے کیمیکلز کو ایک ساتھ ملانا شروع کرتا ہے تو اس صورت میں آپ اُن نتائج کا تصور کر سکتے ہیں جن پر وہ پہنچے گا ؟ یا اگر ایک طبیب ایک مریض کو اچھا کرنے کی اُمید میں بے ترتیب ادویات کے ساتھ اُس کا علاج کرنا شروع کر دیتا ہے؟ نہ تو سائنسدان اور نہ ہی طبیب ایسا کرتے ہیں بلکہ وہ ایک منظم طریقہ کار استعمال کرتے ہیں جو باضابطہ، منطقی ، مشہودہ، اور درُست حتمی نتائج حاصل کرنے کے لئے ثابت شدہ ہیں ۔

اگر ایسا معاملہ ہے تو ہم یہ کیوں سوچتے ہیں کہ علم ِ الہیات(ذاتِ خُدا کے مطالعہ) کو مختلف ہونا چاہیے؟ ایسا کیوں مانا جاتا ہیں کہ اگر بے ترتیب اور غیر درست طریقہ اپنایا جائے تو پھر بھی درُست نتائج حاصل ہو سکتے ہیں؟ بدقسمتی سے بہت سے لوگ اِسی حکمتِ عملی کو اختیار کرتے ہیں اور یہ بہت سے مذاہب کے موجود ہونے کی بہت ساری وجوہات میں سے ایک ہے۔ اُن باتوں کےبعد اب ہم دوبارہ اپنے سوال پر آتے ہیں کہ خُدا کے بارے میں حقیقی نتائج کیسے حاصل کئے جا سکتےہیں ۔کونسی منظم حکمت ِ عملی اختیار کی جانی چاہیے؟ سب سے پہلےتو ہمیں سچائی کے بارے میں پیش کئے جانے والے مختلف دعوؤں کی جانچ کرنے کے لئے ایک ڈھانچہ (فریم ورک) تیار کرنا ہو گااور پھر ہمیں درُست نتیجے کے حصول کے لئے ایک ترتیب وار عمل کی پیروی کرنے کی ضرورت ہو گی ۔ اس عمل کے لئے ایک اچھا ڈھانچہ مندرجہ ذیل ہے:

1) منطقی ہم ہنگی :کسی بھی نظریاتی نظام کے دعوؤں کو منطقی طور پر ایک دوسرے سے باہمی طور پر مربوط ہونا چاہیے اور کسی بھی لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف نہیں ہونا چاہیے۔ مثال کے طور پر بُدھ مت کا حتمی مقصد تمام خواہشات سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے۔ تاہم کسی بھی شخص کیلئے اپنی تمام خواہشات سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے چھٹکارے کی خواہش کرنا ضروری ہے ۔ لہذا یہ ایک متنازعہ اور غیر منطقی اصول ہے۔

2) مشاہداتی مناسبت: مشاہداتی موزونیت سے مراد ہے کہ کیا اِس نظریاتی نظام کی توثیق کےلیےکوئی ثبوت موجود ہے(آیا ثبوت منطقی اور ظاہر ی طور پر قابلِ مشاہدہ ہیں ، وغیرہ)؟ بنیادی طور پر اہم دعوؤں کے ثبوت کے حصول کی خواہش کرنا ہی درُست بات ہے تاکہ دعوؤں کی تصدیق ہو سکے ۔ مثال کے طور پر مورمن ازم کے پیروکار سکھاتے ہیں کہ یسوع شمالی امریکہ میں رہتا تھا۔ تاہم ایسے دعوئے کی حمایت کے لئے آثارِ قدیمہ کا یا کسی اور قسم کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔

3) نظریہِ وجودیت سے مطابقت :نظریاتی نظام کو نیچے بیان کردہ زندگی کے بڑے سوالات پر توجہ دینی چاہئے اور ایسی تعلیمات کی ہماری اس دنیا میں درست عکاسی ہونی چاہئے۔ مثلاً مسیحیت جو ایک حقیقی برائی سے بھری ہوئی دنیا کے ساتھ ساتھ موجود ہے، زندگی کے بڑے سوالوں کے بارے میں اچھے جوابات مہیا کرتی ہے لیکن بعض اوقات اُس لاخطا اور طاقتور خدا کے بارےمیں اپنے دعوؤں کی وجہ سے سوالات کا سامنا بھی کرتی ہے ۔حالانکہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے بہت سارے اچھے جوابات دیئے گئے ہیں مگر ناقدین کا الزام ہے کہ ایسی کوئی ہستی نظریہ وجودیت سے مطابقت کے معیار کی خلاف ورزی کرتی ہے ۔

مذہب کے موضوع پرجب مندرجہ بالا ڈھانچے کا اطلاق کیا جاتا ہےتو اِس سے خُدا کے بارے میں درُست نقطہ ِ نظر اور زندگی کے چار بڑے سوالات کا جواب دینے میں رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔

‌أ. ابتدا – ہم کہاں سے آئے ہیں؟

‌ب. اخلاقیات – ہمیں زندگی کیسے گزارنی چاہیے؟

‌ج. مقصد– زندگی کا کیا مقصد ہے؟

‌د. منزل – انسانیت کس طرف جا رہی ہے ؟

لیکن کوئی شخص خُدا کی تلاش کے لئے اِس ڈھانچے کا اطلاق کیسے کر سکتا ہے؟ اس حوالے سے درجہ بدرجہ سوالوں/ جوابوں کےطریقے کار کا استعمال کرنا بہترین حکمت عملی ہوگی ۔ ممکنہ سوالوں کی فہرست کو مختصر کرنے سے مندرجہ ذیل فہرست مرتب ہوتی ہے۔

1) کیا حتمی سچائی کا کوئی وجود ہے؟

2) کیا عقل اور مذہب ایک ساتھ پائے جا سکتے ہیں؟

3) کیا خُدا ہے؟

4) کیا خُدا کو جانا جا سکتا ہے؟

5) کیا یسوع خُدا ہے؟

6) کیا خُدا میری فکر کرتا ہے؟

سب سے پہلے ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ کیا حتمی سچائی کا کوئی وجود ہے۔ اگر حتمی سچائی کا کوئی وجود نہیں تو پھر ہم واقعی کسی بھی (رُوحانی یا غیر رُوحانی) بات پر یقین نہیں کر سکتے ہیں اس صورت میں یا تو ہم تشکیک پرست بن جائیں گے یعنی ہم ایک غیر یقینی کی حالت میں چلے جائیں کہ"کیا ہم واقعی کسی چیز کو حتمی طور پر جان بھی سکتے ہیں یا نہیں ' یا پھر ہم ہر نظریے کو قبول کرتے ہوئے نظریہ تکثیریت کے حامی بن سکتے ہیں کیونکہ ہم اِس بات کا تعین نہیں کر سکتے کہ کون درُست ہے۔

حتمی سچائی کی تعریف کچھ اِس طرح کی جاتی ہے کہ سچائی وہ ہے جو حقیقت سے مطابقت رکھتی ہو، جو اپنے مضمون کے مطابق ہو، ویسے ہی بتائی جائے جیسے کہ وہ ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ حتمی سچائی جیسی کسی چیز کا کوئی وجود نہیں مگر ایسے نظریے کو اختیار کرنا خودتردیدی ہے۔ مثلاً ایسے لوگوں کا جو سچائی کو نسبتی مانتے ہیں کہنا ہے کہ "تمام سچائی نسبتی ہے" اس صورت حال میں یہ بیان دینے والے شخص کو پوچھنا چاہیے کہ کیااُس کا یہ بیان نسبتی ہے یا پھر حتمی اور عالمگیر نوعت کا حامل ہے؟ اگر کوئی بیان سچا ہو سکتا ہے تو پھر واضح طور پر حتمی سچائی اپنا وجود رکھتی ہے اگر ایسا نہیں ہے تو پھر اِس بیان کو تسلیم کرنے کیا ضرورت ہے ؟ ما بعد از جدیدیت کا نظریہ کم از کم ایک سچائی کے علاوہ کسی اور طرح کی سچائی کی تصدیق نہیں کرتا ہے اور وہ سچائی یہ ہے کہ مابعد از جدیدیت کا نظریہ سچا ہے۔ آخر میں حتمی سچائی نا قابلِ تردید بن جاتی ہے۔

مزید برآں حتمی سچائی بنیادی طور پر محدود ہےاور دوسرے متضا دتصورات کو خارج کرتی ہے۔ دو اور دو چار ہوتے ہیں لہذا کوئی دوسرا جواب ممکن نہیں ہے۔ لیکن مختلف عقائد ی نظاموں اور عالمی نظریات کا موازنہ کیا جاتا ہےتو یہ نقطہ ِ نظر تنقید ی بن جاتا ہے ۔ اگر ایک عقیدے کا نظام ایسے اجزاء پر مشتمل ہے جو سچ ثابت ہو چُکے ہوں تو اِس کے مقابلے میں اِس سے متضاد دعوؤں کا حامل کوئی بھی نظریاتی نظام یقیناً جھوٹا ثابت ہو گا۔ نیز ہمارے لیے یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ حتمی سچائی خلوص نیت اور خواہش سے متاثر نہیں ہوتی۔ اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی شخص کتنے خلوص کے ساتھ جھوٹ کو قبول کئے ہوئے ہیں کیونکہ خلوصِ نیت کے باوجود جھوٹ ، جھوٹ ہی رہتا ہے۔ اور دُنیا کی کوئی بھی خواہش کسی جھوٹ کو سچ نہیں بنا سکتی ۔

پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ حتمی سچائی کا وجود ہے۔ اِس صورت میں مادہ پرستی ، مابعد ازجدیدیت ، نظریہ نسبتیت ، اور نظریہ تشکیک پرستی جیسے تمام نظریات جھوٹے نظریاتِ حیات ہیں۔

اب ہم دوسرے سوال کی طرح آتے ہیں کہ آیا عقل /منطق کو مذہبی امور میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہے-لیکن ایسا کیوں ممکن نہیں؟ سچائی تو یہ ہے کہ رُوحانی دعوؤں کی جانچ پڑتال کرنے کے لئے منطق لازم ہے کیونکہ منطق ہمیں یہ سمجھنے میں مدد کرتا ہے کہ بعض دعوؤں کو کیوں ردّ کرنا چاہیے اور دوسروں کو کس لیے قبول کرنا چاہیے۔ منطق نظریہ تکثیریت ( جس کا کہنا ہے کہ سچائی کے تمام دعوئے حتیٰ کہ باہمی طور پر متضاد دعوئے بھی یکساں طور پر درُست ہیں) کو جڑ سے اُکھاڑنے کے لئے بھی نہایت اہم ہے۔

مثال کے طور پر اسلام اور یہودیت دعویٰ کرتے ہیں کہ یسوع خُد انہیں ہےجبکہ مسیحیت دعویٰ کرتی ہے کہ وہ خُدا ہے۔ منطق کے بنیادی قوانین میں سے ایک"عدم تردید" کا قانون ہے جو بیان کرتا ہے کہ کوئی بھی بات ایک ہی وقت اور ایک ہی مفہوم میں "جھوٹی" اور "سچی " نہیں ہو سکتی ، وہ بات یا تو جھوٹی ہے یا پھر سچی۔ اِس قانون کا یہودیت، اسلام اور مسیحیت کے دعوؤں پر اطلاق کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اِن میں سے صرف ایک درُست ہے جبکہ باقی دو غلط ہیں۔ یسوع ایک ساتھ خدا اور غیر خدا نہیں ہو سکتا ۔ منطق کا مناسب استعمال نظریہ تکثیریت کے خلاف ایک مضبوط ہتھیار ہے کیونکہ یہ واضح طور پر ثابت کرتا ہے کہ سچائی کے مخالف دعوئے یکساں طور پر سچ نہیں ہو سکتے۔ سچائی کا ایسا ادراک اِس قسم کے تصورات کہ "آپ کے لئے سچ ہے لیکن میرے لئے نہیں" کو مکمل طور پر مسمار کر دیتا ہے۔

منطق اِس قسم کی تماثیل کو مکمل طور پر رَد کرتا ہےجسے نظریہ تکثیریت کو ماننے والے استعمال کرتے ہیں جیسے کہ "تمام راستے پہاڑ کی چوٹی کو جاتے ہیں" منطق ظاہر کرتا ہے کہ عقائد کا ہر نظام علامات کا اپنا ایک مجموعہ رکھتا ہے جو بنیادی طور پر مختلف مقامات کی جانب نشاندہی کرتی ہیں ۔ منطق واضح کرتا ہے کہ رُوحانی سچائی کی تلاش کا صحیح نقشہ بھُول بھُلیوں والے راستے کی مانند ہے جس میں صرف ایک راستہ سچائی تک لے کر جاتا ہے جبکہ باقی سارے راستے مہلک انجام تک پہنچاتے ہیں ۔ تمام عقائد میں کچھ سطحی مماثلت ہو سکتی ہے لیکن وہ اپنے بنیادی عقائد میں بڑی حد تک مختلف ہیں۔

نتیجہ یہ ہے کہ مذہب کے معاملات میں بھی آپ منطق اور دلیل کا استعمال کر سکتے ہیں۔ اِس صورت میں نظریہ تکثیریت ( یہ عقیدہ کہ سچائی کے تمام دعوئے یکساں طور پر سچے اور درُست ہیں) مسترد کر دیا جاتا ہے کیونکہ یہ ایمان رکھنا غیر منطقی اور متضاد ہے کہ سچ اور اُس کے مخالف دعوئے دونوں کُلی طور پر درُست ہو سکتے ہیں۔

اِس کے بعد بڑے سوال "کیا خُدا موجودہے؟" کی باری آتی ہے ؟نظریہ دہریت اور نظریہ فطرت پسندی کے ماننے والوں ( جو اِس مادی دُنیا اور کائنات سے باہر کسی چیز کو قبول نہیں کرتے) کا کہنا ہے کہ "کوئی خُدا نہیں ہے"۔ اگرچہ اِس سوال پر تاریخ بھر میں لاتعداد کتابیں لکھی گئی ہیں اور بحث ومباحثے کئے گئے ہیں لیکن حقیقت میں اِس سوال کا جواب دینا مشکل نہیں ہے۔ اس بات پر مناسب توجہ دینےسے پہلے آپ کو یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ ہمارے پاس خدا کے بارے مکمل طور پر علم نہ ہونے کی بجائے مختصر علم کیوں ہے ؟ دوسرے الفاظ میں کہا جائے تو آپ اور آپ کے ارد گرد کی ہر چیز کیسے اور کہاں سے آئی ہے ؟ ذاتِ خُدا کے وجود کے بارے میں دلیل بہت آسانی سے پیش کی جا سکتی ہے۔

1) کچھ موجود ہے۔

2) کیونکہ لا موجود سے کچھ بھی آموجود نہیں ہو سکتا ۔

3) اِس لئے ایک اہم اور ابدی ہستی موجود ہے۔

آپ اپنے وجود سے انکار نہیں کر سکتے کیونکہ آپ کو اپنےوجود کا انکار کرنے کے لئے بھی وجود رکھنا پڑے گا (جو کہ خُود تردیدی ہے )لہذا پہلا بیان سچ ہے۔ کوئی شخص نہیں مانے کا آپ "کچھ نہیں" سے "کچھ" حاصل کر سکتے ہیں (مثال کے طور پریہ کہنا کہ "کچھ نہیں" نے کائنات کو پیدا کیا تھا )لہذادوسرا بیان بھی سچ ہے۔ اِس لئےتیسرا بیان بھی لازمی طور پر سچ ہے کہ ایک ابدی ہستی ہر چیز کو معرض وجود میں لانے کی ذمہ دار ہے۔

یہ ایک ایسا نقطہ ِ نظر ہے جس سے ایک سمجھدار دہریہ انکار نہیں کر سکتا۔ وہ صرف یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کائنات ابدی ہے۔ تاہم اِس موقف کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ تمام سائنسی شواہد اِس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ایک وقت تھا جب کائنات کی ا بتدا ہوئی تھی (بِگ بینگ تھیوری)۔ اور ہر وہ چیز جس کا آغاز ہوتا ہے اُس کی ایک وجہ یا سبب ہوتا ہے اِس لئے کائنات کابھی کوئی سبب ہے اِس لیے یہ ابدی نہیں ہو سکتی ۔ کیونکہ ابدیت کے صرف دو ذرائع ہیں یعنی ایک ابدی کائنات (جو کہ غلط ثابت ہو گیا ہے ) یا ایک ابدی خالق ہےلہذا منطقی نتیجہ یہی ہے کہ خُدا موجود ہے۔ خُدا کے وجود کے بارے میں سوال کا مثبت انداز میں جواب دنیا اِس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ دہریت ہرگز ایک درست نظریاتی نظام نہیں ہے۔

یہ نتیجہ خدا کی ذات کے بارے میں کچھ نہیں بتاتا ہے کہ وہ کیسا ہے تاہم حیرت انگیز طور پر یہ باقی تمام مظاہر پرست مذاہب کو ردّ کرنے کا کام ضرور کرتا ہے ۔ تمام مظاہر پرست عالمی نظریات کہتے ہیں کہ کائنات ہی خُدا ہے اور یہ ابدی ہے۔ لیکن یہ دعویٰ غلط ہے۔ لہذا ہندومت، بُدھ مت، جین ازم اور تمام دوسرے مظاہر پرست مذاہب غیر درُست نظریاتی نظام کی حیثیت سے ردّ کئے جاتے ہیں۔

اِس کے علاوہ ہم اُس خُدا کے بارے میں جس نے کائنات کو تخلیق کیا ہے کچھ دلچسپ باتیں سیکھتے ہیں۔ وہ:

• اپنی ذات میں مافوق الفطرت ہے (کہ وہ اپنی تخلیق سے باہر وجود رکھتا ہے)۔

• نا قابلِ یقین حد تک قادر ہے (اُس نے تمام چیزوں کو خلق کیا ہے ) ۔

• ابدی ہے (خود سے موجود ہے۔ وہ وقت اور خلاء کی قید سے آزاد ہے )۔

• ہر جگہ حاظر و ناظر ہے (اُس نے خلاء کو خلق کیا اور اُس کی قید سے باہر ہے)۔

• وقت کی قید سے باہر اور لا تبدیل ہے (اُس نے وقت کو پیدا کیا)۔

• رُوحانی وجود رکھتا ہے (کیونکہ کائنات کی ہر چیز سے اعلیٰ و ارفع ہے)۔

• شخصیت ہے (غیر شخصی وجود شخصیت کو پیدا نہیں کر سکتا)۔

• نا گزیر ہے (کیونکہ ہر چیز اُس پر انحصار کرتی ہے)۔

• لامحدود اور واحد ہے (کیونکہ کائنات کے اندر دو لامحدو وجود موجود نہیں ہو سکتے۔)۔

• الگ الگ لیکن پھر بھی اتحاد رکھتا ہے (کیونکہ اُس کی ذات تنوع کا مظاہر ہ کرتی ہے)۔

• حکیمِ کُل ہے (زبردست طور پر ہر چیز کو تخلیق کیا ہے )۔

• بامقصد ہے (کیونکہ اُس نے دانستہ طور پر ہر چیز کو پیدا کیا ہے )۔

• اخلاقی ہے (کسی قانون ساز کے بغیر کوئی اخلاقی قانون وجود نہیں رکھ سکتا)۔

• خیال رکھنے والا ہے (ورنہ کوئی اخلاقی قانون نہ دیا جاتا)۔

یہ ہستی یہودیت، اسلام اور مسیحیت کے خُدا سے ملتی جلتی بہت سے خوبیوں کو ظاہر کرتی ہےجو کہ کافی زیادہ ہیں اور صرف یہی بنیادی عقائد ہیں جو مظاہر پرست اور دہریت کی تردید کے بعد قائم رہتے ہیں۔ اِ س بات پر بھی غور کریں کہ زندگی (ابتدا) کے بارے میں بڑے سوالوں میں سے ایک کا جواب اب دیا جا چکا ہے : ہم جانتے ہیں کہ ہم کہاں سے آئے ہیں ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مَیں یہ کیسے جان سکتا ہوں کہ اتنے سارے مذاہب میں سے درست مذہب کونسا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries