settings icon
share icon
سوال

گناہ کے بارے میں قصوروار ٹھہرایا جانا کیا ہے ؟

جواب


بائبل مُقدس ہمیں بتاتی ہے کہ رُوح القدس دُنیا کو گُناہ اور راستبازی اور عدالت کے بارے میں قصوروار ٹھہرائے گا (یوحنا 16باب8 آیت)۔ یہ سمجھنے میں ہماری مدد کرنے کے لیے کہ گناہ کے بارے میں قصور وار ٹھہرائے جانے کا کیا مطلب ہے، ہم پہلے یہ دیکھ سکتے ہیں کہ اِس کا کیا مطلب نہیں ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ یہ محض ندامت زدہ ضمیر یا گناہ پر شرمندگی کی بات نہیں ہے اِس طرح کے احساسات کا تجربہ قریباً ہر کوئی قدرتی طور پر کرتا ہے۔ لیکن یہ گناہ کے بارے میں حقیقت میں قصوروار ٹھہرایا جانا نہیں ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ گناہ کے بارے میں قصور وار ٹھہرایا جاناخوف کا احساس یا خُدا کی طرف سے ملنے والی سزا کی پیشین گوئی نہیں ہے۔ یہ احساسات بھی عام طور پر گناہگاروں کے دِل و دماغ میں محسوس کئے جاتے ہیں۔ لیکن ایک بار پھر گناہ کے بارے میں قصور وار ٹھہرایا جانا کچھ مختلف ہے۔

تیسری بات یہ ہے کہ گناہ کے بارے میں قصور وار ٹھہرایا جانا محض صحیح اور غلط کا علم نہیں ہے ، اور یہ گناہ کے بارے میں کلامِ مُقدس کی تعلیم کے ساتھ محض رضا مند ہونا بھی نہیں ہے۔ بہت سارے لوگ بائبل مُقدس کا مطالعہ کرتے ہیں اور اِس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ گناہ کی مزدوری موت ہے (رومیوں 6باب23 آیت)۔ وہ یہ جانتے ہونگے کہ "کسی حرام کار یاناپاک یا لالچی کی جو بُت پرست کے برابر ہے مسیح اور خُدا کی بادشاہی میں کچھ میراث نہیں " (افسیوں 5باب5 آیت)۔ وہ حتیٰ کہ اِس بات سے بھی اتفاق کرتے ہونگے کہ "شریر پاتال میں جائیں گے۔ یعنی وہ سب قَومیں جو خُدا کو بُھول جاتی ہیں" (9زبور17 آیت)۔ لیکن یہ سارا علم رکھ کر بھی وہ گناہ میں جینا جاری رکھتے ہیں۔ وہ گناہ کے نتائج کو سمجھتے ہیں لیکن وہ گناہ کے بارے میں قصور وار ٹھہرائے جانے سے بہت زیادہ دور ہیں۔

سچی بات یہ ہے کہ اگر ہم نے ضمیر کی ملامت، خُدا کی طرف سے عدالت کے تصورکی بدولت فکر و پریشانی یا جہنم کے بارے میں تعلیمی بیداری سے زیادہ کچھ تجربہ نہیں کیا تو پھر ہم نے گناہ کے بارے میں قصور وار ٹھہرائے جانے کو صحیح معنوں میں کبھی نہیں جانا۔ گناہ کے بارے میں حقیقت میں قصور وار ٹھہرائے جانے کا کیا مطلب ہے جس کی بائبل بات کرتی ہے؟

قصور وارٹھہرانا یونانی زبان کے لفظ elencho کا ترجمہ ہے جس کے معنی ہیں "کسی کو سچائی/حق کے متعلق قائل کرنا؛ ملامت کرنا؛موردِ الزام ٹھہرانا؛ تردید کرنا یا جانچ پڑتال کرنا، تفتیش کرنا، جرح کرنا۔" رُوح القدس وکیلِ استغاثہ کے طور پر کام کرتا ہے جو گناہ کو ظاہر کرتا، بدی کے کام کرنے والوں کو ملامت کرتا اور لوگوں کو اِس بات پر قائل کرتا ہے کہ اُنہیں نجات دہندہ کی ضرورت ہے۔

قصور وار ٹھہرایا جانا گناہ کی نفرت انگیزی کے احساس کا تجربہ کرنا ہے۔ اور یہ اُس وقت ہوتا ہے جب ہم خُدا کی خوبصورتی، اُس کی پاکیزگی اور تقدس کو دیکھتے ہیں اور یہ تسلیم کرتے ہیں کہ گناہ کبھی بھی اُس کے ساتھ نہیں رہ سکتا (5زبور4 آیت)۔ جس وقت یسعیاہ خُدا کی حضوری میں کھڑا ہوا تو وہ فوراً ہی اپنی ذات کی گناہ آلودہ حالت کے احساس سے مغلوب ہو گیا۔ "مجھ پر افسوس! مَیں تو برباد ہُؤا! کیونکہ میرے ہونٹ ناپاک ہیں اور نجِس لب لوگوں میں بستا ہُوں کیونکہ میری آنکھوں نے بادشاہ ربُّ الافواج کو دیکھا " (یسعیاہ 6باب5 آیت)۔

قصور وار ٹھہرایا جانا گناہ کی انتہائی خوفناکی کا تجربہ کرنا ہے۔ اُس وقت گناہ کے بارے میں ہمارا رویہ یوسف جیسا ہو جاتا ہے جو یہ چِلاتے ہوئے آزمائش سے بھاگ گیا کہ "مَیں کیوں اَیسی بڑی بدی کرُوں اور خُدا کا گنہگار بنُوں؟ " (پیدایش 39باب9 آیت)۔

ہم اُس وقت گناہ کے بارے میں قصور وار ٹھہرائے جاتے ہیں جب ہمیں اِس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارا گناہ خُدا کی ذات کی کس طرح سے تحقیر کرتا ہے۔ جس وقت رُوح القدس نے داؤد کو گناہ کے بارے میں قصور وار ٹھہرایا تو وہ چِلا اُٹھا کہ "مَیں نے فقط تیرا ہی گُناہ کِیا ہے اور وہ کام کِیا ہے جو تیری نظر میں بُرا ہے " (51 زبور 4 آیت)۔ داؤد نے اپنے گناہ کو بنیادی طور پر مُقدس خُدا کی تحقیر کے طور پر دیکھا۔

ہم اُس وقت گناہ کے بارے میں قصور وار ٹھہرائے جاتے ہیں جب ہم پوری طرح اُس غضب اور قہر سے آگاہ ہوتے ہیں جو گناہ کی وجہ سے ہماری رُوحوں کو لاحق ہوگا (رومیوں 1باب18 آیت؛ رومیوں 2باب5 آیت)۔ جس وقت فلپی کا دروغہ رسولوں کے قدموں میں گر پڑا اور اُس نے کہا کہ "اَے صاحِبو! مَیں کیا کرُوں کہ نجات پاؤں؟ "(اعمال 16باب30 آیت)، تو اُس وقت وہ گناہ کے بارے میں قصور وار ٹھہرایا گیا تھا۔ وہ پُر یقین تھا کہ ایک نجات دہندہ کے بغیر وہ مر جائے گا۔

جب رُوح القدس لوگوں کو اُن کے گناہ کے بارے میں قصور وار ٹھہراتا ہے تو وہ اُس وقت خُدا کی راست عدالت کی نمائندگی کرتا ہے (عبرانیوں 4باب12 آیت)۔ اُس کی طرف سے سنائے جانے والے فیصلے کے خلاف کوئی اپیل نہیں کی جا سکتی۔ رُوح القدس نہ صرف لوگوں کو گناہ کے بارے میں قصور وار ٹھہراتا ہے، بلکہ وہ اُنہیں توبہ کی طرف بھی لاتا ہے (اعمال 17باب30 آیت؛ لوقا 13باب5 آیت)۔ رُوح القدس خُدا کے ساتھ ہمارے تعلق پر روشنی ڈالتا ہے۔ رُوح القدس کی ہمیں قصور وار ٹھہرانے کی قوت گناہ کے بارے میں ہماری آنکھوں کو کھولتی ہے اور خُدا کے فضل کو حاصل کرنے کے لیے ہمارے دِلوں کو کھولتی ہے(افسیوں 2باب8 آیت)۔

ہم گناہ کے بارے میں قصور وار ٹھہرائے جانے کے لیے خُدا کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اِس کے بغیر نجات نہ ہوتی۔ کوئی بھی شخص اُس وقت تک نجات نہیں پاتا جب تک رُوح القدس اُسے گناہ کے بارے میں قصور وار نہ ٹھہرائے اور اُس کے دِل کے اندر نئی پیدایش کا کام نہ کرے۔ بائبل بیان کرتی ہے کہ فطری طور پر ہی سبھی لوگ خُدا کے خلاف بغاوت کرنے اور مسیح سے دشمنی کرنے کا رجحان رکھتے ہیں۔وہ "اپنے قصوروں اورگناہوں کے سبب سے مُردہ " ہیں (افسیوں 2باب1 آیت)۔ خُداوند یسوع نے کہا ہے کہ "کوئی میرے پاس نہیں آ سکتا جب تک باپ جس نے مجھے بھیجا ہے اُسے کھینچ نہ لے " (یوحنا 6باب44 آیت)۔خُداوند یسوع کی طرف "کھینچنے" جانے کا ایک حصہ گناہ کے بارے میں قصور وار ٹھہرایا جانا بھی ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

گناہ کے بارے میں قصوروار ٹھہرایا جانا کیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries