میں مسیحیت میں کیسے آ سکتا ہوں؟



سوال: میں مسیحیت میں کیسے آ سکتا ہوں؟

جواب:
بالکل اِسی طرح کا سوال یونانی شہر کے ایک شخص نے پولوس اور سیلاس سے کیا۔ ہم اِس شخص کے بارے میں کم سے کم تین باتیں جانتے ہیں: وہ داروغہ تھا، وہ بُت پرست تھا، وہ نڈر تھا۔ وہ خود کشی کرنے والا تھا جب پولوس نے اُسے روک دیا۔ تب اُس شخص نے پوچھا، ’’میں کیا کروں کہ نجات پاؤں؟‘‘ (اعال۳۰:۱۶)۔

اُس شخص کے سوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ حقیقت میں جان چُکا تھا کہ اُسے نجات کی ضرورت ہے۔ اُسے صرف موت دکھائی دے رہی تھی، تب اُسے مدد کی ضرورت پیش آئی۔ یہ حقیقت ہے کہ وہ پولوس اور سیلاس سے مدد مانگتا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جان گیا تھا کہ اُن کے پاس اُس کے سوال کا جواب ہے۔

جواب کتنی تیزی اور سادگی سے ملتا ہے ’’خُداوند یسوع مسیح پر ایمان لا تو تُو نجات پائے گا‘‘ (آیت۳۱)۔ عبارت میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ کیسے وہ شخص ایمان لاتا ہے اور مذہب تبدیل کرتا ہے۔ اُس دن کے بعد اُس کی زندگی میں واضح فرق نظر آنے لگتا ہے۔

غور کریں اُس شخص کی تبدیلی کی بنیاد ایمان پر تھی ۔ اُسے یسوع مسیح پر ایمان لانے کے علاوہ اور کچھ نہیں کرنا پڑا۔ وہ شخص ایمان لایا کہ یسوع خُدا کا بیٹا ، اور نوشتوں کو پورا کرنے والا مسیح ہے۔ اُس کے ایمان میں یہ عقیدہ بھی شامل تھا کہ یسوع گناہوں کی خاطر مُوا اور دوبارہ جی اُٹھا، کیونکہ یہی وہ پیغام تھا جس کی منادی پولوس اور سیلاس کر رہے تھے (دیکھیں۔رومیوں۹:۱۰۔۱۰؛۱۔کرنتھیوں۱:۱۵۔۴)۔

تبدیل ہونے کا مطب رُخ موڑ لینا ہے۔جب ہم کسی چیز کی طرف اپنا رُخ کرتے ہیں تو ہم کسی ضرورت کے تحت دوسری چیز سے رُخ موڑتے ہیں۔ جب ہم یسوع کی جانب رُخ کرتے ہیں تو اِس سے مُراد گناہ سے رُخ موڑتے ہیں۔ بائبل ’’توبہ‘‘ کے بارے میں بیان کرتی ہے ۔ جس سے مراد گناہ کے بارے میں ذہن کی تبدیلی، اور یسوع کے بارے میں ذہن کی تبدیلی ہے اور پھر ایمان کے وسیلہ سے یسوع کی جانب پھرنا ہے۔ لہذہ، توبہ اور ایمان تکمیل ہیں۔ توبہ اور ایمان دونوں کی نشاندہی ۱۔تھسلنیکیوں۹:۱ میں کی گئی ہے۔ ’’تم بُتوں سے پھِر کر خُدا کی طرف رجوع لائے‘‘۔ ایک مسیحی مسیحیت کے لیے حقیقی تبدیلی کے نتیجہ میں اپنے سابقہ طور طریقوں اور اپنے جھوٹے مذہب سے نسبت رکھنے والی سب باتیں پیچھے چھوڑ آئے گا۔

مسیحیت میں آنے کے لیے سادگی کے ساتھ آپ کو یہ ایمان لانا ہو گا کہ یسوع خدا کا بیٹا ہے جو آپ کے گناہوں کی خاطر مُوا اورپھر جی اُٹھا۔ آپ کو خُدا کے ساتھ اتفاق کرنا ہو گا کہ آپ گنہگار ہیں اور آپ کو نجات کی ضرورت ہے۔ اور آپ کو صرف یسوع پر بھروسہ کرنا ہو گاکہ وہ آپ کو بچائے گا۔ جب آپ یہ کریں گے، خُدا آپ کے ساتھ نجات کا وعدہ کرے گا اور آپ کو پاک روح بخشے گا، جو آپ کو نیا مخلوق بنا دے گا۔

مسیحیت اپنی اصل شکل میں مذہب نہیں ہے۔ مسیحیت بائبل کے مطابق یسوع مسیح کے ساتھ تعلق کا نام ہے۔ مسیحیت نجات کے لیے خُدا کی پیشکش ہے جو اُن لوگوں کے لیے جو یسوع مسیح کی صلیبی موت اور قربانی پر ایمان لاتے ہیں۔ ایک شخص جو مسیحیت میں آتا ہے ایک مذہب کو چھوڑ کر دوسرے مذہب میں نہیں آ تا۔ مسیحیت میں آنا اُس تحفہ کو قبول کرنا ہے جس کی پیشکش خُدا کرتا ہے اور جس کا آغاز یسوع مسیح کے ساتھ ذاتی تعلق سے ہوتا ہے ، جس کا نتیجہ گناہوں کی معافی اور موت کے بعد فردوس میں ابدی زندگی ہوتا ہے۔

کیا آپ اِس مضمون کو پڑھ کر مسیحیت میں آنا چاہتے ہیں؟ اگر آپ کا جواب ہاں ہے تویہاں ایک سادہ سی دُعا ہے جو آپ خُدا سے کر سکتے ہیں۔ اِس دُعا کو یا کسی اور دُعا کو دہرانے سے آپ کو نجات نہیں ملے گی۔ یہ صرف مسیح پر ایمان ہی ہے جو آپ کو گناہ سے نجات دے سکتا ہے۔ یہ دُعا خُدا سے آپ کے ایمان کا سادہ سا اظہار ہے کہ آپ اپنی نجات کی فراہمی کے لیے اُس کے شکر گزار ہیں ۔ ’’خُدا، میں جانتا ہوں کہ میں نے تیرے خلاف گناہ کیا ہے اور سزا کا مستحق ہوں۔ لیکن یسوع نے اُس سزا کو اپنے اوپر لے لیا جس کا اصل حق دار میں تھا تاکہ اُس پر ایمان لانے سے میرے گناہ معاف کیے جائیں۔ میں نجات کے لیے تُجھ پر ایمان لاتا ہوں۔ قابلِ تعریف فضل اور معافی کے لیے اور ابدی زندگی کے تحفہ کے لیے آپ کابہت شکریہ۔آمین‘‘۔

جو بھی کچھ آپ نے یہاں پڑھا ہے اس کی بنیاد پر کیا آپ نے مسیح کے لئے فیصلہ لیا ہے؟ اگر آپکا جواب ہاں میں ہے تو برائے مہربانی اس جگہ پر کلک کریں جہاں لکھا ہے کہ آج میں نے مسیح کو قبول کر لیا ہے۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



میں مسیحیت میں کیسے آ سکتا ہوں؟