settings icon
share icon
سوال

دھیان و گیانیت پر مبنی دُعا کیا ہے؟

جواب


سب سے پہلے" دھیان وگیانیت پر مبنی دُعا " کی وضاحت کرنا ضروری ہے ۔ دھیان و گیانیت پر مبنی دُعاسے مرادمحض "دُعا کے دوران سوچ وبچار کرنا نہیں ہے"۔ بائبل ہمیں ہدایت کرتی ہے کہ ہم دُعا میں اپنی عقلوں کو بھی استعمال کریں (1کرنتھیوں 14باب 15آیت) ۔لہذا یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ دُعا میں دھیان گیان کا عمل بھی شامل ہے ۔ تاہم عقل سے دُعا کرنے کا مطلب دھیان و گیانیت پرمبنی دعا کرنا نہیں ہے ۔ نئی اُبھرنے والی کلیسیائی تحریک کے ظہور کے ساتھ دھیان و گیانیت پر مبنی دُعا کی مشق اور مقبولیت میں آہستہ آہستہ اضافہ ہو چُکا ہے ۔ یہ تحریک بہت سے غیر بائبلی نظریات اور رسومات کو مانتی ہے اور دھیان وگیانیت پر مبنی دعاکرنا اُن رسومات میں سے ایک ہے ۔

دھیان وگیان پر مبنی دعا کی مشق کا آغاز ایک "مرکزی دُعا " سے ہوتا ہے جو ایک مستغرق عمل ہے جس میں دُعا کرنے والا شخص ایک لفظ پر توجہ مرکوز کرتا ہے اور اِس عمل کے دوران اُس مخصوص لفظ کو بار بار دہراتا ہے۔اِس مشق کا مقصد اپنے ذہن کو دوسری فکروں سے خالی کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ شخص خدا کی آواز کو اور زیادہ آسانی سے سُن سکے ۔ اگرچہ مختلف گروہوں میں دھیان وگیا نیت پر مبنی دعا کی مشق مختلف طریقوں سے کی جاتی ہے لیکن اِن میں کچھ مماثلت بھی پائی جاتی ہیں۔ دھیان و گیانیت پر مبنی دعا کی مشق میں عام طور پر آنکھیں بند کر کے مختصر وقت کے لئےآرام اور خاموشی سے بیٹھنا ، براہ راست طور پر خدا کی طرف سے سُننے کی کوشش کرنا اور اُس کی موجودگی کو محسوس کرنا شامل ہوتا ہے ۔

گوکہ یہ ایک درست اور مناسب عمل معلوم ہو سکتا ہے لیکن اِس قسم کی دُعائیہ مشق کو بائبل کی کوئی حمایت حاصل نہیں ہے۔ اصل میں یہ بائبل میں بیان کردہ دُعا کے طریقے کے بالکل برعکس ہے۔" کسی بات کی فِکر نہ کرو بلکہ ہر ایک بات میں تمہاری درخواستیں دُعا اور مِنت کے وسیلہ سے شکرگزاری کے ساتھ خُدا کے سامنے پیش کی جائیں"(فلپیوں 4 باب 6آیت)۔ "اُس دِن تم مجھ سے کچھ نہ پُوچھو گے۔ مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اگر باپ سےکچھ مانگو گے تو وہ میرے نام سے تم کو دے گا۔ اب تک تم نے میرے نام سے کچھ نہیں مانگا۔ مانگو تو پاؤ گے تاکہ تمہاری خوشی پُوری ہو جائے" (یوحنا باب 16باب 23-24آیات)۔ اِن جیسی دیگر آیات واضح طور پر بیان کرتی ہیں کہ دُعا محض مخفی اور پوشیدہ سوچ بچار کرنا نہیں بلکہ یہ خُدا کے ساتھ قابلِ فہم گفتگو کی تصویر کشی ہے ۔

مقصد کے اعتبار سے دیکھا جائے تو دھیان و گیانیت پر مبنی دعا کا عمل خُدا کے ساتھ پوشیدہ تجربہ رکھنے پر توجہ دیتا ہے ۔ تاہم تصوف خالصاً ذہنی عمل ہے اور حقیقت یا سچائی پر بھروسہ نہیں کرتا۔ اِس کے برعکس خدا کا کلام ہمیں اِس مقصد کےلیے دیا گیا ہے کہ ہم اپنے ایمان اور اپنی زندگیوں کو سچائی پر قائم کریں (2تیمتھیس 3باب 16- 17 آیات)۔ ہم خدا کے بارے میں جو کچھ جانتے ہیں وہ حقیقت پر مبنی ہے۔ لہذا بائبل کی تعلیمات کی بجائے تجرباتی علم کو ترجیح دینا کسی بھی شخص کو بائبل کے معیار سے باہر کر دیتا ہے۔

دھیان و گیانیت پر مبنی دُعامشرقی مذاہب اور نئے دور کی بدعات میں استعمال ہونے والی متفکر مشقوں (چِلّوں، وِردوں)سے مختلف نہیں ہے۔ اِس مشق کے نمایاں حامی ا ِس نظریے کو فروغ دیتےہیں کہ نجات بہت سے اور طریقوں سے بھی حاصل کی جاتی ہے اور اِس وجہ سے وہ تمام مذاہب کے پیروکاروں میں پائی جانے والی رُوحانیت کو قبول کر لیتے ہیں جبکہ اِس کے برعکس مسیح نے خود بیان کیا ہے کہ نجات صرف اُس کے وسیلہ سے ہے (یوحنا 14 باب 6آیت)۔ جدید دُعائیہ تحریک میں استعمال ہونے والی دھیان وگیانیت پر مبنی دُعا کی مشق بائبلی مسیحیت کے بالکل خلاف ہے اور یقیناً اِس سے بچنا چاہیے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

دھیان و گیانیت پر مبنی دُعا کیا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries