settings icon
share icon
سوال

ضمیر کیا ہے؟

جواب


بائبل کے انگریزی ترجمے میں استعمال ہونے والے لفظ conscience بمعنی" ضمیر، دل اور رُوح " کے لیے اُردو ترجمے میں زیادہ تر " دل، نیک نیتی اور رُوح" جیسی اصطلاحات کو استعمال کیاگیا ہے ۔ ضمیر کی تعریف انسانی نفسیات کے اُس حصے کے طور کی جاتی ہے جواُس کے اصولوں اور اقدار کی خلاف ورزی کی صورت میں ذہنی اذیت اور احساسِ جرم کو جنم دیتا ہے، جبکہ اقدار کے نظام کے مطابق زندگی گزارنے کی صورت میں خوشی اور بہتری کے احساسات مہیا کرتا ہے ۔ نئے عہد نامے کے تمام حوالہ جات میں جس یونانی لفظ کا ترجمہ " conscience "(ضمیر ) کیا گیا ہے وہ لفظ "suneidēsis "سنائیدیسس ہے جس کا مطلب " اخلاقی آگاہی " یا " اخلاقی شعور" ہے ۔ جب کسی شخص کے اعمال ، خیالات اور الفاظ صحیح اور غلط کے معیار کے مطابق یا اس کے خلاف ہوتے ہیں تو ضمیر اُس کے مطابق ردّ عمل کا اظہار کرتا ہے ۔

نئے عہد نامے کےیونانی لفظ سنائیدیسس کے لیے پرانے عہد نامے میں کوئی عبرانی مترادف نہیں ہے ۔ " ضمیر" کےلیے عبرانی لفظ کی عدم موجودگی یہودی نظریہ حیات کی وجہ سے ہو سکتی ہے جو کہ انفرادی نظریے کی بجائے اجتماعی نظریہ تھا ۔ محض ایک منفرد شخصیت کی بجائے ایک عبرانی خود کو ایک عہد پر مبنی برادری کا رکن خیال کرتا تھا جس کا تعلق مجموعی طور پر خدا اور اُس کی شریعت سے تھا۔ دوسرے الفاظ میں اگر تمام عبرانی قوم کے ساتھ اس کی اچھی رفاقت ہوتی ہے تو ایک عبرانی خدا کے حضور اپنی حیثیت پر پُر اعتماد ہوتا ہے ۔

نئے عہد نامے میں ضمیر کا تصور زیادہ انفرادی اور شخصی ہے اور اس تصور میں تین بڑے حقائق شامل ہیں ۔ پہلا ، ضمیر انسانوں کو خدا کی طرف سے بخشی گئی وہ صلاحیت ہے جس کا مقصد خود شناسی کا کام کرنا ہے ۔ پولس رسول اپنے ضمیر/دل کے " نیک " یا " صاف" ہونے کا متعدد بار ذکر کرتا ہے (اعمال 23باب 1آیت؛ 24باب 16آیت؛ 1کرنتھیوں 4باب 4آیت)۔ پولس رسول اپنے الفاظ کی جانچ پڑتا ل کرتا اور اُنہیں اپنے اخلاق اور اقدار کے نظام کے مطابق پاتا ہے جو کہ یقیناً خدا کے اُصولوں پر مبنی ہیں ۔ اُس کا ضمیر اُس کے دل کی راست بازی کی تصدیق کرتا ہے ۔

دوسرے نمبر پر نیا عہد نامہ ضمیر کو کسی چیز کے گواہ کے طور پر پیش کرتا ہے ۔ پولس رسول کہتا ہے کہ اگرچہ غیر اقوام کے پاس موسوی شریعت نہیں ہے مگر اُن کے ضمیر اُن کے دلوں پر خد ا کے قوانین لکھے ہوئے ہونے کی گواہی دیتے ہیں ( رومیوں 2باب 14-15آیات)۔ بطور گواہ وہ اپنے ضمیر کی گواہی بھی شامل کرتا ہے کہ وہ سچ بولتا ہے (رومیوں 9باب 1آیت) اور یہ بھی کہ اُس نے ایمانداروں کے ساتھ معاملا ت کو " ایسی پاکیزگی اور صفائی" کیساتھ سر انجام دیا ہے " جو خدا کے لائق" ہے ( 2کرنتھیوں 1باب 12آیت)۔ وہ یہ بھی بیان کرتا ہے کہ اُس کا ضمیر اُس کے اعمال کا نہ صرف خدا کے سامنے بلکہ دوسرے لوگوں کے ضمیر وں کی گواہی کے مطابق درست ہونے کا اظہار کرتا ہے ( 2کرنتھیوں 5باب 11آیت)۔

تیسرے نمبر پر ضمیر کسی شخص کی اقدار کا خادم ہے ۔ غیر پختہ یا کمزور اقدار کمزور ضمیر کو جنم دیتی ہیں جبکہ پوری طرح باشعور اقدار کا نظام صحیح اور غلط کا گہرا احساس پیدا کرتا ہے ۔ مسیحی زندگی میں کسی شخص کا ضمیر کلام ِ مقدس کی غیر درست سمجھ سے متاثر ہو سکتا اور شرم اور جرم کے ایسے احساسات پیدا کر سکتا ہے جو درپیش معاملات سے ہم آہنگ نہیں ہوتے ۔

پولس رسول بتوں کی قربانیاں کھانے کے متعلق اپنی ہدایات میں ضمیر کے آخری کام کےمتعلق بات کرتا ہے ۔ وہ واضح کرتا ہے کہ چونکہ بُت حقیقی خدا نہیں ہیں لہذا اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ آیا کھانے کو اُن کے سامنے قربانی کے طور پر پیش کیا گیا ہے یا نہیں ۔ لیکن کرنتھس کی کلیسیا کے کچھ ایماندار اپنی سمجھ بوجھ میں غیر پختہ ہونے کے باعث یہ مانتے تھے کہ ایسے دیوتا حقیقی وجود رکھتے ہیں ۔ ایسے غیر پختہ ایماندار دیوتاؤں کے لیے پیش کردہ قربانیوں میں سے کھانے کے تصور سے خوفزدہ تھےکیونکہ اُن کے ضمیروں کو غلط تعصبات اور توہم ترستی کے نظریات سے آگاہ کیا گیا تھا ۔ لہذا پولس رسول پختہ سمجھ کے حامل ایمانداروں کو نصیحت کرتا ہے کہ اگر اُن کے غیر پختہ سمجھ کے حامل بھائیوں کا ضمیر اُن کے کسی طرح کے اعمال کی وجہ سے ٹھوکر کھاتا ہے تو اُس صورت میں وہ اپنے کھانے کی آزادی کا استعمال نہ کریں ۔ یہاں سبق یہ ہے کہ اگر پختہ ایمان اور سمجھ کی وجہ سے ہمارا ضمیر صاف ہے تو ہم ایسی آزادی جو پختہ ضمیر کے نیتجے میں ہوتی ہے کو استعما ل کرنے کے باعث کمزور ضمیر والوں کےلیے ٹھوکر کھلانے کا سبب نہ بنیں ۔

نئے عہد نامے میں ایک اور حوالہ اُس ضمیر کے بارے میں ذکر کرتا ہے جو " برگشتہ" یا بے حس ضمیر ہے ایسا کہ گویا اُسے "گرم لوہے سے داغا گیا ہو " (1تیمتھیس 4باب 1-2آیات)۔ اس طرح کا ضمیر سخت اور بے حس ہو چکا ہوتا ہے اور اب اُسے کچھ محسوس نہیں ہوتا ۔ برگشتہ ضمیر کا حامل شخص مزید اپنے دل کی نہیں سُنتا اور وہ بناء پچھتاوے کے گناہ کر سکتا ہے اور خود کو اس سوچ کے ساتھ گمراہ کر سکتا ہے کہ جو کچھ وہ کرتا ہے وہ سب ہی درست ہے ۔ اور اِس وجہ سے وہ دوسروں سے بے حسی اور بے رحمی سے پیش آتا ہے ۔

بطور مسیحی ہمیں خدا کی فرمانبرداری کرنے اور اُس کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کے وسیلہ سے اپنے ضمیر کو صاف رکھنا چاہیے ۔ اور ہم اُس کے کلام کا اپنی زندگیوں پر اطلاق کرنے اور اپنے دلوں کو نیا اور نرم بنانےکے وسیلہ سے ایسا کرتے ہیں۔ ہم غیر پختہ ضمیر کے حامل ایمانداروں کے ساتھ مسیحی محبت اور شفقت کے ساتھ پیش آتے ہوئے اُن کا خیال رکھ سکتے ہیں ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

ضمیر کیا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries