settings icon
share icon
سوال

بائبل مُقدس تنازعات کو حل کرنے کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟

جواب


مسیح کے بدن میں پائے جانے والے تنازعات کا حل کئی ایک وجوہات کی بناء پر انتہائی اہم ہے۔ تنازعے کو حل کرنے کی کوشش نہ کرتے ہوئے اُس سے گریز کرنادراصل مناسب رَد عمل کو التواء میں ڈالتا اور مسئلے کو بڑھا دیتا ہے کیونکہ وہ تنازعات جن کو حل نہیں کیا جاتا مسلسل طور پر بڑھتے رہتے ہیں اور مسیح کے بدن پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ تنازعا ت کے حل کا مقصد اتحاد ہے اور کلیسیا میں اتحاد شیطان کے لیے خطر ہ ہے جو کہ حل نہ ہونے والے مسائل سے فائدہ اُٹھانے کے لیے ہر ایک موقع کو استعمال کرتا ہے، بالخصوص غصے، تلخی، خودترسی اور حسد سے متعلق مسائل کو ۔ ایسے جذبات کلیسیا کے زیادہ تر تنازعات میں شامل ہوتے ہیں۔ کلامِ مُقدس ہمیں کہتا ہے کہ "ہر طرح کی تلخ مزاجی اور قہر اور غُصّہ اور شور و غل اور بدگوئی ہر قسم کی بدخواہی سمیت تم سے دُور کی جائیں " (افسیوں 4باب31 آیت)۔ اِس حکم کی تعمیل میں ناکامی کے نتیجے میں مسیح کے بدن کے اندر تقسیم ہوتی ہے اور رُوح القدس رنجیدہ ہوتا ہے۔ ہمیں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہم میں کوئی "کڑوی جڑ" نہ پھوٹ نکلے (عبرانیوں 12باب15 آیت)جس سے دُکھ اور ناپاکی پیدا ہو۔ بڑے واضح طور پر تنازعات کو حل کرنے کے لیے ایک بائبلی طریقہ کار کی ضرورت ہے۔

نئے عہد نامے میں ایمانداروں کو کئی ایک ایسے احکامات دئیے گئے ہیں جو مل جل کر رہنے کی ہدایت پیش کرتے ہیں۔ ہمیں بار بار ایک دوسرے سے محبت رکھنے (یوحنا 13باب34 آیت؛ رومیوں 12باب10 آیت)، یکدل رہنے اور سب کے ساتھ میل ملاپ رکھنے(رومیوں 15باب5 آیت؛ عبرانیوں 12باب14 آیت)، آپس میں اپنے اختلافات کو حل کرنے (2 کرنتھیوں 13باب11 آیت)، ایک دوسرے کے ساتھ صبر، مہربانی اور نرم دِلی کے ساتھ رہنے (1 کرنتھیوں 13باب 4 آیت)، دوسرے کو اپنے سے بہتر جاننے(فلپیوں 2باب3 آیت)، ایک دوسرے کا بوجھ اُٹھانے (افسیوں 4باب2 آیت) اور سچائی پر خوش ہونے(1 کرنتھیوں 13باب6 آیت) کی ہدایت کی گئی ہے۔ تنازعات کلامِ مُقدس میں بیان کردہ مسیحی طرزِ عمل کی ضد ہیں۔

بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ صلح کی تمام کوششوں کے باوجود مختلف مسائل ہماری کلیسیا کے اندر تنازعات کو حل کرنے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ نئے عہد نامے میں دو مقامات ایسے ہیں جو واضح اور غیر مبہم طور پر ایسے تنازعات کے حل سے نمٹتے ہیں جہاں پر گناہ شامل تھا۔ متی 18باب15-17 آیات میں خُداوند یسوع ایک گناہ کرنے والے بھائی سے نمٹنے کے اقدامات بیان کرتا ہے۔ اِس حوالے کے مطابق ایک آشکار گناہ سے متعلق تنازعے کی صورت میں ہمیں اِسے شخصی طور پر ملکر حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر یہ پھر بھی حل نہیں ہوتا تو پھر اِسے بزرگوں کے ایک چھوٹے گروہ میں لے کر جانا چاہیے۔ اگر یہ پھر بھی حل نہیں ہوتا تو پھر اِسے پوری کلیسیا کے سامنے لیکر جانا چاہیے۔

دوسرا حوالہ جہاں پر اِس بارے میں واضح طور پر توجہ دی گئی ہے وہ لوقا 17 باب 3-4 آیات ہیں جہاں پر خُداوند یسوع کہتا ہے کہ "خبردار رہو! اگر تیرا بھائی گُناہ کرے تو اُسے ملامت کر ۔ اگر تَوبہ کرے تو اُسے مُعاف کر۔اور اگر وہ ایک دِن میں سات دفعہ تیرا گُناہ کرے اور ساتوں دفعہ تیرے پاس پِھر آ کر کہے کہ تَوبہ کرتا ہُوں تو اُسے مُعاف کر۔ " تنازعات کے حل کا ایک لازمی حصہ معافی ہے۔ کسی بھی قسم کے تادیبی طریقہ کار کا حتمی مقصد ہمیشہ گناہ کرنے والے شخص کو بحال کرنا ہونا چاہیے۔

بعض اوقات تنازعے کا تعلق طرزِترجیح یا شخصیت کے تصادم کے ساتھ اُتنا ہی ہوتا ہے جتنا کہ اِس کا تعلق گناہ کے ساتھ ہوتا ہے۔ ایسے معاملات میں اگر ہم اپنے مقاصد کی جانچ پڑتال کرتے ہیں اور یہ یاد رکھتے ہیں کہ "تفرقے اور بے جا فخر کے باعث کُچھ نہ (کریں)بلکہ فروتنی سے ایک دُوسرے کو اپنے سے بہترسمجھے " (فلپیوں 2باب3-4 آیات)۔ اگر ہم کسی کے ساتھ طرزی ترجیحات-جیسے کہ خدمت میں کسی مخصوص مقصد کو کس طرح حاصل کرنا ہے ، خدمت کے کسی خاص مقصد کو حاصل کرنے کا بہترین طریقہ کیا ہے، کلیسیائی بجٹ، ہماری کلیسیائی عبادت کیسے چلنی چاہیے وغیرہ – پر حقیقی اختلاف رکھتے بھی ہیں تو بھی ہمیں باہمی طور پر بات چیت کرنی چاہیے اور باہمی اتفاقِ رائے پر آنا چاہیے۔ فلپیوں 4باب2-3 آیات کے اندر پولس پولس یوؤدیہ اور سُنتخے سے التماس کرتے ہوئے نصیحت کرتا اور کہتا ہے کہ وہ "خُداوند میں یک دِل رہیں۔" اور باقی ہمخدمتوں سے کہتا ہے کہ وہ اُن کی مدد کریں ۔ہمیں ایک دوسرے کو سننے کے لیے اپنے آپ کو عاجز کرنے اور مسیح کے بدن میں امن اور سلامتی کے لیے کوشش کرنی چاہیے (رومیوں 12باب16، 18 آیات)۔ ہمیں خُدا کی حکمت اور رہنمائی کی بھی تلاش کرنی چاہیے (یعقوب 1باب5 آیت)۔ یہ سچ ہے کہ بعض اوقات اِس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ خُدا نے ہمیں مختلف بلاہٹیں دی ہیں ہمیں دوسروں سے اپنی راہوں کو الگ کر لینا چاہیے۔ لیکن ہمیں اپنی پوری کوشش کرنی چاہیے کہ کبھی بھی علیحدگی کے وقت غصے اور لڑائی کو عمل میں نہ لائیں۔

تنازعات کو حل کرنا اکثر مشکل اِس وجہ سے ہوتا ہے کہ ہم خود کو تکلیف دہ حالات میں رکھنے سے ہچکچاتے ہیں۔ بہت دفعہ ہم اِس بات کو تسلیم کرنے کے لیے بھی خود کو حلیم نہیں کرتے کہ ہم غلط ہو سکتے ہیں یا اگر ہم غلط تھے تو اُس کی اصلاح کی جا سکے۔ جو لوگ بہتر طور پر تنازعات کا حل کرتے ہیں وہ اکثر ایسے لوگ ہوتے ہیں جو دوسروں پر اُن کے گناہوں کا بار بار ظاہر کرنا نا پسند کرتے ہیں، اور وہ ایسا خُدا کی اطاعت و فرمانبرداری کی وجہ سے کرتے ہیں۔ اگر کوئی مسئلہ نسبتاًمعمولی ہے تو سب سے بہتر کام یہ ہو سکتا ہے کہ برداشت کرتے ہوئے جرم کو نظر کیا جائے (امثال 19باب11 آیت)۔ اگر اُسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تو پھر اُس کے تعلق سے مفاہمت اور صلح کے لیے چارہ جوئی کی جانی چاہیے۔ یہ خُدا کے نزدیک اِس قدر اہم معاملہ ہے کہ خُدا کے ساتھ صلح دوسرے لوگوں کے ساتھ صلح سے جڑی ہوئی ہے (متی 5باب 23-24 آیات)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل مُقدس تنازعات کو حل کرنے کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries