ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار کرنے کی کیا ضرورت ہے اگر یہ پہلے ہی معاف ہو چُکے ہیں (1یوحنا 1:9)؟


سوال: ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار کرنے کی کیا ضرورت ہے اگر یہ پہلے ہی معاف ہو چُکے ہیں (1یوحنا 1:9)؟

جواب:
پولُس رسول لکھتا ہے، "تاکہ اُس کے فضل کے جلال کی ستایش ہو جو ہمیں اُس عزیز میں مُفت بخشا۔ ہم کو اُس میں اُسکے خون کے وسیلہ سے مخلصی کی دولت کے مُوافق حاصل ہے۔ جو اُس نے ہر طرح کی حکمت اور دانائی کے ساتھ کثرت سے ہم پر نازِل کیا" (افسیوں 1:6-8)۔ یہ معافی نجات کو ظاہر کر رہی ہے، جس میں خُدا نے ہمارے گناہ اُٹھا لئے اور ہماری خطائیں ہم سے "اتنی دُور کر دیں جس طرح پورب پچھم سے دُور ہے" (زبور 103:12)۔ یہ عدالتی معافی ہے جو خُدا ہمیں یسوع مسیح کو نجات دہندہ کے طور پر قبول کرنے پر عنائت کرتا ہے۔ عدالتی بنیاد پر ہمارے ماضی، حال، اور مستقبل کے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ہم اپنے گناہوں کی ابدی سزا حاصل نہیں کریں گے۔ زمین پر رہتے ہوئے ہم ابھی تک گناہ کے نتائج برداشت کر رہے ہیں، جس سے کچھ سوال پیدا ہوتے ہیں۔

افسیوں 1:6-8 اور 1یوحنا 1:9 کے درمیان فرق یہ ہے کہ یوحنا "رِِیلیشنل/نسبتی" یا "خاندانی" معافی کی بات کر رہا ہے جیسا کہ باپ اور بیٹے کے تعلق میں معافی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ایک بیٹا اپنے باپ کے ساتھ اُس کی توقعات کو مجروح کر کے یا اصولوں کو توڑ کر کچھ غلط کرتا ہے، تو بیٹا اپنے باپ کے ساتھ رفاقت میں رکاوٹ پیدا کر دیتا ہے۔ وہ اپنے باپ کا بیٹا ہی رہتا ہے،لیکن تعلقات میں خرابی آ جاتی ہے۔ اُن کی رفاقت میں تب تک رکاوٹ قائم رہے گی جب تک کہ بیٹا تسلیم کرتا ہے کہ اُس نے غلط کیا ہے۔ یہی طریقہ خُدا اور انسان کے درمیان بھی چلتا ہے۔ ہماری خُدا کے ساتھ رفاقت میں تب تک رکاوٹ رہتی ہے جب تک ہم اپنے گناہ کا اقرار کرتے ہیں۔ جب ہم اپنے گناہوں کا اقرار خُدا کے سامنے کرتے ہیں، تو رفاقت بحال ہو جاتی ہے۔ یہ رِیلیشنل /نسبتی معافی ہے۔

"پوزیشنل/حالتی" معافی ، یا عدالتی معافی وہ ہے جو مسیح میں ہر ایماندار حاصل کرتا ہے۔ مسیح کے بدن کے فرد کے طور پر اپنی پوزیشن/حالت میں، ہمارے تمام گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں جو ہم نے کئے تھے یا کبھی کریں گے۔مسیح نےصلیب پر ہمارے گناہوں کی قیمت ادا کی، جس نے ہمارے خلاف خُدا کے غضب کو مطمئن کر دیا، اور اب مزید کسی قربانی یا قیمت کی ضرورت نہیں رہی۔ جب مسیح نے کہا، "تمام ہوا" تو اُس کا یہی مطلب تھا۔ ہمیں پوزیشنل/حالتی معافی اُسی وقت حاصل ہو گئی تھی۔

گناہوں کا اقرار خُداوند کی تنبیہ سے بچنے میں ہماری مددکرتا ہے۔ اگر ہم گناہوں کا اقرار کرنے میں ناکام ہوتے ہیں، تو خُداوند کی تنبیہ یقینی ہے جب تک کہ ہم اقرار نہ کر لیں۔ جیسا کہ پہلے بیان کر چکے ہیں، ہمارے گناہ نجات کے وقت بخشے جاتے ہیں (پوزیشنل/حالتی معافی)، لیکن خُدا کے ساتھ ہماری روزمرہ کی رفاقت کو قائم رہنے کے لئے اچھی حالت کی ضرورت ہے (رِیلیشنل/نسبتی معافی)۔ خُدا کے ساتھ مناسب رفاقت ہماری زندگیوں میں گناہوں کے اقرار کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ اِس لئے ضرورت ہے کہ خُدا کے ساتھ قریبی رفاقت کو برقرار رکھنے کے لئے ہمیں جب بھی آگاہی ہو کہ ہم نے گناہ کر دیا ہے فوراً اپنے گناہوں کا اقرار خُداوند کے سامنے کریں۔

English
اردو ہوم پیج میں واپسی
ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار کرنے کی کیا ضرورت ہے اگر یہ پہلے ہی معاف ہو چُکے ہیں (1یوحنا 1:9)؟