settings icon
share icon
سوال

کیا اپنے کسی قریبی رشتے دار کے ساتھ رومانوی تعلق رکھنا غلط ہے؟

جواب


وہ رشتے جن کے ساتھ رومانوی تعلقات رکھنے سے خُدا نے پرانے عہد نامے میں منع کیا تھا اُنکی فہرست احبار 18باب 6-8آیات کے اندر پیش کی گئی ہے۔ اُس حوالے کے اندر اسرائیل کو زنائے محرم (کسی قریبی رشتہ دار کے بدن کو بے پردہ کرنے )سے منع کیا گیا جو کہ ناپاک/آلودہ کرنے والا گناہ ہے (احبار 18باب24آیت)۔ شریعت کے اندر اُن رشتوں کو بیان کیا گیا ہے جن میں سے کسی کے بدن کو بے پردہ کرنا یعنی زنائے محرم کرنا گناہ قرار دیا گیا ہے۔ اسرائیلی مرد کے لیے یہ حکم تھا کہ وہ ذیل میں بیان کردہ رشتوں کے ساتھ شادی یا زنا نہ کرے:

اپنی ماں

اپنی سوتیلی ماں

اپنی رضائی بہن یا سوتیلی بہن

اپنی پوتی یا نواسی

اپنی پھوپھیاں اور خالائیں

اپنی بہو

اپنی بیوی کے جیتے جی (اور بغیر ازدواجی رشتے کے) اپنی سالی (احبار 18باب18آیت)

یہ دلچسپ بات ہے کہ کزنوں کے درمیان شادی کی بائبل میں کہیں پر بھی ممانعت نہیں کی گئی۔ لیکن مندرجہ بالا رشتوں کے ساتھ ایسا کوئی تعلق رکھنا غیر اخلاقی اور گناہ قرار دیا گیا ہے۔

شریعت کے دئیے جانے سے پہلے انسانیت کے ابتدائی دور میں قریبی رشتے داروں کے درمیان شادیوں کی ضرورت تھی کیونکہ انسانوں کی محدود تعداد زمین پر موجود تھی۔ آدم اور حوؔا کے بچّوں نے ضرورت کے تحت اپنے ہی بہن بھائیوں کیساتھ شادیاں کی ہونگی۔ حتیٰ کہ اُن دِنوں میں بھی والدین اور بچّوں کے درمیان شادی کی اجازت نہیں تھی جیسا کہ پیدایش 2باب24آیت بیان کرتی ہے کہ "اِس واسطے مَرد اپنے ماں باپ کو چھوڑے گا اور اپنی بیوی سے مِلا رہے گا اور وہ ایک تن ہوں گے۔" ایک مَرد کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنی ماں کو چھوڑ کر چلا جائے نہ کہ اُس کے ساتھ شادی کرے۔

جب انسانوں کی تعداد اِس زمین پر بہت زیادہ بڑھ گئی تو پھر انسانوں کو اپنے قریبی رشتے داروں میں شادیاں کرنے کی ضرورت نہ رہی۔ انسانیت کے ابتدائی دِنوں میں انسانوں کے جینیاتی کوڈ اِس قدر مسائل کا شکار نہیں ہوئے تھے جس حد تک یہ آج خراب ہو چکے ہیں۔ اِس لیے آجکل قریبی رشتے داروں میں شادیاں جینیاتی بد اطواری کی وجہ سے آئندہ نسل کے اندر کئی ایک مسائل کو جنم دینے کا باعث بنتی ہے۔ جب انسانی نسل بہت زیادہ بڑھ گئی، اور انسان کے گناہ کی وجہ سے جینیاتی کوڈ میں پائے جانے والے مسائل بڑھتے چلے گئے تو خُدا نے قریبی رشتے داروں میں شادیاں کرنے سے منع کر دیا۔

ماموں زاد، پھپھو زاد اور خالہ زاد کیساتھ یا دور کے رشتے داروں میں شادی کرنے میں کچھ بھی بُرا نہیں ہے۔ لیکن کچھ دیگر ایسی چیزیں ہیں جن کو دھیان میں رکھنے کی ضرورت ہے۔ دُنیا میں بہت ساری ایسی جگہیں ہیں جیسے کہ امریکہ اور یورپ کے کئی علاقے جہاں پر اپنے کزنوں سے شادی کرنے کی قانونی طور پر کوئی اجازت نہیں ہےاور بائبل ہمیں حکم دیتی ہے کہ ہم جہاں کہیں پر بھی رہیں وہاں کی حکومتوں اور اعلیٰ عہدیداران کے تابع رہیں (رومیوں 13باب1-6آیات)۔

اگرچہ مسیحی ابھی موسوی شریعت کے ماتحت نہیں ہیں لیکن اخلاقی اصول و قوانین ابھی بھی اپنی جگہ پر قائم ہیں۔ اِس کا مطلب ہے کہ وہ تمام رشتے جن کا ذکر احبار 18 باب میں ہوا ہے اُن کے ساتھ رومانوی تعلقات قائم کرنا ، شادی کرنا یا زنائے محرم کا مرتکب ہونا غیر اخلاقی بھی ہے اورغلط بھی ہے۔ کسی کو اپنے بہن بھائیوں کےساتھ شادی نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی اپنے سوتیلے والدین میں سے کسی کے ساتھ۔ اِس فہرست میں سالی سے شادی کرنے کی اجازت ہے وہ بھی اُس صورت میں اگر کسی کی بیوی وفات پا جائے ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا اپنے کسی قریبی رشتے دار کے ساتھ رومانوی تعلق رکھنا غلط ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries