settings icon
share icon
سوال

ایک مسیحی کو موحولیاتی تبدیلی کو کس نظر سے دیکھنا چاہیے ؟

جواب


یہ ایک غور طلب بات ہے کہ نظریہ ِ ماحولیات کے نعرے کے طور پر " ماحولیاتی تبدیلی " کی اصطلاح کس طرح " گلوبل وارمنگ " (زمین کے گرم ہونے سے متعلقہ ایک نظریہ جس کے مطابق گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی وجہ سے زمین کے درجہ حرارت میں روزبروز اضافہ ہورہا ہے) کی اصطلاح کی جگہ لے رہی ہے ۔ کچھ سائنس دان/موسمیاتی ماہرین اس بارے میں پُر یقین ہیں کہ انسانی سرگرمیاں بنیادی طور پر گرین ہاؤس گیسوں (ایسی گیسیں جوزمینی کرّہ ہوائی میں حرارت یا لمبی شعاعوں کی لہروں کو قید کرتی ہیں۔) کا اخراج ماحول کو متاثر کر رہا ہے۔ تاہم وہ اس بارے میں پُر یقین نہیں ہیں کہ اس کا حتمی نتیجہ کیا ہوگا۔ چند ایک دہائیاں پہلے ہم انسانوں کو "گلوبل کولنگ"(اوسط درجہ حرارت میں کمی کی صورت میں عالمی موسمیاتی تبدیلی۔) کا ڈر لاحق تھا ، اور خوف پھیلانے کی ایک تکنیک کے ساتھ نئے عہد یخ کے بارے میں خبردار کیا جا رہا تھا۔ اگرچہ زیادہ تر سائنسدانوں / موسمیاتی ماہرین کا خیال ہے کہ گلوبل وارمنگ بنیادی خطرہ ہے مگراُن کی طرف سے غیر یقینی صورتحال "ماحولیاتی تبدیلی" کی اصطلاح میں پائے جانے والے مخصوص انتباہ کی اہمیت میں کمی کا باعث بنی ہے ۔ بنیادی طور پر موحولیاتی تبدیلی کا پیغام یہ ہے: گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ماحول کو نقصان پہنچا رہا ہے اور اگرچہ ہمیں یقین نہیں ہے کہ اس کا کیا نتیجہ ہو گا مگر ہم اتناجانتے ہیں کہ یہ بُرا ہی ہو گا ۔

ماہرین موسمیات ، ماہرین ماحولیات ، ماہرین ارضیات وغیرہ اس بات پر متفق ہیں کہ ماضی میں زمین نمایاں درجہ حرارت کی ماحولیاتی تبدیلیوں میں سے گزر چکی ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ آب و ہوا کی یہ سبھی تبدیلیاں واضح طور پر انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے نہیں ہوئیں تھیں ، اُن جیسے بہت سے سائنسدان اس بات کے قائل ہیں کہ آج کل رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کی بنیادی وجہ انسانی سرگرمیاں ہی ہیں ۔ ایسا کیوں ہے ؟ اِس کے تین بنیادی محرکات معلوم ہوتے ہیں۔

پہلایہ ہے کہ کچھ لوگ حقیقی اور مکمل طور پر مانتے ہیں کہ گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ماحولیاتی تبدیلی کا سبب بن رہا ہے۔ وہ ایمانداری سے اعداد و شمار کی جانچ پڑتال کرتے ہیں اور اس نتیجے پر پہنچتے ہیں۔ دوسرا یہ ہے کہ کچھ لوگ قریباً مذہبی جوش کے ساتھ ماحولیاتی تبدیلی کے نظریے کے قائل ہیں۔ ماحولیاتی تحریک میں بہت سے لوگ "دھرتی ماں " کی حفاظت کے لیے اتنے جذباتی ہیں کہ وہ اِس مقصد کے حصول کے لیے کسی بھی دلیل کا استعمال کریں گے چاہے وہ کتنی متعصب اور غیر متوازن ہی کیوں نہ ہو۔ تیسرا یہ ہے کہ کچھ لوگ مالی فائدے کے لیے موسمیاتی تبدیلی کے نظریے کو فروغ دیتے ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی کی قانون سازی کے کچھ نمایاں ترین حامی "سبزے کو فروغ" دینے کے قوانین اور صنعت کاری سے سب سے زیادہ مالی فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی کے نظریے کو قبول کرنے سے پہلے یہ تسلیم کیا جانا چاہیے کہ ہر وہ شخص جو ماحولیاتی تبدیلی کو فروغ دیتا ہے وہ ایک باخبر بنیاد پر اور نیک مقاصد سے ایسا نہیں کر رہا ہے۔

تو پھر ایک مسیحی کو ماحولیاتی تبدیلی کو کس نظر سے دیکھنا چاہیے؟ ہمیں ایماندار ی اور احترام کے ساتھ اسے تشکیک پرستانہ اور تنقید ی نظر سے دیکھنا چاہیے ۔ تاہم سب سے اہم بات یہ ہے کہ مسیحیوں کو ماحولیاتی تبدیلی کو بائبل کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔ بائبل ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں کیا فرماتی ہے؟بائبل ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں بتاتی ۔ ممکنہ طور پر بائبل کی ایسی قریب ترین مثالیں جنہیں ماحولیاتی تبدیلی خیال جا سکتا ہے وہ اخیرایام میں واقع ہونے وہ آفتیں ہوں گی جن کے بارے میں مکاشفہ 6-18 ابواب میں پیشن گوئیاں کی گئی ہیں۔ تاہم اِن پیشین گوئیوں کا گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بلکہ یہ خدا کے غضب کا نتیجہ ہیں جو گناہ میں بتدریج ترقی کرتی ہوئی دنیا پر خدا کی عدالت کا نزول ہے ۔ نیز ایک مسیحی کو یاد رکھنا چاہیے کہ خدا ہر چیز پر اختیار رکھتا ہے اور یہ دنیا ہمارا مستقل گھر نہیں ہے۔ خدا ایک دن اس موجودہ کائنات کو مٹا دے گا (2پطرس 3باب 7-12آیات ) اور اِس کی جگہ نئے آسمان اور نئی زمین کو قائم کرے گا (مکاشفہ 21- 22ابواب)۔ پس ایک ایسے سیارے کو "بچانے" کے لیے کتنی کوشش کرنی چاہییں جسے خدا بالآخر ختم کر دے گا اور اِس کی جگہ ایک ایسے حیران کن اور عجیب سیارے کو قائم کرے گا جس کے مقابلے میں موجودہ زمین اپنی اہمیت کھو دے گی؟

کیا سبزے کو فروغ دینے میں کوئی حرج ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ کیا آپکا کاربن کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش کرنا اچھی بات ہے؟ شاید ایسا ہی ہے۔ کیا سولر پینلز ، ونڈ ملز اور توانائی کے دیگر قابل تجدید ذرائع کی کھوج کرنا اہمیت کا حامل ہے ؟ بالکل ہے ۔ کیا اِن میں سے کوئی بھی چیز یسوع مسیح کے پیروکاروں کی بنیادی توجہ کا مرکز ہے؟ بالکل نہیں! بطور مسیحی ہماری توجہ انجیل کی اُس سچائی کی منادی کرنے پر ہونی چاہیے جو رُوحوں کو بچانے کی قوت رکھتی ہے۔ سیارے کو بچانا ہماری طاقت یا ذمہ داری میں شامل نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی حقیقی ہو یا نہ ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اِس کا سبب انسان ہو یا پھر نہ ہو ۔ لیکن جو کچھ ہم یقینی طور پر جان سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ خدا بھلا اور خودمختار ہے اور جب تک وہ چاہے گا ہم اس سیارہ زمین پر بسے رہیں۔ 46زبور 2-3آیات"اِس لئے ہم کو کچھ خوف نہیں خواہ زمین اُلٹ جائے اور پہاڑسمندر کی تہہ میں ڈال دیئے جائیں۔ خواہ اُس کا پانی شور مچائے اور موجزن ہو اور پہاڑ اُس کی طغیانی سے ہِل جائیں"۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

ایک مسیحی کو موحولیاتی تبدیلی کو کس نظر سے دیکھنا چاہیے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries