settings icon
share icon
سوال

بائبل ختنے کے متعلق کیا کہتی ہے؟ ختنے کے بارے میں مسیحی نظریہ کیا ہے ؟

جواب


ختنہ دراصل مرد کے عضوِ تناسل کی اگلی/زائد چمڑی/غلافِ حشفہ کو جراحی طریقے سے ہٹانا ہے۔ لفظ ختنہ کے لغوی معنی ہیں "کاٹنا، علیحدہ کرنا۔"ایک مذہبی رسم کے طور پر ابرہام کی تمام اولاد سے خُدا کےاُس عہد میں شامل ہونے کی علامت کے طور پرجو خُدا نے ابرہام سے باندھا تھا ختنہ کروانے کا تقاضا کیا گیا تھا (پیدایش 17باب9-14 آیات؛ اعمال 7باب8 آیت)۔ موسوی شریعت نے اِس تقاضے کو ایک با رپھر دہرایا (احبار 12 باب2-3 آیات)۔ اور یہودیوں نے گزشتہ تمام صدیوں کے دوران ختنے کی رسم پر عمل کیا ہے (یشوع 5باب2-3 آیات؛ لوقا 1باب59 آیت؛ اعمال 16 باب3 آیت؛ فلپیوں 3باب5 آیت)۔ آج مردوں کا ختنہ کیا جانا چاہیے یا نہیں ؟اِس سوال میں مختلف مسائل شامل ہیں ۔ ایک مسئلہ مذہبی تعلیم کا ہے: خُدا کا کلام یعنی بائبل مُقدس کیا کہتی ہے؟ ایک دوسرا مسئلہ صحت سے تعلق رکھتا ہے کہ کیا مردوں کا ختنہ کیا جانا چاہیے؟ختنے کے بارے میں مسیحی نقطہ نظر کو غالباً اِن دونوں کے امتزاج کے ساتھ بہترین طور پر بیان کیا گیا ہے۔

پہلےمسئلے کے حوالے سےیہ جاننا ضروری ہے کہ مسیحی ابھی پرانے عہد نامے کی شریعت کے ماتحت نہیں ہیں اور اُن سے ختنے کا مزید تقاضا نہیں کیا جاتا۔ اِس پر نئے عہد نامے کے بہت سارے حوالہ جات میں بات کی گئی ہے جن میں سے کچھ اعمال 15باب؛ گلتیوں 2باب1-3 آیات؛ 5باب1-11 آیات؛ 6باب11-16 آیات؛ 1 کرنتھیوں 7باب17-20 آیات؛ کلسیوں 2باب8-12 آیات اور فلپیوں 3باب1-3 آیات ہیں۔ جیسے کہ یہ حوالہ جات اعلان کرتے ہیں، اپنے گناہوں سے چھٹکار ا اور نجات کا حصول مسیح پر ایمان لانے کا نتیجہ ہے ۔ یہ مسیح کا صلیب پر مکمل کیا ہوا کام ہی ہے جو ہمیں بچاتا ہے نہ کہ کسی اور طرح کی رسومات کی پاسداری ۔ حتیٰ کہ شریعت بھی اِس بات کو مانتی ہے کہ خُدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے محض ختنے کا عمل ناکافی ہے، اور شریعت نے "ہمارے دِلوں کے ختنوں" کی ضرورت پر زور دیا ہے (اِستثنا 10باب16 آیت؛ بالموازنہ رومیوں 2باب29 آیت)۔ ہماری نجات میں جسم کے کام کسی بھی طرح کا کوئی کردار ادا نہیں کرتے (دیکھیں گلتیوں 2باب16 آیت)۔

اعمال 16باب3 آیت میں پولس کا ایک مشنری ساتھی تیمتھیس تھا جس کا ختنہ کیا گیا تھا۔ تیمتھیس نصف یہودی تھا اور پولس نے اُس کا ختنہ کیا تاکہ اُس کا نامختون ہونا اُس کی خدمت میں رکاوٹ نہ بنے کیونکہ وہ کلام کو لیکر غیر نجات یافتہ یہودیوں تک پہنچ رہا تھا۔ اگرچہ بائبل تیمتھیس کے ختنے کا تقاضا نہیں کرتی تھی لیکن یہ وہ کام تھا جو اُس نے یہودیوں تک پہنچنے کے لیے اپنی خوشی سے کیا تھا۔ تاہم جیسا کہ پولس نے گلتیوں میں واضح طور پر کہا ہے کہ ختنہ مسیح میں نجات پانے یا ایماندار کی تقدیس میں کوئی مدد نہیں کرتا۔ یقیناً جو کچھ تیمتھیس کے ساتھ کیا گیا اُس کا آج براہِ راست اطلاق نہیں ہوتا کیونکہ مسیحیوں کو غیر ایمانداروں تک پہنچنے کے لیے ختنہ کرنے کی ضرورت نہیں ہےچاہے وہ یہودی ہوں یا پھر غیر قوم۔ ایک بار پھر یہاں پر بھی دِل کے ختنے کا اصول مرکزی اہمیت کا حامل ہے ۔

ختنے کے ساتھ عملی مسائل بھی شامل ہیں۔کچھ والدین اپنے بیٹوں کا ختنہ اِس لیے کرواتے ہیں تاکہ وہ اپنی ثقافت میں دوسرے تمام مردوں کی طرح نظر آئیں۔ کچھ والدین کو یہ تشویش لاحق ہے کہ اُن کا بیٹا کسی دِن لاکر روم میں ہوگا اور خود کو ہر ایک سے مختلف پائے گا۔ تاہم بعض ثقافتوں میں مردوں کا ختنہ عام طور پر نہیں کیا جاتا۔یہاں پر صحت کا مسئلہ بھی ہے۔ ڈاکٹراِس معاملے پر اکثر بحث کرتے چلے آ رہے ہیں کہ کیا ختنہ کروانے کے کوئی صحت سے متعلقہ فوائد ہیں۔ اِسی طرح کے خدشات کے حامل والدین کو اِس مسئلے کے سلسلے میں ڈاکٹر سے ضرور بات کرنی چاہیے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل ختنے کے متعلق کیا کہتی ہے؟ ختنے کے بارے میں مسیحی نظریہ کیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries