settings icon
share icon
سوال

کلیسیا کے اندر پرستش کو کتنی اہمیت دی جانی چاہیے؟

جواب


اگر کوئی ہماری جان بچاتا تو اُس کے لیے ہماری طرف سے ردِ عمل ممنونیت یا گہری شکر گزاری کی صورت میں ہوتا۔ جب کبھی ہمیں کوئی ایسا تحفہ ملتا ہے جس کا حصول ہماری بساط سے باہر ہو تو ہم اُس تحفے کو دینے والی ذات کو جب شکر گزاری کے ساتھ سراہتے ہیں تو ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہماری اُس شکرگزاری اور سراہنے کے عمل کے بارے میں دیگر لوگ بھی جانیں۔ خُدا مجسم ہو کر یسوع مسیح کی صورت میں ہمارے پاس آیا۔ اُس کی محبت غیر مشروط ہے۔ پرستش کے دوران ہم اُس کے اِس کائنات کا خالق اور حاکم ہونے کے اختیار کو پہچانتے اور اُس کا اقرار کرتے ہیں اور اِس کے ساتھ ساتھ ہم اِس بات کا بھی اقرار کرتے ہیں کہ وہ ہماری رُوحوں کا نجات دہندہ ہے۔ اِس لیے کسی بھی ایماندار کی زندگی میں شخصی طور پر یا پھر کلیسیا کے اندر جماعتی طور پر پرستش بہت ہی زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔

مسیحیت دُنیا کے تمام مذاہب میں اِس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہ خُدا کے ساتھ ایک شخصی تعلق کی بنیاد پر قائم ہے۔ خروج 34 باب 14آیت بیان کرتی ہے کہ " کیونکہ تجھ کو کسی دُوسرے معبودکی پرستش نہیں کرنی ہوگی اِسِلئےکہ خُداوند جسکا نام غیور ہے وہ خُدا یِ غیور ہے بھی۔ "ہمارے ایمان کی مرکزی ترین چیز یہ ہے کہ ہم اپنے خالق کے ساتھ ذاتی ترین تعلق رکھیں۔

پرستش دراصل ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے سے ہم خُدا کے ساتھ اِس اہم تعلق رکھنے کی خوشی مناتے ہیں۔ اپنی پرستش کے ذریعے سے ہم اپنے خُدا کے ساتھ رابطہ رکھتے ہیں۔ اپنی پرستش کے ذریعے سے ہم اُس کے اختیار اور الوہیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ چاہے یہ موسیقی کے ذریعے ہو، پرستش میں اپنی آوازوں کو بلند کرنے کے ذریعے سے ہو، دُعا کے ذریعے سے ہو یا پھر کچھ دیگر ذرائع سے ہو، پرستش کا بنیادی ترین مطلب اور مقصد خُدا کے ساتھ اپنے بہت ہی خاص اور قریبی تعلق کا اظہار کرنا ہے۔ اگرچہ ہم سے کلام کی تعلیمات کے مطابق یہ تقاضہ کیا جاتا ہے کہ ہم خُدا کے سب احکام کی تابع فرمانی کریں، لیکن خُدا قطعی طور پر یہ نہیں چاہتا کہ یہ تابعداری بہت ہی سرد مُہری کے ساتھ ایسی حالت میں ہو جس میں کسی انسان کا دلِ و دماغ بھی شامل نہ ہو۔ استثنا 6 باب 5آیت بیان کرتی ہے کہ "تُو اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت سے خداوند اپنے خدا سے محبت رکھ ۔ "

کلیسیا دراصل اُس سب لوگوں کا اکٹھ ہے جو خُدا کا نام لیتے، اور یسوع مسیح کی صلیبی موت کے وسیلے سے عطا کئے گئے فضل سے مستفید ہوتے ہیں۔ ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم یسوع مسیح کے لیے شاگرد بنائیں اور خُداوند کے حکموں کی تابعداری کرتے ہوئے زندگی گزاریں۔ 1 یوحنا 3 باب 24آیت بیان کرتی ہے کہ "اور جو اُس کے حکموں پر عمل کرتا ہے وہ اِس میں اور یہ اُس میں قائم رہتا ہے اور اِسی سے یعنی اُس رُوح سے جو اُس نے ہمیں دِیا ہے ہم جانتے ہیں کہ وہ ہم میں قائم رہتا ہے۔"کلیسیا کے ہر ایک فرد سے یہ تقاضہ کیا جاتا ہے کہ وہ خُدا کی پرستش کرے۔ ہم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ ہم دُعا میں خُدا کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اپنا وقت گزاریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بائبل مُقدس میں بیان کردہ اُس کے کلام کا مطالعہ کریں اوراپنے دِلوں میں اُس پر غورو خوص کرتے رہیں۔ ہماری شخصی رُوحانی بڑھوتری اور ترقی کے لیے پرستش میں خاص شخصی وقت گزارنا بہت ہی زیادہ اہم ہے۔ ایمانداروں کی ایک جماعت ہوتے ہوئے ہمارے لیے بہت ہی زیادہ ضروری ہے کہ ہم مزامیر، گیت اور رُوحانی غزلیں گاتے ہوئے، دُعا میں ٹھہرتے ہوئے، خُدا کے کلام کا اور زیادہ فہم حاصل کرتے ہوئےاور خُدا کی بادشاہی اور کلیسیا کے فائدے اور ترقی کے لیے اپنے رُوحانی پھلوں کو استعمال کرتے ہوئے اکثر خُدا کی پرستش کیا کریں۔پرستش ہر ایک کلیسیا کے اندر انتہائی زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کلیسیا کے اندر پرستش کو کتنی اہمیت دی جانی چاہیے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries