settings icon
share icon
سوال

بائبل کلیسیائی حکومت(انتظامی ڈھانچے/بندوبست) اور اُسکی ساخت کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

جواب


خداوند اپنے کلام میں واضح طور پر سکھاتا ہے کہ زمین پر اُس کی کلیسیا کا انتظامی ڈھانچہ یا ترتیب کیسی ہونی چاہیے ۔ پہلے نمبر پر مسیح کلیسیا کا سر اور اِس کا حاکمِ کُل ہے (افسیوں 1باب 22آیت؛ 4باب 15آیت؛ کلسیوں 1باب 18آیت)۔ دوسرے نمبر پر مقامی کلیسیا خود مختار ، ہر طرح کی بیرونی مداخلت یا اثر و رسوخ سے آزاد ، مختلف افراد یا تنظیموں کی کسی طرح کی جانشینی یا پیری سے پاک( طِطُس 1باب 5آیت) اور بذات خود انتظامات کرنے کی اہل ہو ۔ تیسرے نمبر پر کلیسیا ئی حکومت(انتظامی ڈھانچہ) رُوحانی قائدین کے ہاتھ میں ہو جو اِن دو عہد وں پر مشتمل ہوں – بزرگ اور خادم (مددگار)

موسیٰ کے زمانے سے ہی" بزرگ" بنی اسرائیل میں ایک رہنما جماعت تھے ۔ ہم اُنہیں سیاسی فیصلے کرتے (2سموئیل 5باب 3آیت؛ 2سموئیل 17باب 4اور 15آیات)،آگے کی اسرائیلی تاریخ میں بادشاہوں کو مشورہ دیتے (1سلاطین 20باب 7آیت) اور روحانی معاملات کے متعلق لوگوں کی رہنمائی کرتے دیکھتے ہیں( خروج 7باب 17آیت؛ 24باب 9،1آیات؛ گنتی 11 باب 24،16- 25آیات)۔ پرانے عہد نامہ کے ابتدائی یونانی ترجمے سپتواجنتا میں لفظ "بزرگ" کےلیے یونانی لفظ پریسبیٹروس کا استعمال کیا گیا ہے ۔ اور بالکل یہی یونانی لفظ نئے عہد نامے میں استعمال ہوا ہے جس کا ترجمہ " بزرگ" کیا گیا ہے ۔

نیا عہد نامہ متعدد بار ان بزرگوں کا حوالہ دیتا ہے جنہوں نے کلیسیائی قیادت میں اہم کردار ادا کیا تھا ( اعمال 14باب 23آیت؛ 15باب 2آیت؛ 20باب 17آیت؛ ططُس 1باب 5آیت ؛ یعقوب 5باب 14آیت) اور ہر کلیسیا میں واضح طور پر ایک سے زیادہ بزرگ تھے کیونکہ عام طور پر یہ لفظ جمع کے صیغے میں پایا جاتا ہے ۔کئی معاملات میں کچھ وجوہات کی بناء پر واحد بزرگ کی نشاندہی بھی کی گئی ہے ( 1تیمتھیس 5باب 19،1آیات)۔ یروشلیم کی کلیسیا میں رسولوں کےساتھ ساتھ بزرگ بھی کلیسیا ئی قیادت کا حصہ تھے ( اعمال 15باب 2آیت - 16 باب 4آیت)۔

ایسا لگتا ہے کہ بزرگ کا عہدہ ایپسکوپس کے برابر ہے جس کا ترجمہ " چرواہا" کیا گیا ہے ( اعمال 11باب 30آیت؛ 1تیمتھیس 5باب 17آیت) ۔ لفظ "بزرگ" اِس عہدے کے وقار کی طرف اشارہ کرتا جبکہ لفظ "چرواہا / نگران" اِس عہدے کے اختیارات اور فرائض کو بیان کرتا ہے ( 1پطرس 2باب 25؛ 5باب 1-4آیات)۔ فلپیوں 1باب 1آیت میں پولس رسول نگہبانوں اور خادموں کو تو سلام پیش کرتا ہے مگر بزرگوں کا ذکر نہیں کرتا ہے شائد اِس لیے کہ بزرگ بھی نگہبانوں کی طر ح ہیں ۔ اسی طرح سے 1تیمتھیس 3باب 8،2آیات میں نگہبانوں اور خادموں کی قابلیت /اہلیت تو بیان کی جاتی ہے مگر بزرگوں کی نہیں ۔ ططُس 1باب 5-7آیات اِن دونوں اصطلاحات کو آپس میں جوڑتی دکھائی دیتی ہیں ۔

خدمتگار/مددگار(ڈیکن) کا عہد ہ جس کا مطلب " سرگرم اور پُھرتیلا" ہے کلیسیا کی خدمتی قیادت میں سے ایک تھا ۔یہ نگہبان بزرگوں سے الگ ہیں تاہم ایسی خصوصیات اور قابلیت رکھتے ہیں جو کئی لحاظ سے بزرگوں کی خصوصیات سے ملتی جلتی ہیں (1تیمتھیس 3باب 8-13آیات)۔ جیسا کہ اعمال 6باب میں درج ہے خدمتگار/خادم ضرورت کے تحت کلیسیا کی ہر لحاظ سے خدمت کرتا ہے ۔

لفظ پوئمن(poimen) جس کا ترجمہ " پاسبان" ہے کلیسیا میں انسانی رہنما کے حوالہ سے نئے عہد نامے میں صرف ایک بار افسیوں 4باب 11آیت میں پایا جاتا ہے : "اور اُسی نے بعض کو رسول اور بعض کو نبی اور بعض کو مُبشر اور بعض کو چرواہا (پاسبان) اور اُستاد بنا کر دے دیا"۔زیادہ تر لوگ اِن دونوں اصطلاحات " چرواہے" اور" استاد" کو جوڑ دیتے ہیں ایسا کہ یہ دونوں ایک ہی عہدے ' چرواہا –اُستاد' کی نشاندہی کرتے ہیں ۔ ممکن ہے کہ ایک چرواہا – اُستاد کسی مقامی کلیسیا کا رُوحانی چرواہا ہوا۔

مندرجہ بالا حوالہ جات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کلیسیا میں بزرگو ں کی ایک کثیر تعداد موجود تھی مگر یہ بات خداوند کی طرف سے بعض بزرگوں کو تعلیم دینے کی نعمتیں جبکہ دیگر بزرگوں کو کلیسیائی انتظامات ، یا دُعا وغیرہ کی نعمتیں بخشے جانے کی تردید نہیں کرتی ( رومیوں 12باب 3-8آیات؛ افسیوں 4باب 11آیت)۔ اور نہ ہی یہ بات خداوند کی طرف سے اُن کی ایسی خدمت کےلیے بُلاہٹ کی تردید کرتی ہے جس میں وہ اپنی اِن نعمتوں کا استعمال کریں گے ( اعمال 13باب 1آیت)۔ لہذا ہو سکتا ہے کہ ایک بزرگ "پاسبان " کی صورت میں سامنے آئے اور دوسرا بزرگ عبادت کیلیے آنے والے اراکین کی مدد اور رہنمائی کر ے کیونکہ اُس کے پاس مہربانی اور رحم کی رُوح ہے جبکہ دیگر بزرگ کلیسیائی انتظامات کو سنبھالنے کے معاملا ت میں اہم " کردار" ادا کرنے والے ہو ں ۔ بہت سی کلیسیائیں جن کی انتظامیہ جو ایک پاسبان اورخادمین /معاونین پر مشتمل ہوتی ہے اُن کے اندر اُن خادمین میں سے ہی کچھ لوگ کلیسیائی بزرگوں کے فرائض بھی سر انجام دیتے ہیں۔ اور اِس طرح یہ خدمت کا بوجھ بانٹتے اور فیصلہ ساز ی کے عمل میں مل کر کام کرتے ہیں ۔ کلامِ مقدس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بہت سے فیصلوں میں اجتماعی رائے بھی لی جاتی ہے۔ اِس لیے بائبل کے مطا بق ایک " آمر" رہنما (چاہے وہ بزرگ یا نگہبان یا پاسبان کہلاتا ہو )جو اکیلا ساری کلیسیا کی فیصلہ سازی کرتا ہے قابلِ قبول نہیں ہے ( اعمال 1باب 26،23آیات؛ 6باب 5،3آیات؛ 15باب 30،22آیات؛ 2-کرنتھیوں 8باب 19آیت)۔ اسی طرح گانگریشنل کلیسیا پوری جماعت کی رائے لینے پر یقین رکھتی ہے اور اُس میں اکثر کلیسیا کے بزرگوں اور دیگر قیادت کی رائے کو حتمی اہمیت حاصل نہیں ہوتی۔

خلاصہ: بائبل ایسی کلیسیائی قیادت کے بارے میں سکھاتی ہے جو بزرگوں( پاسبانوں /نگہبانوں ) کی ایک جماعت کے ساتھ ساتھ اُن معاونین کے ایک گروہ پر مشتمل ہو جو کلیسیا میں خدمت کرتے ہیں ۔ لیکن اگر اِن بزرگوں میں سے ایک بزرگ بڑے " پاسبان " کا کردار کرے تو یہ اِس اکثریت کےخلاف نہیں ہے ۔ خدا کچھ لوگوں کو " پاسبان / اُستاد" ( جیسا کہ اعمال 13باب میں ہے کہ ا ُس نے کچھ کو مشنر ی بننے کےلیے بھی بُلایا تھا )کے طور پر بُلاتا ہے اوروہ ایسے خادم کلیسیا کو بطورِ تحفہ عطا کرتا ہے (افسیوں 4باب 11آیت)۔ لہذا ہو سکتا ہے کہ ایک کلیسیا میں کئی بزرگ ہوں مگر تمام بزرگ پاسبانی خدمت کےلیے بُلائے نہیں جاتے ۔ بہرحال ایک بزرگ کی حیثیت سے ایک پاسبان یا "تعلیم دینے والے بزرگ " کو کسی اور بزرگ کی نسبت فیصلہ سازی میں زیادہ اختیار حاصل نہیں ہے ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل کلیسیائی حکومت(انتظامی ڈھانچے/بندوبست) اور اُسکی ساخت کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries