بائبل کلیسیائی نظم و ضبط کے بارے میں کیا تعلیم دیتی ہے؟


سوال: بائبل کلیسیائی نظم و ضبط کے بارے میں کیا تعلیم دیتی ہے؟

جواب:
کلیسیائی نظم و ضبط ایک مقامی کلیسیا ئی جماعت کے اراکین میں پائے جانے والے گنہگار رویے کو دُرست کرنے کا عمل ہے جس کا مقصد کلیسیا کی حفاظت کرنا، گنہگار کاخُدا کے ساتھ صحیح تعلق بحا ل کرنا اور کلیسیا کے اراکین کے درمیان تعلقات کو بحال رکھنا ہے ۔ کچھ معاملات میں کلیسیائی نظم و ضبط کا نتیجہ کچھ لوگوں کےکلیسیا سے مکمل اخراج کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ جس کا مطلب کسی شخص کی کلیسیا ئی رُکنیت سے رسمی برطرفی اور اُس شخص سے غیر رسمی علیحدگی ہو سکتی ہے۔

متی18 باب 15- 20آیات ایک کلیسیا کو کلیسیائی نظم و ضبط پر عمل کرنے کے لئے ایک طریقہ کار اور اختیار فراہم کرتی ہیں ۔ یسوع ہمیں نصیحت کرتا ہے کہ ایک فریق (عموماً ناراض یا دلبرداشتہ ہونے والا فریق) پوشیدہ طور پر قصور وار شخص کے پاس جائے ۔ اگر قصوروار شخص اپنے گناہ کو تسلیم کرنے اور توبہ کرنے سے انکار کرتا ہے تو دو یا تین اور اشخاص اس صورتحال کی تصدیق کے لئے جائیں ۔ اگر وہ پھر بھی توبہ نہیں کرتا اور توبہ کے لئے دو مواقع کے باوجود اپنے گناہ کے ساتھ منسلک رہتا ہے تو یہ معاملہ کلیسیائی قیادت کے سامنے پیش کیا جائے ۔اِس صورت میں قصور وار شخص کو توبہ کرنے اور اپنے گناہ آلودہ رویے کو ترک کرنے کا تیسرا موقع دیا جائے۔ اگر کلیسیائی نظم و ضبط کے کسی بھی مرحلے پر گنہگار شخص توبہ کر لیتا ہے تو " تُو نے اپنے بھائی کو پالیا " (15آیت )۔ لیکن اگر نظم و ضبط کے عمل میں تیسرے موقع کا ردِعمل بھی منفی نکلتا اور قصوروار شخص توبہ کرنے سے انکار کرتا ہے "تو تُو اُسے غیر قوم والے اور محصول لینے والے کے برابر جان" (17آیت )۔

جیسے باپ کےلیے اپنے بچّوں کے درمیان نظم و ضبط کا قیام اور اطلاق کرنا کبھی خوشی کا باعث نہیں ہوتا بالکل ویسے ہی کلیسیائی نظم و ضبط کا عمل کبھی خوشگوار نہیں ہوتا ۔ مگر بعض اوقات کلیسیائی نظم و ضبط بہت ضروری ہوتا ہے۔ کلیسیائی نظم و ضبط کا مقصداپنے کسی ذاتی عناد کی وجہ سے کسی کو اپنے بُرے اور ریاکارانہ رویے کا نشانہ بنانا نہیں ہوتابلکہ کلیسیائی نظم و ضبط کا مقصد ایک ایماندار کو خُدا اور دوسرے ایمانداروں کی رفاقت میں بحال کرنا ہے۔ نظم و ضبط کا عمل شخصی طور پر شروع ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ اجتماعی شکل ا ختیار کر جاتا ہے۔کسی شخص کی تربیت کا عمل اُس کے ساتھ محبت کے اظہار، خُدا کے احکام کی فرمانبرداری اور کلیسیا میں موجوددوسرے ایمانداوں کی بہتری کی خاطر ہونا چاہیے۔

کلیسیائی نظم وضبط کے بارے میں بائبلی ہدایات کلیسیا کی رُکنیت کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔ کلیسیا اور اُس کا پاسبان صرف لوگوں کی مخصوص جماعت (مقامی کلیسیا کے ارکان) کی رُوحانی بہتری اور ترقی کے لئے ذمہ دار ہیں نہ کہ شہر میں موجود ہر ایک فردکی ترقی یا بہتری کے لئے۔ کلیسیائی نظم و ضبط کے سیاق و سباق میں پولُس کہتا ہے کہ "کیونکہ مُجھے (کلیسیا سے) باہر والوں پر حکم کرنے سے کیا واسطہ؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ تم تو اندر والوں پر حکم کرتے ہو"(1کرنتھیوں5باب 12آیت)۔ کلیسیائی نظم و ضبط کا سامنا کرنے والے شخص کو نہ صرف کلیسیا کے"اندر " موجود ہوناپڑتا ہے بلکہ کلیسیائی حکام کے سامنے جوابدہ بھی ہونا پڑتا ہے کیونکہ وہ مسیح پر ایمان کا اقرار تو کرتا ہے مگر نا قابل ِ تردید گناہ کوبھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

بائبل ایک مقامی یعنی کرنتھس کی کلیسیا میں موجود نظم وضبط کی مثال پیش کرتی ہے (1کرنتھیوں 5باب 1-13آیات)۔ اِن آیات میں نظم و ضبط کے پیشِ نظر ایک شخص کو کلیسیا سے خارج کر دیا گیا ہے اوراِس سلسلے میں پولُس رسول کلیسیائی تربیت کےلیے کچھ وجوہات بیان کرتا ہے۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ گناہ خمیر کی مانند ہے؛ اگراسے کلیسیا میں موجود رہنے دیا جائے تو یہ ایمانداروں میں ایسے پھیل جائے گا جیسے "تھوڑا سا خمیر سارے گندھے ہوئے آٹے کو خمیر کر دیتا ہے" (1کرنتھیوں5باب 7-8 آیات)۔ پولُس یہ بھی بیان کرتا ہے کہ یسوع نے ہمیں نجات دی ہے تاکہ ہم گناہ سے دُور ، "بے خمیر" اور ہر اُس چیز سے آزاد رہیں جو رُوحانی بوسیدگی کا سبب بنتی ہے (1کرنتھیوں 5باب 7-8آیات )۔ مسیح چاہتا ہے کہ اُس کی دلہن یعنی کلیسیا پاک اور بے عیب بنے (افسیوں5باب 25-27آیات)۔ اِس لحاظ سے غیر ایمانداروں کے سامنے یسوع مسیح (اور اُس کی کلیسیا) کی گواہی بھی اہمیت کی حامل ہے۔ جب داؤد نے بت سبع کے ساتھ گناہ کیا تو اِس گناہ کاایک نتیجہ یہ بھی نکلا کہ خُدا کے دشمنوں کو اُس کے پاک نام کے خلاف کُفر بکنے کا موقع مل گیا تھا (2سموئیل 12باب 14آیت)۔

اُمید ہے کہ کسی رُکن کے خلاف کلیسیا ئی حکام کی طرف سے عمل میں لائی گئی تربیتی کاروائی خُدا پرستی کا غم پیدا کرنے اور حقیقی توبہ کا باعث بننے میں کامیاب ہو ۔جب کوئی شخص توبہ کرتا ہے تو وہ کلیسیائی رفاقت میں بحال ہو جاتا ہے۔ 1کرنتھیوں5باب میں موجود شخص جب توبہ کرتا ہے تو پھر پولُس کلیسیا کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ اُسے کلیسیائی رفاقت میں بحال کرے(2کرنتھیوں 2باب 5-8آیات)۔ بدقسمتی سے کلیسیائی نظم و ضبط خواہ کتنی ہی محبت اور درستگی کے ساتھ عمل میں لایا جائے لوگوں کو ایمان میں بحال کرنے میں ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ اگر کلیسیائی نظم و ضبط توبہ کا باعث بننے میں ناکام بھی ہو جائے تو اِس کے باوجود یہ دُنیا میں اچھی گواہی کو قائم رکھنے جیسے دیگر نیک مقاصد کی تکمیل کےلیے اشد ضروری ہے ۔

ممکنہ طور پر ہم سب نے کسی نہ کسی ایسے نوجوان کے رویے کا مشاہدہ کیا ہو گا جسے مستقل نظم ضبط کے بغیر ہمیشہ اپنی مرضی کرنے کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ یہ کوئی خوبصورت منظر نہیں ہے۔ نہ ہی والدین کی طرف سے حد سے زیادہ محبت درست ہے کیونکہ رہنمائی میں کمی بچے کےبھیانک مستقبل کا باعث بنتی ہے ۔ غیر تربیت یافتہ، بے ضبط رویہ بچے کو با معنی تعلقات قائم کرنے اور کسی بھی طرح کے حالات میں اچھی کاردکردگی کا مظاہرہ کرنے سے روکے رکھے گا۔ اِسی لیےاگرچہ نظم و ضبط کبھی بھی خوشگوار یا آسان تو نہیں ہوگا لیکن یہ بیحد ضروری ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ کسی دوسرے کی بہتری کے لیے محبت کا اظہار ہے اور خُدا کی طرف سے محبت رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
بائبل کلیسیائی نظم و ضبط کے بارے میں کیا تعلیم دیتی ہے؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں