settings icon
share icon
سوال

مسیحی رُوحانیت کیا ہے؟

جواب


جب ہم نئے سرے سے پیدا ہوتے ہیں، تو ہم رُوح القدس حاصل کرتے ہیں جو ہم پر مخلصی کے دن کے لئے مہر کرتا ہے (افسیوں1باب 13آیت؛ 4باب 30 آیت)۔ خُداوند یسوع نے وعدہ کیا کہ رُوح القدس "تمام سچائی میں" ہماری رہنمائی کرے گا (یوحنا13باب16آیت )۔ اِس سچائی کا حصہ یہ ہے کہ ہم خُدا کی باتوں کو لیں اور اُن کا اطلاق اپنی زندگیوں پر کریں۔ جب کلام کا ایمانداروں کی زندگیوں پر اطلاق کیا جاتا ہے، تو پھر ایماندار رُوح القدس کو اجازت دینے کا انتخاب کرتے ہیں کہ وہ اُن پر اختیار رکھے۔ حقیقی مسیحی رُوحانیت کی بنیاداُس وسعت پر ہے جس وسعت کی حد تک نئے سرے سےپیدا ہونے والا ایماندار رُوح القدس کو اپنی زندگی کی قیادت اوراُس پر اختیار رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔

پولُس رسول ایمانداروں کو رُوح القدس سے معمور ہونے کی تعلیم دیتا ہے، "شراب میں متوالے نہ بنو کیونکہ اِس سے بد چلنی واقع ہوتی ہے، بلکہ رُوح سے معمور ہوتے جاؤ" (افسیوں 5 باب 18آیت)۔ اِس حوالے میں فعل حال جاری کا استعمال کیا گیا ہے ، اِس لئے اِس کے معنی "رُوح سے(مسلسل) معمور ہوتے جاؤ" کیا جا سکتا ہے۔ رُوح سے معمور ہونے کا مطلب یہ ہے کہ رُوح کے قبضہ میں آتے جاؤ، یعنی اپنی جسمانی فطرت کی خواہشوں کو پورا کرنے کی بجائے رُوح القدس کو اجازت دو کہ وہ آپ پر اپنا اختیار رکھے۔" اِس حوالے میں پولُس موازنہ کرتا ہےکہ جب کوئی شخص شراب کے نشے کے اختیار میں ہوتا ہے، تو وہ کچھ مخصوص خصوصیات کو ظاہر کرتا ہے جیسا کہ سُست رفتاری، اُلٹی سیدھی اور اُکھڑی باتیں، ڈگمگاتی چال، اور گھٹیا فیصلے کرنا وغیرہ۔ آپ اُس کی حرکات وسکنات کو دیکھ کر کہہ سکتے ہیں کہ اُس نے شراب پی رکھی ہے، اِسی طرح نئے سرے سے پیدا ہونے والا شخص جو رُوح القدس کے قبضہ میں ہوتا ہے،وہ اپنی مخصوص خصوصیات ظاہر کرتا ہے۔ اِن خصوصیات کا ذکر گلتیوں 5باب 22-23آیات میں کیا گیا ہے جہاں اِن کو رُوح کے پھل کہا گیا ہے۔ یہ حقیقی مسیحی رُوحانیت ہے جو رُوح القدس کے ہمارے اندر کام کرنے سے پیدا ہوتی ہے ۔ ایسا کردار اپنی کوشش سے پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ نئے سرے سے پیدا ہونے والا ایماندار جو رُوح القدس کے اختیار میں ہوتا ہے اچھی گفتگو، مستقل روحانی چال چلن، اور خُدا کے کلام کی بنیاد پر فیصلے کرنے کی خصوصیات ظاہر کرتا ہے۔

لہذا،مسیحی رُوحانیت میں ایک خاص فیصلہ شامل ہے جس کے تحت ہم اپنی زندگیوں کو رُوح القدس کے تابع کرتے ہوئے، اپنی روز مرّہ کی زندگی میں خُداوند یسوع مسیح کو "جاننے اوراُس کے ساتھ خاص تعلق میں بڑھنے " کا انتخاب کرتے ہیں۔ اِس کا مطلب ہے کہ ایماندار کے طور پر، ہم اقرار کے ذریعے رُوح القدس کے ساتھ رفاقت رکھنے کا فیصلہ کرتے ہیں(1یوحنا1باب9آیت)۔ جب ہم گناہ کر کے رُوح القدس کو رنجیدہ کرتے ہیں (افسیوں4باب 30آیت؛ 1 یوحنا 1 باب 5-8آیات)، تو ہم خُدا اور اپنے درمیان ایک رکاوٹ کھڑی کرتے ہیں۔ جب ہم رُوح القدس کی فرمانبرداری کرتے ہیں، تو ہمارے خُدا کے ساتھ تعلقات میں کوئی مداخلت نہیں ہوتی (1تھسلنیکیوں5 باب 19آیت)۔ مسیحی رُوحانیت مسیح خُداوند کے رُوح کے ساتھ رفاقت کا ایک ایسا شعور ہے جس میں ہمارا جسم یا کوئی بھی گناہ رکاوٹ نہ بن سکے۔جب ایک نئے سرے سے پیدا ہونے والا مسیحی اپنے آپ کو رُوح القدس کی خدمت کے تابع کرنے کا ایک مستقل اور مسلسل انتخاب کرتا ہے تو اُس وقت مسیحی رُوحانیت فروغ پاتی ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مسیحی رُوحانیت کیا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries