کرسچن سائنس کیا ہے؟


سوال: کرسچن سائنس کیا ہے؟

جواب:
کرسچن سائنس کا آغاز میری بیکر ایڈی (1821 تا 1910) نے کیا،جس نے رُوحانیت اور صحت کے بارے میں نئے خیالات کو پیش کیا۔ 1866 میں ایڈی نے اپنے ہی شفا کے تجربے سے متاثر ہو کر بائبل کے مطالعے، دُعا، اور شفا کے متعدد طریقوں کی تحقیق میں کئی سال گزار دیئے۔ اور اِس سب کا نتیجہ 1879 میں اُس کی طرف سے ایک شفا کے نظام کو متعارف کروانے کی صورت میں نکلا جس کو "کرسچن سائنس"کہا جاتا ہے۔ اُس کی کتاب "Science and Health with Key to the Scriptures" نے ذہن، جسم، رُوح کے حوالے سے ایک نئے تعلق کو بیان کرنے کی کوشش کی۔ اُس نے ایک کالج، ایک کلیسیا، ایک اشاعت خانے، اور ایک ممتاز اخبار "دا کرسچن سائنس مونیٹر" کی بنیاد رکھی۔ دوسرے گروہوں کے ساتھ اِس کی مشابہت کی وجہ سے بہت سے لوگ مانتے ہیں کہ کرسچن سائنس ایک غیر مسیحی بدعت ہے۔

کرسچن سائنس سکھاتی ہے کہ سب کا خُدا باپ – ماں مکمل طور پر بھلا اور مکمل طور پر رُوحانی ہے اور خُدا کی ساری تخلیق بشمول ہر شخص کی حقیقی فطرت خُدا کی مانند رُوحانی اور بے عیب ہے۔ چونکہ خُدا کی تخلیق اچھی ہےاِس لیے بیماری، موت، اور گناہ جیسی بُرائیاں بنیادی حقیقت کا حصہ نہیں ہو سکتیں۔ بلکہ یہ بُرائیاں خُدا سے الگ زندگی گزارنے کا نتیجہ ہیں۔ دُعا خُدا کے قریب آنے اور بیمار انسانوں کو شفا دینے کا ایک مرکزی طریقہ ہے۔ یہ تعلیم بائبل سے مختلف ہے، جو سکھاتی ہے کہ انسان آدم کے گناہ میں گرنے کے سبب سے جاری موروثی گناہ میں پیدا ہوتا ہے اور گناہ خُدا سے جُدا کرتا ہے۔صلیب پر مسیح کی موت کے وسیلہ سے خُدا کے نجات بخش فضل کے بغیر ، ہم حتمی بیماری یعنی گناہ سے کبھی بھی شفا حاصل نہیں کر سکتے۔

یہ سکھانے کی بجائے کہ یسوع ہمیں ہماری رُوحانی بیماری (دیکھیں یسعیاہ53 باب5 آیت) سے شفا دیتا ہے کرسچن سائنس کے ماننے والے یسوع کی خدمت کو شفا کے لئے اپنے نمونہ کے طور پر دیکھتے ہیں ۔ اور یہ ایمان رکھتے ہوئے کہ خُداوند یسوع کی خدمت نجات کے سلسلے میں مرکزی حیثیت کی حامل ہے۔ کرسچن سائنس کے ماننے والے خُدا کی حقیقت اور روزانہ خُدا کی محبت کے بارے میں مزید جاننے ، دوسروں کی مدد کرنےاور اِس تفہیم کی ہم آہنگی اور شفا کے اثرات کا تجربہ کرنے کی دُعا کرتے ہیں۔

زیادہ تر کرسچن سائنس کے ماننے والوں کے لئے رُوحانی شفا ایک موثر اوّلین انتخاب ہے اور، نتیجے کے طور پر، وہ طبی علاج کی بجائے دُعا کی طاقت کی طرف رُخ کرتے ہیں۔ سرکاری حکام نے گاہے بگاہے اِس نقطہ نظر کو چیلنج کیا ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب طبی علاج کو چھوٹے بچّوں سے باز رکھا جاتا ہے۔ تاہم، اراکین کی صحت ، دیکھ بھال اور اِس بارے میں فیصلوں کے متعلق کلیسیا کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔

کرسچن سائنس کے پاس خادمین نہیں ہیں۔ بلکہ بائبل، سائنس اور صحت پاسٹر اور مناد کے طور پر کام کرتے ہیں۔ بائبل کے اسباق کا روزانہ مطالعہ کیا جاتا ہے اور اتوار کے دن ہر مقامی جماعت کے دو منتخب اراکین سے بُلند آواز میں پڑھایا جاتا ہے۔ کرسچن سائنس کلیسیائیں ہفتہ وار گواہیوں کی میٹنگ کا انعقاد کرتی ہیں، جس میں جماعت کے اراکین شفا اور نئی پیدائش کے تجربات بیان کرتے ہیں۔

آج کے دن تک وجود رکھنے والی تمام "مسیحی" بدعات میں سے، کرسچن سائنس"کا نام بالکل غلط اور غیر موزوں ہے۔ کرسچن سائنس نہ ہی کرسچن (مسیحی) ہے اور نہ ہی سائنس پر مبنی ہے۔ کرسچن سائنس اُن تمام بنیادی سچائیوں کا انکار کرتی ہے جن سے مسیحی نظام بنتا ہے۔ کرسچن سائنس حقیقت میں سائنس کے خلاف ہے اور جسمانی اور رُوحانی شفا کے راستے کے طور پر پوشیدہ نو عمر رُوحانیت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ کرسچن سائنس کو پہچانا چاہیے اور اِسےایسی بدعت کے طور پر رد کیا جانا چاہیے جو مسیحیت کی مخالف ہے۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
کرسچن سائنس کیا ہے؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں