settings icon
share icon
سوال

مسیحی دھیان و گیان (مراقبہ/غوروفکر) کیا ہے؟

جواب


19زبور14آیت بیان کرتی ہے، "میرے مُنہ کا کلام اور میرے دِل کا خیال تیرے حضور مقبول ٹھہرے۔ اَے خُداوند! اَے میری چٹان اور میرے فدیہ دینے والے!"۔ تو پھر مسیحی دھیان و گیا ن /غوروفکر کیا ہے، اور مسیحیوں کودھیان و گیان / غوروفکر کیسے کرنی چاہیے؟ بدقسمتی سے جب کبھی لفظ "دھیان و گیان" کااستعمال کیا جاتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ کسی پوشیدہ چیز تک رسائی یا اُسے جاننے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ بعض لوگوں کے نزدیک دھیان و گیان کا مطلب کسی غیر معمولی پوزیشن میں بیٹھ کراپنے ذہن کو دُنیا کی تمام فکروں سے صاف کرنا ہے۔ اور کچھ لوگوں کے نزدیک، غوروفکر کرنا اپنے اِردگردموجود رُوحوں کی دُنیا کے ساتھ بات چیت کرنا ہے۔ اِس طرح کے نظریات مسیحی دھیان و گیان /غوروفکر کی خاصیت بیان نہیں کرتے۔

مسیحی دھیان و گیان /غوروفکر کا مشرقی صوفیوں کی رسومات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایسی رسومات میں خاص قسم کی مذہبی پڑھائی، وجدانی مراقبہ ، اور بہت سی دُعاؤں کی اشکال موجود ہیں جنہیں مراقبے میں کی گئ دُعائیں کہا جاتا ہے۔ اِن کے حوالے سے ایک خطرناک بیان یہ پایا جاتا ہے کہ ہمیں "خُدا کی آواز" اُس کے کلام کے وسیلہ سے نہیں، بلکہ دھیان و گیان، مراقبے یا غوروفکر کے ذریعے ذاتی مکاشفہ کے وسیلہ سے سُننے کی ضرورت ہے۔ بہت سی کلیسیائیں ایسے لوگوں سے بھری ہیں جو سمجھتے ہیں کہ وہ "خُدا کی آواز" سُن رہے ہیں، حتیٰ کہ اُن کی اپنی باتوں میں ہی بہت زیادہ تضاد پایا جاتا ہے اور خاص طور پر خُدا کے کلام کے ساتھ تضاد پایا جاتا ہے۔ اِس وجہ سےایسے لوگ اور ایسی سرگرمیاں مسیح کے بدن میں لامتناہی تفرقوں کا سبب بنتی ہیں۔ مسیحیوں کو خُدا کے کلام کو کبھی بھی ترک نہیں کرنا چاہیے، جو خُدا کا الہام ہے اور تعلیم، اور الزام اور اِصلاح اور راستبازی میں تربیت کرنے کے لئے فائدہ مند بھی ہے۔ تاکہ مردِ خُدا کامل بنے اور ہر ایک نیک کام کے لئے بالکل تیار ہو جائے (2تیمتھیس 3باب16-17آیات)۔ اگر بائبل ہمیں ہر ایک نیک کام کے لئے بالکل تیار کرنے کے لئے کافی ہے، تو ہم کیسے سوچ سکتے ہیں کہ ہمیں کلام کے ساتھ کسی اور چیز کا اضافہ کرنے کی ضرورت ہے یا پھر مزید کچھ جاننے کے لیے کسی خفیہ قسم کے عمل، کسی مراقبے یا وجدانی تجربے کی ضرورت ہے؟

مسیحی دھیان و گیان / غوروفکر صرف اور صرف خُد اکے کلام پر دھیان و گیان یا غوروفکر کرنا ہے کہ وہ کسی خاص معاملے کے بارے میں کیا فرماتا ہے۔ داؤد نے ایسا ہی تجربہ کیا، اور وہ ایسے آدمی کو "مبارک" کہتا ہے "جس کی خوشنودی خُداوند کی شریعت میں رہتی ہے، اور اُس کا دھیان دن رات خُداوند کی شریعت میں رہتا ہے" (1زبور2 آیت)۔ حقیقی مسیحی دھیان و گیان /غوروفکر ایک فعال خیالی عمل ہے جس کے تحت ہم خُدا کے کلام کے مطالعہ میں وقت گزارتے ہیں، اوررُوح القدس کے وسیلہ سے کلام کی سمجھ بوجھ کے لئے دُعا کرتے ہیں جس کے حوالے سے وعدہ کیا گیا ہے کہ وہ "تمام سچائی میں" ہماری مدد کرے گا (یوحنا 16باب13آیت)۔ پھر ہم اِس سچائی کو عمل میں لاتے ہیں، اور اپنے آپ کو خُدا کے کلام کے سپرد کرتے ہیں، اور کلام کو اپنی روز مرہ کی سرگرمیوں کے لئے اصول کے طور پر عمل میں لاتے ہیں۔ یہ عمل رُوحانی ترقی اور خُدا کی باتوں میں پختگی کا سبب بنتا ہے جیسا کہ ہمیں رُوح القدس کی طرف سے سکھایا گیا ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مسیحی دھیان و گیان (مراقبہ/غوروفکر) کیا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries