بائبل شریعت پرستی کے بارے میں کیا کہتی ہے؟



سوال: بائبل شریعت پرستی کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

جواب:
لفظ "شریعت پرستی" کا ذکر بائبل میں نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی اصطلاح ہے جِسے مسیحی قواعد و ضوابط کے نظام پر زور دیتے ہوئے تعلیمی نقطہ نظر کو بیان کرنے، اور نجات اور روحانی ترقی کے حصول کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ شریعت پرست قواعد و ضوابط پر ایمان رکھتے ہیں اور قواعد و ضوابط کے لئے سخت لفظی عمل کا مطالبہ کرتے ہیں۔ تعلیمی طور پر، یہ نقطہ نظر فضل کے مخالف ہے۔ وہ لوگ جو شریعت پرستانہ نظریہ رکھتے ہیں، اکثر شریعت کے اصل مقصد، خاص طور پر پُرانے عہد نامہ کی موسوی شریعت کے مقصد کو سمجھنے میں ناکام ہو جاتے ہیں، جو کہ ہمیں مسیح تک لانے کے لئے ہمارا "سکول ماسٹر" یا "اُستاد" ہے (گلتیوں 3:24)۔

یہاں تک کہ حقیقی ایماندار بھی شریعت پرست ہو سکتے ہیں۔ ہمیں ہدایت کی جاتی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی کریں: "کمزور ایمان والے کو اپنے میں شامل تو کر لو مگر شک و شُبہ کی تکراروں کے لئے نہیں" (رومیوں 14:1)۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہےکہ ایسے لوگ بھی ہیں جو غیر ضروری تعلیمات کے ساتھ اتنے مضبوط ہوتے ہیں کہ وہ دوسروں کو اپنی رفاقت سے باہر نکال دیتے ہیں، یہاں تک کہ اُن کو کسی دوسرے نقطہ نظر کے اظہار کی اجازت بھی نہیں دیتے۔ یہ بھی شریعت پرستی ہے۔ آج بہت سے ایسے شریعت پرست ہیں جو بائبل کی اپنی تشریحات اور یہاں تک کہ اپنی روایات کے ساتھ غیر مناسب وفاداری کا مطالبہ کرنے میں غلطی کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، یہ وہ لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ روحانی بننے کے لئے تمباکو، الکوحل مشروبات، رقص، فلموں وغیرہ سے بچنا ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی چیزوں سے گریز کرنا روحانیت کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔

کُلسیوں 2:20-23 میں پولُس رسول شریعت پرستی کے بارےمیں خبردار کرتا ہے، "جب تم مسیح کے ساتھ دُنیوی ابتدائی باتوں کی طرف سے مر گئے تو پھر اُن کی مانند جو دُنیا میں زندگی گزارتے ہیں انسانی احکام اور تعلیم کے موافق ایسے قاعدوں کے کیوں پابند ہوتے ہو۔ کہ اِسے نہ چھونا۔ اُسے نہ چکھنا۔ اُسے ہاتھ نہ لگانا۔ (کیونکہ یہ سب چیزیں کام میں لاتے لاتے فنا ہو جائیں گی)؟ اِن باتوں میں اپنی ایجاد کی ہوئی عبادت اور خاکساری اور جسمانی ریاضت کے اعتبار سے حکمت کی صورت تو ہے مگر جسمانی خواہشوں کے روکنے میں اِن سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا"۔ ہو سکتا ہے شریعت پرست راستباز اور روحانی ظاہر ہوں، لیکن آخر میں شریعت پرستی خُدا کےمقاصد کو پورا کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے، کیونکہ یہ اندرونی تبدیلی کی بجائے خارجی عمل ہے۔

شریعت پرستی سے بچنے کے لئے، سب سے پہلے ہم یوحنا رسول کے الفاظ کو مضبوطی سے تھام سکتے ہیں، "اِس لئے کہ شریعت تو موسیٰ کی معرفت دی گئی مگر فضل اور سچائی یسوع مسیح کی معرفت پہنچی" (یوحنا 1:17)، اور اُس کے بعد مسیح میں اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ مہربان ہو سکتے ہیں۔ "تُو کون ہے جو دُوسرے کے نوکر پر الزام لگاتا ہے؟ اُس کا قائم رہنا یا گر پڑنا اُس کے مالک ہی سے متعلق ہے بلکہ وہ قائم ہی کر دیا جائے گا کیونکہ خُداوند اُس کے قائم کرنے پر قادر ہے" (رومیوں 14:4)۔ "مگر تو اپنے بھائی پر کس لئے الزام لگاتا ہے؟ یا تُو بھی کس لئے اپنے بھائی کو حقیر جانتا ہے؟ ہم تو سب خُدا کے تختِ عدالت کے آگے کھڑے ہوں گے" (رومیوں 14:10)۔

یہاں پر احتیاط کا لفظ ضروری ہے۔ اگرچہ ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ مہربان ہوں اور متنازع معاملات پر نااتفاقی کو برداشت کریں، لیکن ہم بدعات کو قبول نہیں کر سکتے۔ ہمیں نصیحت کی گئی ہے کہ ہم اُس ایمان کے لئے جانفشانی کریں جو مقدسوں کو ایک ہی بار سونپا گیا ہے (یہوداہ 3)۔ اگر ہم اِن ہدایات کو یاد رکھتے اور محبت اور رحم کے ساتھ اِس کا اطلاق کرتے ہیں، تو ہم شریعت پرستی اور بدعات دونوں سے محفوظ رہیں گے۔ "اے عزیزو! ہر ایک روح کا یقین نہ کرو بلکہ رُوحوں کو آزماؤ کہ وہ خُدا کی طرف سے ہیں یا نہیں کیونکہ بہت سے جھوٹے نبی دُنیا میں نکل کھڑے ہوئے ہیں" (1یوحنا 4:1)۔

English



اردو ہوم پیج میں واپسی



بائبل شریعت پرستی کے بارے میں کیا کہتی ہے؟