settings icon
share icon
سوال

مَیں اپنی مسیحی زندگی میں خوشی کا تجربہ کیسے کر سکتا /سکتی ہوں؟

جواب


خوشی ایسی چیز ہے جس کی ہم سب خواہش کرتے ہیں لیکن اِس کو حاصل کرنا اکثر مشکل ہو جاتا ہے۔ خوشی کا تجربہ ہر مسیحی زندگی کا حصہ ہونا چاہیے۔ خوشی ہماری زندگی میں رُوح القدس کا پھل ہےجو خُدا کی طرف سے کئے گئے فضل کی بدولت تیار ہوتا ہے اور یہ ہمارے لئے خُدا کی مرضی کا حصہ ہے۔

ہم اِس بات کو جانتے ہیں کہ خُدا کے بہت سےایسے لوگ جو رُوحانی طور پر بالغ ہیں وہ بھی اپنی زندگیوں میں خوشی سے خالی وقت کا تجربہ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایوب کی زندگی میں ایک ایسا وقت آیا جب اُس کی خواہش تھی کہ کاش وہ پیدا ہی نہ ہوتا (ایوب 3باب11آیت )۔ داؤد نے دُعا کی کہ خُدا اُسے ایسی جگہ لے جائے جہاں اُسے حقیقت کا سامنا نہ کرنا پڑے (55زبور6-8آیات)۔ ایلیاہ نبی بعل کے 450 نبیوں کو شکست دے کر اور یہاں تک کہ آسمان سے آگ نازل کروا کے (1سلاطین 18باب 16- 46آیات)، بیابان میں بھاگ گیا اور خُدا سے دُعا کرنے لگا کہ خُدا اُس کی جان لے لے (1سلاطین19 باب 3-5آیات)۔ اگر یہ لوگ خوشی حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کرتے رہے، تو ہم اپنی مسیحی زندگی میں مسلسل خوشی کا تجربہ کیسے کر سکتے ہیں؟

سمجھنے کے لئے سب سے پہلی بات یہ ہے کہ خوشی خُدا کی نعمت ہے۔ خوشی کے لئے یونانی لفظ "خارا" استعمال کیا گیا ہے جو فضل کے لئےاستعمال ہونے والےیونانی لفظ "خیرس" کے بہت قریب ہے۔ خوشی ایک ہی وقت میں خُدا کی نعمت اور اُس کی نعمت کا ردِ عمل بھی ہے۔ خوشی تب آتی ہے جب ہم خُدا کے فضل سے واقف ہوتے ہیں اور خُدا کی مہربانی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

اِس چیز کو ذہن میں رکھتے ہوئے، یہ ثابت ہوتا ہے کہ خوشی حاصل کرنے کا طریقہ خُدا پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔ اپنی مشکلات میں گھرے رہنے کی بجائے ، یا اُن چیزوں پر بھروسہ کرنے کی بجائے جو ہمارے اطمینان پر ڈاکہ ڈالتی ہیں، ہم خُدا پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔ یہ کہنا درُست نہیں کہ ہمیں اپنی بے اطمینانی اور منفی جذبات کو ردّ کرنا چاہیے۔ بہت سے زبور نویسوں کی مثالوں کی پیروی کرتے ہوئے ، ہم اپنے دِلوں کو خُدا کےحضور انڈیل سکتے ہیں۔ ہم اُسے اپنی وہ تمام باتیں دلیری سے بتا سکتے ہیں جو ہمیں تکلیف دیتی ہیں۔ لیکن جب ہم یہ باتیں اُسے بتاتے ہیں تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ وہ کون ہے، اور ہم اُس میں خوش ہیں۔زبور 3، 13، 18، 43، اور 103 اِسکی بہترین مثالیں ہیں۔

فلپیوں کے نام خط میں خوشی کے بارے میں بہت تعلیم ملتی ہے، اگرچہ پولُس نے یہ خط قید سے لکھا۔ فلپیوں4باب 4-8آیات مسیحی زندگی میں خوشی کا تجربہ کرنے کے لئے کچھ ہدایات دیتی ہے، "خُداوند میں ہر وقت خوش رہو۔ پھر کہتا ہوں کہ خوش رہو۔ تمہاری نرم مزاجی سب آدمیوں پر ظاہر ہو۔ خُداوند قریب ہے۔ کسی بات کی فکر نہ کرو بلکہ ہر ایک بات میں تمہاری درخواستیں دُعا اور مِنّت کے وسیلہ سے شکر گزاری کے ساتھ خُدا کے سامنے پیش کی جائیں۔ تو خُدا کا اطمینان جو سمجھ سے بالکل باہر ہے تمہارے دِلوں اور خیالوں کو مسیح یسوع میں محفوظ رکھے گا۔ غرض اَے بھائیو! جتنی باتیں سچ ہیں اور جتنی باتیں شرافت کی ہیں اور جتنی باتیں واجب ہیں اور جتنی باتیں دِلکش ہیں غرض جو نیکی اور تعریف کی باتیں ہیں اُن پر غور کیا کرو"۔ یہاں ہم خُدا کی حمدوثنا کرنے، یہ یاد رکھنے کہ وہ قریب ہے، اپنی فکروں کے لئے دُعا کرنے، اور خُدا کی سب اچھی باتوں کو اپنے ذہن میں رکھنے کی اہمیت دیکھتے ہیں۔ جب ہم خُدا کی تعریف کرتے ہیں تو خوشی کا تجربہ کر سکتے ہیں۔ داؤد لکھتا ہے کہ خُدا کے کلام کو پڑھنے سے دِل کو فرحت حاصل ہوتی ہے (19زبور 8آیت)۔ ہم دُعا کے وسیلہ سے خُدا کے ساتھ شراکت رکھ کر خوشی کا تجربہ کر سکتے ہیں۔ اور ہم مشکل حالات اور بے اطمینانی کی بجائے خُدا ترس باتوں پر توجہ کر کے خوشی حاصل کر سکتے ہیں۔

خُداوند یسوع نے بھی خوشی کے بارے میں کچھ ہدایات دی ہیں۔ یوحنا 15 باب میں یسوع سکھاتا ہے کہ ہمیں اُس میں قائم رہنا چاہیے اور اُس کی فرمانبرداری کرنی چاہیے۔ اُس نے فرمایا، "جیسے باپ نے مجھ سے محبت رکھی ویسے ہی مَیں نے تم سے محبت رکھی۔ تم میری محبت میں قائم رہو۔ اگر تم میرے حکموں پر عمل کرو گے تو میری محبت میں قائم رہو گے جیسے مَیں نے اپنے باپ کے حکموں پر عمل کیا ہے اور اُسکی محبت میں قائم ہوں" (یوحنا15باب 9-11آیات)۔ خوشیوں کی کنجیوں میں ایک کنجی خُدا کی فرمانبرداری میں زندگی گزارنابھی ہے۔

مسیحی زندگی میں خوشی حاصل کرنے کا دوسرا طریقہ ایمانداروں کے ساتھ میل جول یعنی رفاقت ہے۔ خُدا نے ایلیاہ کو آرام بخشا اور پھر ایک شخص الیشع کو اُ سکی مدد کے لئے بھیج دیا (1سلاطین19 باب 19-21آیات)۔ ہمیں بھی دوستوں کی ضرورت ہے جن کے ساتھ ہم اپنے دکھ درد بانٹ سکیں (واعظ4 باب 9-12آیات)۔ عبرانیوں10 باب 19-25آیات بیان کرتی ہیں کہ "بھائیو اور بہنو! ۔۔۔ محبت اور نیک کاموں کی ترغیب دینے کے لئے ایک دوسروں کا لحاظ رکھیں۔ اور ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہونے سے باز نہ آئیں جیسا بعض لوگوں کا دستور ہے بلکہ ایک دوسرے کو نصیحت کریں اور جس قدر اُس دن کو نزدیک ہوتے ہوئے دیکھتے ہو اُسی قدر زیادہ کیا کرو"۔ ہم جانتے ہیں کہ خُدا کے فضل کی بدولت ہمیں دُعا میں خُدا تک رسائی کی دلیری حاصل ہے (عبرانیوں10باب19آیت)۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے گناہ دُھل گئے ہیں (عبرانیوں 10باب 22 آیت)۔ اور ہم ایک نئے گروہ یعنی ایمانداروں کے گھرانے میں شامل ہو گئے ہیں۔ ہم اپنے ایماندار ساتھیوں کے ساتھ، خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے، اپنے ایمان کو مضبوطی سے تھام کر رکھتے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں۔ مسیحی اِس دُنیا کے نہیں ہیں (یوحنا17باب14- 16آیات؛ فلپیوں3 باب 20آیت)۔ ہم خُدا کے ساتھ رہنے، اور آخر میں اپنے اصل ڈیزائن یعنی اُس کے ساتھ ہمیشہ کی رفاقت میں بحال ہونے کی خواہش رکھتے ہیں۔ زندگی میں تنہائی اور حوصلہ شکنی ہو سکتی ہے۔ دوسرے لوگ ہمیں سچائی کی یاد دہانی کرانے میں مدد فراہم کرتے ہیں، ہمارا بوجھ اُٹھا سکتے ہیں، اور ہمارے لئے مسیح کے ساتھ چلنے میں باعثِ قوت ہوتے ہیں (گلتیوں 6باب10آیت؛ کُلیسوں3باب 12-14آیات)۔

خوشی مسیحی زندگی کا ایک نشان ہے۔ یہ رُوح القدس کا پھل اور خُدا کی نعمت ہے۔ ہم یہ نعمت اُس وقت حاصل کرتے ہیں جب ہم سچائی پر توجہ کرتے ہیں کہ خُدا کون ہے، اور دُعا کے وسیلہ خُدا کے ساتھ رفاقت رکھتے ہیں، اور ایمانداروں کی اُس جماعت پر بھروسہ کرتے ہیں جو خُدا نے فراہم کی ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مَیں اپنی مسیحی زندگی میں خوشی کا تجربہ کیسے کر سکتا /سکتی ہوں؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries