مسیحی تشریحات مختلف اور بہت زیادہ کیوں ہیں؟


سوال: مسیحی تشریحات مختلف اور بہت زیادہ کیوں ہیں؟

جواب:
بائبل بیان کرتی ہے کہ "ایک ہی خداوند ہے۔ ایک ہی ایمان۔ ایک ہی بپتسمہ" (افسیوں5:4)۔ یہ حوالہ اِس بات پر زور دیتا ہے کہ مسیح کے بدن میں اتحاد ہونا چاہیے جیسے ہم سب نے "ایک ہی روح القدس" پایا (آیت4)۔ تیسری آیت میں، پولُس فروتنی، حلم، تحمل اور محبت کی درخواست کرتاہے کہ یہ سب اتحاد کو قائم رکھنے کے لئے ضروری ہیں۔ 1کرنتھیوں 13-10:2کے مطابق روح القدس خُدا کے ذہن کو بھی جانتا ہے (آیت11)، جِسے وہ اُن لوگوں پر ظاہر کرتا (آیت10)، اور سکھاتا ہے (آیت13) جن میں وہ رہتا ہے۔ روح القدس کی سرگرمی تنویر کہلاتی ہے۔

ایک کامل دُنیا میں، ہر ایماندار فرض کے طور پر (2تھِمُتھیُس 15:2) روح القدس کی تنویر پر دُعائیہ انحصار میں بائبل کا مطالعہ کرے گا۔ جیسا کہ واضح طور پر دکھائی دیتا ہے یہ کامل دُنیا نہیں ہے۔ روح القدس رکھنے والا ہر شخص روح القدس کی نہیں سُنتا۔ بہت سے مسیحی ہیں جو اُسے رنجیدہ کرتے ہیں (افسیوں30:4)۔ کسی بھی اُستاد سے پوچھیں، یہاں تک کہ سب سے بہترین کلاس روم کے اُستاد بھی اپنے ضدی طالب علموں کو سکھا نہیں پاتے جو سیکھنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں، اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اُستاد کیا کرتا ہے۔ لہذہ، مختلف لوگوں کی مختلف تشریحات رکھنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے اُستاد روح القدس کی نہیں سُنتے۔ بائبل سکھانے والے لوگوں کے درمیان مختلف عقائد کے وسیع اختلاف کی کچھ اور وجوہات مندرجہ ذیل ہیں۔

.1 بے ایمانی
حقیقت یہ ہے کہ بہت سے لوگ جو مسیحی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ابھی تک نئے سِرے سے پیدا نہیں ہوئے۔ وہ "مسیحی ہونے" کا لیبل تو رکھتے ہیں لیکن اُن کے دِل حقیقی طور پر تبدیل نہیں ہوئے۔ حتی کہ بہت سے لوگ جو بائبل کے حقیقت پر یقین نہیں رکھتے اِسے سکھانے کا تصور رکھتے ہیں۔ وہ خُدا کی طرف سے بولنے کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ وہ بے ایمانی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ بہت سی غلط تفسیریں ایسے ذرائع سے آتی ہیں۔

ایک غیر ایماندار کے لئے بائبل کی درُست تفسیر کرنا ناممکن ہے۔ "مگر نفسانی آدمی خُدا کے روح کی باتیں قبول نہیں کرتا کیونکہ وہ اُس کے نزدیک بیوقوفی کی باتیں ہیں اور نہ وہ اُنہیں سمجھ سکتا ہے کیونکہ وہ روحانی طور پر پرکھی جاتی ہیں" (1کرنتھیوں14:2)۔ غیر نجات یافتہ شخص بائبل کی سچائی کو سمجھ نہیں سکتا۔ اُس کے پاس تنویر نہیں ہے۔ اِس کے علاوہ ، پاسڑ ہونا یا علمِ الٰہیات کا ماہر ہونا کسی کی نجات کی ضمانت نہیں دیتا۔

بے ایمان کی طرف سے پیدا کردہ فساد کی ایک مثال یوحنا29-28:12میں ملتی ہے۔ یسوع باپ سے یہ کہتے دُعا کرتا ہے، "باپ اپنے نام کو جلال دے" باپ آسمان سے قابلِ سماعت آواز میں جواب دیتا ہے، جو کہ قریبی ہر شخص نے سُنی۔ تاہم تفسیر میں فرق پر غور کریں۔ "جو لوگ کھڑے سُن رہے تھے اُنہوں نے کہا کہ بادل گرجا۔ اوروں نے کہا کہ فرشتہ اُس سے ہم کلام ہوا"۔ ہر ایک نے آسمان سے ایک ہی قابلِ ذکر بیان سُنا لیکن ہر ایک نے اُسے ویسے سمجھا جیسے وہ سمجھنا چاہتے تھے۔

.2 تربیت کی کمی
پطرس رسول ایسے لوگوں کے خلاف خبردار کرتا ہے جو بائبل کی غلط تفسیر کرتے ہیں۔ وہ اپنی جعلی تعلیمات کو بائبل کے کچھ حصوں کے ساتھ منسوب کرتے ہیں کیونکہ وہ "جاہل" ہیں (2پطرس16:3)۔ تھِمُتھیُس کو بتایا جاتا ہےکہ" اپنے آپ کو خُدا کے سامنے مقبول اور ایسے کام کرنے والے کی طرح پیش کرنے کی کوشش کر جس کو شرمندہ ہونا نہ پڑے اور جو حق کے کلام کو درُستی سے کام میں لاتا ہو" (2تھِمُتھِیُس15:2)۔ بائبل کی مناسب تفسیر کے لئے کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے۔ ہم مطالعہ کرنے میں پابند ہیں۔

.3 کمزور علم التفسیر
بہت سی غلطیاں اچھی تفسیر (بائبل کی تفسیر کرنے کی سائنس) کے اطلاق میں ناکامی کی وجہ سے ترقی کرتی گئی۔ کسی آیت کو اُس کے فوری سیاق و سباق سے نکالنے کی وجہ سے بہت نقصان پہنچ سکتا ہے۔ کسی کتاب یا باب کے وسیع سیاق و سباق کو نظر انداز کرنے، یا تاریخی/ثقافتی سیاق و سباق کو سمجھنے میں ناکامی کی صورت میں بھی مسائل پیداہوں گے۔

.4 خُدا کے مکمل کلام سے لاعلمی
اُپلوس ایک قوی اور خوش تقریر واعِظ تھا، لیکن وہ صرف یوحنا کے بپتسمہ کے بارے میں جانتا تھا۔ وہ یسوع کے بارے میں، اور نجات کی فراہمی کے بارے میں لاعلم تھا، اِس لئے اُس کا کلام نا مکمل تھا۔ پرسِکلّلہ اور اَکوِلہ نے اُسے الگ لے جا کر "خُدا کی راہ اور صحت کے ساتھ بتائی" (اعمال28-24:18)۔ اِس کے بعد اُپلوس نے یسوع مسیح کی منادی کی۔ آج بھی کچھ گروہوں اور افراد کے پاس نامکمل پیغام ہے کیونکہ وہ دوسروں کو خارج کرنے کے لئے کچھ حوالہ جات پر توجہ دیتے ہیں۔ وہ حوالوں کا حوالوں کے ساتھ موازنہ کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

.5 مطلب پرستی اور غرور
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بائبل کے بہت سے مفسرین کی بنیاد اپنے ذاتی رُجحانات اور مند پسند تعلیمات پر ہے۔ کچھ لوگ بائبل پر "نئے نقطہ نظر" کو فروغ دینےسے اپنی ذاتی ترقی کا موقع دیکھتے ہیں۔ (یہوداہ کے خط میں جھوٹے اُستادوں کی تفصیل دیکھیں)۔

.6 روحانی بلُوغت میں ناکامی

جب مسیحی اُس طور پر بالغ نہیں ہوں گے جس طور پر اُنہیں ہونا چاہیے، تو خُدا کے کلام کا استعمال متاثر ہو گا۔ "میں نے تُمہیں دُودھ پلایا اور کھانا نہ کھلایا کیونکہ تم کو اُ س کی برداشت نہ تھی بلکہ اب بھی برداشت نہیں۔ کیونکہ ابھی تک جسمانی ہو۔ اِس لئے کہ جب تُم میں حسد اور جھگڑا ہے تو کیا تم جسمانی نہ ہوئے اور انسانی طریق پر نہ چلے؟" (1کرنتھیوں3-2:3)۔ ایک نابالغ مسیحی خُدا کے کلام کی "سخت غذا" کھانے کے لئے تیار نہیں ہے۔ غور کریں کرنتھیس کی کلیسیا کی جسمانیت کلیسیا کی تقسیم کا ثبوت تھی (آیت4)۔

.7رویات کی غیر ضروری اہمیت
کچھ چرچز بائبل پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن اُن کی تفاسیر ہمیشہ اُن کے چرچ کی قائم کردہ روایات کے ذریعے فِلٹر کی جاتی ہیں۔ جہاں روایات اور بائبل کی تعلیم متصادم ہوتی ہے، رویات کو پہلے پیش کیا جاتا ہے۔ یہ موثر طریقے سے کلام کے اختیار کی نفی کرتا ہے اور کلیسیائی قیادت کو فضیلت بخشتا ہے۔

عقائد کے معاملے میں بائبل بالکل واضح ہے۔ یسوع مسیح کی الُوہیت، فردوس اور جہنم کی حقیقت، اور نجات فضل سے ایمان کے وسیلہ سے ملتی ہے جیسے عقائد پر کچھ بھی مبہم نہیں ہے۔ تاہم، کچھ کم اہمیت والے معاملات میں بائبل کم واضح ہے، اور یہ قدرتی طور پر مختلف تفسیروں کی طرف رہمنائی کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، ہمارے پاس براہ راست بائبل کا حکم نہیں جو رفاقت کی تعدد اِرتعاش پر عمل پیرا ہو یا میوزک کو استعمال کرنے کے انداز کے متعلق ہو۔ دیانت دار اور مخلص مسیحی اِن محیط معاملات کے متعلق حوالہ جات کی مختلف تفسیر کر سکتے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ جہاں بائبل راسخ الاعتقاد ہے وہاں آپ بھی راسخ الاعتقاد ہو جائیں، اور جہاں بائبل راسخ الاعتقاد نہیں ہے وہاں راسخ الاعتقاد نہ ہوں۔ چرچز کو یروشلیم میں ابتدائی کلیسیا کے ماڈل کی پیروی کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ "وہ رسولوں سے تعلیم پانے اور رفاقت رکھنے میں اور روٹی توڑنے اور دُعا کرنے میں مشغول رہے" (اعمال42:2)۔ ابتدائی کلیسیا میں اتحاد تھا کیونکہ وہ رسولوں کی تعلیم میں ثابت قدم تھے۔ کلیسیا میں دوبارہ اتحاد ہو گا جب ہم رسولوں کی تعلیم پر واپس آ جائیں گے اور دوسری تعلیمات، فیشن، اور دھوکے دہی کو اُکھاڑ پھینکیں گے جو کہ چرچ میں پھوٹ پڑی ہیں۔

English
اردو ہوم پیج میں واپسی
مسیحی تشریحات مختلف اور بہت زیادہ کیوں ہیں؟