کیا ایک مسیحی کوبیمہ پالیسی(انشورنس) کروانی چاہیے؟


سوال: کیا ایک مسیحی کوبیمہ پالیسی(انشورنس) کروانی چاہیے؟

جواب:
بعض اوقات مسیحی اِس سوال کے ساتھ جونجھتے ہیں کہ آیا اُنہیں انشورنس کروانی چاہیے یا نہیں۔ اور کیا ایک مسیحی کے انشورنس کروانے کی وجہ سے اُس کے ایمان کی کمی کا اظہار ہوتا ہے؟ یہ ایک صحتمند کشمکش ہے اور ایمانداروں کو اِس حوالے سے کتابِ مقدس کی جانچ پڑتال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ایسا جواب حاصل کر سکیں جس کا وہ بائبل کی تعلیمات کی روشنی میں دفاع کر سکیں۔

سب سے پہلے آئیے اِس بات پر اتفاق کریں کہ مسیحیوں کے لئے انشورنس کا ذکر بالخصوص بائبل میں نہیں کیا گیا۔ اگر کسی چیز کا خاص طور پر بائبل میں ذکر نہیں کیا جاتا، تو ہمیں کتابِ مقدس کی تعلیمات میں سےاُس کے حوالے سے اصول حاصل کرنے ہوں گے۔ ایسے میں مختلف ایماندار مختلف ذاتی قائلیت حاصل کر سکتے ہیں، اور یہ بالکل ٹھیک ہے۔ رومیوں14باب بیان کرتا ہے کہ ایسے حالات دوسروں کی تجاویز کا احترام کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ایماندار اپنے فیصلےکرنے کے ذمہ دار ہیں (رومیوں14باب 5 آیت)۔ اِسی باب کی 23آیت بیان کرتی ہے کہ ہم جو بھی فیصلہ کریں وہ ایما ن پر مبنی ہونا چاہیے۔ ایک مسیحی کا انشورنس حاصل کرناذاتی قائلیت کا معاملہ ہے، ایک مسیحی کو انشورنس کےلئے ذاتی طور پر قائل ہونا چاہیے کہ خُدا چاہتا ہے کہ وہ انشورنس حاصل کرے، اور انشورنس نہ کروانے والے مسیحی کو ذاتی طور پر دوسری صورتحال میں قائل ہونا چاہیے۔

یہاں بائبل کے کچھ اصول ہیں جو ہماری رہنمائی کرتے ہیں: ہمیں اُن اختیارات کے تابع ہونا چاہے جو ہمارے اُوپر ہیں۔ اِس طرح جب قانون ہم سے کسی نقصان سے تحفظ کے لیے انشورنس کا مطالبہ کرتا ہے، تو ہمیں لازمی طور پراِسکی تعمیل کرنی چاہیے۔ اِس کے علاوہ، ہمیں اپنے خاندانوں کا خیال رکھنا ہے۔ اِس طرح مسیحیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے خاندانوں کے مستقبل کے فائدے کے لئے پہلے سے منصوبہ بندی کریں، اور انشورنس کرنا اِس کا ایک حصہ ہو سکتا ہے۔ پہلے سے منصوبہ بندی کرنے میں خاندان کے کسی رُکن کی غیرمتوقع/ناگہانی وفات کے لئے تیار ہونا بھی شامل ہے۔ ہو سکتا ہے بعض لوگوں کو لگے کہ لائف انشورنس ایمان کی کمی یا دولت سے پیار ہے ، یا دانشمندانہ منصوبہ بندی اور دوسروں سے حاصل کردہ رقم کا عقلمند مختار بننا ہے۔ اِن معاملات میں ہر شخص کے حالات اور ذاتی قائلیت مختلف ہو سکتی ہے۔ خُدا یقیناً پہلے سے کی گئی منصوبہ بندی کی حمایت کرتا ہے۔ یوسف کی کہانی اور دانشمندانہ منصوبہ بندی نے نہ صرف مصری قوم کی جان بچائی بلکہ بنی اسرائیل اور مسیح کے نسب نامے میں شامل اہم لوگوں کو بھی بچایا (پیدائش41 باب)۔

حاصل کلام یہ ہے کہ ہمیں خُدا کے کلام کا مطالعہ کرنا چاہیے اور یہ پوچھتے ہوئے خُدا سےدُعا کرنی چاہیے کہ وہ اِس معاملے میں اور زندگی کے باقی معاملات میں ہم سے کیا چاہتا ہے۔ خُدا ہمیں حکمت عنائت کرنا چاہتا ہے (یعقوب1 باب5 آیت)۔ عبرانیوں11 باب 6 آیت بیان کرتی ہے کہ بغیر ایمان کے خُدا کو پسند آنا ناممکن ہے۔ یہ ایک حقیقی سوال ہے کہ : "کیا اِس سے میرا آسمانی باپ خوش ہو گا؟" سمجھنے کے لئے ایک اورحوالہ یعقوب4 باب 17 آیت ہے، جو بیان کرتی ہے کہ اگر ہمیں نیکی کرنے کا موقع ملے تو ہمیں ضرور کرنی چاہیے، اگر نہیں کرتے تو گناہ کرتے ہیں۔ ایک اورحوالہ جو اِس مسئلے پر بات کرتا ہے1 تیمتھیس5باب 8آیت ہے، جو بیان کرتی ہے کہ اگر ہم دوسروں کی خدمت کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنے گھرانے سے ہی شروع کرنا چاہیے۔ ایک مسیحی شخص انشورنس کو اِن مقاصد کے حصول کے لئے اپنی مدد کرنے کے ذریعے کے طور پر دیکھ سکتا ہے۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
کیا ایک مسیحی کوبیمہ پالیسی(انشورنس) کروانی چاہیے؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں