settings icon
share icon
سوال

مسیحیت میں اتنے زیادہ فرقے کیوں ہیں؟

جواب


اس سوال کا جواب دینے سے پہلے، ہمارے لیےمسیح کے بدن میں موجود فرقوں اور غیر مسیحی بدعات اور جھوٹے مذاہب کے درمیان فرق کو جاننا ضروری ہے۔ پریسبٹیرین اور لوتھرن کلیسیائیں مسیحی فرقوں کی مثالیں ہیں۔مورمن (کلیسیائے یسوع مسیح برائےمقدسینِ آخری ایام ) اور یہواہ کے گواہ بدعات (وہ فرقے جو مسیحی ہونے کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن مسیحی عقائد کو کُلی یا جزوی طور پر رَد کرتے ہیں) کی مثالیں ہیں۔ اِسلام اور بُدھ مت مکمل طور پر الگ مذاہب ہیں۔

مسیحی ایمان میں سے فرقوں کے شروع ہونے کا آغاز کلیسیا کے اندر اصلاح کی تحریک کے ساتھ ہوا ۔ اِس تحریک کا مقصد سولہویں صدی کے دوران رومن کیتھولک کلیسیا کے اندر"اصلاح" کرنا تھا اِس تحریک کی وجہ سے پروٹسٹنٹ کلیسیا کے چار بڑے فرقوں نے جنم لیا جن کے نام : لوتھرن ، اصلاحی کلیسیا، اینا بیپٹسٹ اور اینگلیکن کلیسیا ہیں۔ آئندہ صدیوں کے دوران اِن چاروں میں سے مزید بہت سارے فرقوں نے جنم لیا۔

لوتھرن فرقے کا نام مارٹن لوتھر کے نام پہ رکھا گیا اور اِس کی بنیاد اُس کی تعلیمات پر رکھی گئی تھی۔ میتھوڈسٹ کلیسیا کی بنیاد جان ویسلی نے رکھی اور چونکہ جان ویسلی رُوحانی ترقی کے لیے مختلف طرح کے طریقہ کار (methods) پیش کرنے کے لیے مشہور تھا اِس لیے اُس کے پیروکار میتھوڈسٹ کہلائے۔ پریسبٹیرین کلیسیا کا نام کلیسیا کی ساخت اور قیادت کے حوالے سے لوگوں کے تصورات اور عقیدے کی بنیاد پر رکھا گیا۔ بزرگ یا ایلڈر کے لیے یونانی لفظ پریسبیٹروس Presbyteros استعمال کیا گیا ہے۔ بیپٹسٹ کلیسیا نے یہ نام اِس لئے حاصل کیا کیونکہ وہ ہمیشہ بپتسمہ کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ ہر ایک فرقہ معمولی فرق رکھتا ہے یا معمولی طور پر تعلیمی اختلافات پر زیادہ زور دیتا ہے، جیسا کہ بپتسمہ لینے /دینے کاطریقہ ، عشائے ربانی کی دستیابی سب کے لئے یا صرف اُن کے لئے جن کی گواہی کی کلیسیا کی قیادت کی طرف سے تصدیق ہو سکتی ہے۔ نجات کے معاملے میں خُدا کی خود مختاری یا آزاد مرضی(خُدا کی طرف سے بلاہٹ کا جواب دینے کی ذمہ داری)، اسرائیل کا مستقبل اور کلیسیا،کلیسیا کا اُٹھایا جانا عظیم مصیبت کے بعد یا اُس سے پہلے، رُوح کی نعمتوں اور نشانوں کا موقوف ہونا یا حالیہ طور پر بھی جاری رہنا وغیرہ۔ اِن اختلافِ رائے کا مرکز یا نقطہ کبھی بھی یہ نہیں ہوا کہ مسیح خُداوند بطورِ مجسم خُدا نجات دہندہ ہے یا نہیں۔بلکہ یہ اختلافات صرف اِس وجہ سے ہیں کہ خُدا کے مخلص ترین لوگوں میں بھی مختلف طرح کے خیالات پائے جاتے ہیں کچھ میں حکمت کی کمی اور سوچ سمجھ کی کمزوری بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن ہر ایک شخص یا گروہ کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے ذہن، شعور اور کلام کی سمجھ کے مطابق خُدا کے پاک کلام کو سمجھیں اور حقیقی عقائد کی روشنی میں خدا کے نام کو جلال دیں۔ اِسی بناء پر کلیسیا کے اندر مختلف قسم کے فرقے وجود میں آئے ہیں۔

آج کل ہمیں اور بہت سے اور مختلف فرقے دیکھنے کو ملتے ہیں۔اوپر بیان کردہ اصل بنیادی فرقے بعد میں مزید کئی ایک فرقوں اور شاخوں میں تقسیم ہو گئے ہیں۔ جیسے کہ اسمبلیز آف گاڈ، کرسچن اینڈ مشنری الائنس، نازرینز، ایونجیلیکل فری، اِنڈیپنڈنٹ بائبل چرچز، اوراِن کی مانند اور بہت سے ۔ کچھ فرقے تو معمولی نظریاتی اختلافات پر زور دیتے ہیں، لیکن زیادہ تر فرقے مسیحیوں کی طبیعت اور ترجیحات کی بناء پر عبادت کے مختلف انداز پیش کرتے ہیں۔ ایماندار ہونے کے ناطے غلطی مت کریں،ہمیں اپنے بنیادی ترین عقائد کے حوالے سے بالکل ہم خیال ہونا چاہیے۔ لیکن اِس کے علاوہ یہ بھی ایک بہت وسیع موضوع ہے کہ مسیحیوں کو اجتمائی طور پر کیسے عبادت کرنی چاہیے۔یہ وسعت ہی ہے جو مسیحی کلیسیاؤں کے اند ربہت سارے مختلف رنگوں کا باعث بنتی ہے۔ یوگنڈا میں موجود ایک پریسبٹیرین کلیسیا کا عبادتی انداز کو لوراڈو میں موجود پریسبٹیرین کلیسیا کے عبادت کرنے کے انداز سے بہت مختلف ہو گا، لیکن اُن کی تعلیمات کا زیادہ تر حصہ ایک جیسا ہی ہو گا۔ تنُوع اچھی چیز ہے، لیکن عدمِ اتفاق اچھی چیز نہیں ہے۔ اگر دو کلیسیائیں عقائدی لحاظ سے اختلافِ رائے رکھتی ہیں تو کلام کے اُس خاص حصے کی تفسیر اور تشریح کے لیے دونوں کلیسیاؤں کے مابین بات چیت اور بحث کا انتظام کیا جا سکتا ہے۔ اِس طریقے سے "لوہے کو لوہے سے تیزکرنا" (امثال 27 باب 17 آیت ) دونوں فریقوں کے لیے ہی فائدہ مند ہوتا ہے۔ اگر وہ عبادت کے انداز اور وضع پر اختلافِ رائے رکھتے ہیں، تو اُن کا الگ رہنا ہی بہتر ہے۔ بشرطیکہ ، یہ جُدائی مسیحیوں کی ایک دوسرے سے محبت کرنے(1 یوحنا 4 باب 11-12 آیات) اور مسیح میں ایک بدن کے طور پر متحد ہونے کی ذمہ داری ختم نہ کرے(یوحنا 17 باب 21-22 آیات)۔

مسیحی فرقوں کا منفی پہلو

فرقہ واریت یا فرقہ پرستی کے کم از کم دو بڑے مسائل دیکھنے کو ملتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ کلامِ مُقدس میں کہیں پر بھی فرقہ واریت یا فرقہ پرستی کے بارے میں نہ تو بات کی گئی ہے اور نہ ہی اِس تصور کی پشت پناہی کی گئی ہے۔ اِس کے برعکس کلیسیا کے اندر اتحاد اور باہمی طور پر جڑے رہنے کے بارےمیں بارہا تلقین کی گئی ہے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ تاریخ ہمیں واضح طور پر بتاتی ہے کہ فرقہ واریت تاریخی لحاظ سے باہمی نا اتفاقی، جھگڑے یااختلاف کی وجہ سے پیدا ہوئی، اور یہ چیزیں ہمیشہ ہی کسی بھی چیز یا گروہ میں تقسیم، علیحدگی اور جُدائی کا باعث ہوتی ہیں۔خُداوند یسوع نے کہا ہے کہ " اگرکسی گھر میں پھوٹ پڑ جائے تو وہ گھر قائم نہ رہ سکے گا۔" ہمیں تقسیم اور علیحدگی کا ایک ایسا معاملہ کرنتھس کی کلیسیا کے اندر دیکھنے کو ملتا ہے۔ وہاں پر ایسے لوگ موجود تھے جو یہ خیال کرتے تھے کہ اُنہیں پولس رسول کی پیروی کرنی چاہیے اور ایسے بھی تھے جو یہ خیال کرتے تھے کہ اُنہیں اپلوس کےپیچھے چلنا چاہیے۔ 1 کرنتھیوں 1 باب 12 آیت میں لکھا ہے کہ "میرا یہ مطلب ہے کہ تم میں سے کوئی تو اپنے آپ کو پولُس کا کہتا ہے کوئی اپُلو س کا کوئی کیفا کا کوئی مسیح کا"۔ آپ کو پولس کی اِسی بات سے معلوم ہو جائے گا کہ وہ کلیسیا کے اندر فرقہ واریت یا کسی بھی ایسی چیز یا بات کے بارے میں کیا خیال رکھتا تھا جو کلیسیا کے اندر تقسیم اور علیحدگی کا سبب بن سکتی ہے۔لیکن آئیے ہم مزید 13 آیت کے اندر دیکھتے ہیں کہ پولس کیا کہتا ہے۔"کیا مسیح بٹ گیا؟ کیا پَولس تمہاری خاطر مصلوب ہُوا؟ یا تم نے پَولس کے نام پر بپتسمہ لِیا؟" یہ چیز ہمیں بتاتی ہے کہ فرقہ واریت یا فرقہ پرستی کے حوالے سے پولس رسول کیسا محسوس کرتا تھا۔ پولس رسول مسیح نہیں ہے۔ وہ ہماری نجات کی خاطر مصلوب نہیں ہوا تھا، اور اُس کا پیغام کسی بھی صورت ایسا نہیں رہا جس کی وجہ سے کلیسیا کے اندر فرقہ واریت جنم لے ، اُس کی تعلیم کسی بھی صورت مسیح کی بجائے پولس رسول کی عبادت یا پرستش کرنے کی طرف راغب نہیں کرتی۔ اِس لیے پولس رسول کے مطابق ایک ہی کلیسیا ہے اور ایمانداروں سے ملکر یسوع کا ایک ہی بدن بنتا ہے اور کوئی بھی چیز جو اِس کے علاوہ ہے وہ کلیسیا کو کمزور کرتی ہے اور اُس کی تباہی کا باعث بنتی ہے (آیت 17 دیکھئے)۔ وہ اِسی نکتے پر 3 باب 4 آیت میں مزید زور دیتے ہوئے کہتا ہے کہ "جب ایک کہتا ہے مَیں پَولس کا ہُوں اور دُوسرا کہتا ہے مَیں اپُلّو س کا ہُوں تو کیا تم اِنسان نہ ہُوئے؟" یعنی اُن کا ایسا کہنا ایک گناہگار انسان کی سوچ کی بدولت ہے۔

ذیل میں کچھ ایسے مسائل کو پیش کیا جا رہا ہے جن کا سامنا ہمیں موجودہ طور پر کلیسیائی فرقہ واریت یا فرقہ پرستی کو دیکھنے کے بعد ہوتا ہے۔ اِن میں سے زیادہ تر کا تعلق کلیسیا کی موجودہ تاریخ کے ساتھ ہے۔

‌أ. زیادہ تر مسیحی فرقوں کے وجود کی بنیاد کلامِ مُقدس کی تفسیر کے حوالے سے اختلاف پر رکھی گئی ہے۔ اِس کی ایک مثال بپتسمے کے معنی اور مقصد ہو سکتے ہیں۔ کیا بپتسمہ نجات پانے کے لیے ضروری ہے یا پھر نجات کا اعلان کرنے کی ایک علامت ہے؟ اِن دونوں تصورات کی حمایت کے لیے مختلف فرقے پائے جاتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بپتسمہ، اِس کے معنی و مفہوم، اِس کو لینے یا دینے کا طریقہ کار، کون بپتسمہ لے سکتا ہےا ور کون اِسے نہیں لے سکتا وغیرہ جیسی باتیں بہت ساری کلیسیاؤں میں علیحدگی اور نئے فرقوں کے وجود میں آنے کا سبب بنی ہیں۔

‌ب. اکثر ایسا دیکھا گیا ہے کہ کلامِ مُقدس کی تفسیر پر جو اختلافِ رائے ہوتا ہے اُسے ذاتی حملہ یا ذاتی عناد کی وجہ سمجھ لیا جاتا ہے اور یہ چیز باہمی طور پر اختلاف اور اکثر جھگڑے کا باعث بنتی ہے۔ پس یہ بات کلیسیا کو بحث و مباحثے کی طرف لے جاتی ہے اور دیکھا گیا ہے کلیسیا کے اندرونی بحث و مباحثے سب سے زیادہ کلیسیا کی گواہی کو تباہ کرنے کا سبب بنے ہیں۔

‌ج. کلیسیا کو اپنے سارے معاملات کو اندرونی طور پر نپٹانے کے قابل ہونا چاہیے، لیکن ایک بار پھر تاریخ اِس بات کی گواہ ہے کہ ایسا ہوتا نہیں ہے۔ آجکل کے دور میں میڈیا ہمارے باہمی اختلاف کو لیکر اچھالتا اور ہمارے ہی خلاف استعمال کرتے ہوئے دُنیا کو دکھاتا ہے کہ ہم اپنے خیالات اور مقصد کے حوالے سے متفق نہیں ہیں۔

‌د. بہت سارے فرقوں کو کئی لوگ اپنے شخصی فوائد کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ آج ہمیں ایسے فرقے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جو خود ہی اپنی تباہی کا باعث بن رہے ہیں کیونکہ وہ ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہیں جو اپنے اپنے ذاتی مفاد اور ایجنڈے کے تحت کام کر رہے ہیں۔

‌ه. اتفاق یا اتحاد کی اہمیت اِس خصوصیت میں پائی جاتی ہے کہ اپنی رُوحانی نعمتوں اور وسائل کو ایسے لوگوں تک خُدا کا کلام اور بادشاہت کی خوشخبری لے کر جانے میں استعمال کیا جائے جو خُداوند کی بادشاہت کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ یہ چیز اُس اختلاف اور علیحدگی کے بالکل برعکس ہے جو فرقہ واریت یا فرقہ بندی و فرقہ پرستی کے ذریعے سےآتی ہے۔

پس ایک ایماندار کو کیا کرنا چاہیے؟ کیا ہمیں فرقہ واریت اور فرقہ بندی کو رَد یا نظر انداز کرنا چاہیے؟ کیا ہمیں چرچ میں نہیں جانا چاہیے اور صرف اپنے گھر پر ہی عبادت کرنی چاہیے؟ اِن دونوں سوالوں کا جواب "نہیں" ہے۔ ہمیں کسی ایسی کلیسیا کو ڈھونڈنا چاہیے جہاں پر مسیح کے وسیلے نجات کی خوشخبری کی تعلیم دی جاتی ہے۔ جہاں پر آپ شخصی طور پر خُدا کے ساتھ ایک ذاتی تعلق قائم کر سکتے ہیں اور جہاں پر آپ ایسی خدمتوں میں حصہ لے سکتے ہیں جو خُدا وند کی بادشاہی کی وسعت اور اُس کے نام کے جلال کا باعث ہیں۔ کلیسیا بہت زیادہ ضروری ہے اور ہر ایک ایماندار کو ایک ایسی کلیسیا کے ساتھ رفاقت رکھنے کی ضرورت ہے جو اوپر بیان کردہ معیاروں پر پورا اُتری ہے۔ ہمیں ایک تعلق کی ضرورت ہے جو ہمیں صرف اور صرف ایمانداروں کے اکٹھ اور رفاقت میں ہی مل سکتا ہے۔ ہمیں قوت اور مدد کی ضرورت ہے جو صرف اور صرف کلیسیا ہی مہیا کر سکتی ہے، اور ہمیں شخصی طور پر اور اجتماعی طور پر خدمت کرنے کی ضرورت ہے جو ہم صرف اور صرف کلیسیا کے ساتھ ملکر کر سکتے ہیں۔کسی بھی کلیسیا کا اِس بنیاد پر انتخاب کریں کہ اُس کا مسیح کے ساتھ کیسا تعلق ہے اور وہ کلیسیا مسیحیوں کے درمیان کیسی خدمت کر رہی ہے۔ ایسی کلیسیا کا انتخاب کریں جہاں پر ایک خادم بے خوف ہو کر کلام کی بالکل درست تعلیم دیتا ہے اور جہاں پر اُس کی اِس خدمت کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ ایمانداروں کے طور پر کچھ ایسے مخصوص عقائد ہیں جن پر حتمی طور پر ہمارا ایمان ایک جیسا ہونا چاہیے ، اِس کے علاوہ دیگر ایسے بہت سارے عقائد اور باتیں ہیں جن کو ماننے کے حوالے سے کلیسیائی لحاظ سے اور کلامِ مُقدس کی تعلیمات کے اندر لچک پائی جاتی ہے جس کی بناء پر ہم یہ جان پاتے ہیں کہ ہمیں کس طرح سے خدمت کرنی ہے اور کیسے ہم نے عبادت کرنی ہے۔ یہ لچک اور وسعت ہی ہے جو فرقوں کے وجود کے لیے ایک مثبت چیز مانی جا سکتی ہے۔ اِس کو ہم تنوع یا فرق تو کہہ سکتے ہیں لیکن نا اتفاقی نہیں۔ تنوع یا فرق ہمیں مسیح میں انفرادیت رکھتے ہوئے جینے میں مدد دیتا ہے جبکہ نا اتفاقی ہمیں بانٹ کر تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مسیحیت میں اتنے زیادہ فرقے کیوں ہیں؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries