settings icon
share icon
سوال

کیا بچّے ہمیشہ ہی خُدا کی طرف سے خاص برکت ہوتے ہیں؟

جواب


کلامِ مُقدس بالکل واضح ہے کہ ہر ایک انسان کی تخلیق خُدا کی حضوری میں ہوتی ہے۔ اِس کی سب سے واضح تصویر ہمیں 139 زبور 13-18آیات میں ملتی ہے۔ اِس حقیقت نے داؤد کو خُدا کی تمجید کرنے پر اُبھارا کہ خُدا نے اُس کی تخلیق و ترتیب خود کی۔ داؤد اِس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ اِس سے پہلے کہ وہ تخلیق ہوا خُدا نے اُس کے ایام کو مقرر کر دیا تھا۔ یرمیاہ 29باب11آیت میں خُدا داؤد کے اِن خیالات کی تصدیق کرتا ہے۔ "کیونکہ مَیں تمہارے حق میں اپنے خیالات کو جانتا ہُوں خُداوند فرماتا ہے یعنی سلامتی کے خیالات ۔ بُرائی کے نہیں تاکہ مَیں تم کو نیک انجام کی اُمّید بخشوں۔ " یقینی طور پر یہ بات بہت ہی اچھا سوال اُٹھاتی ہے۔ ایسی صورت میں اُن بچّوں کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے جو زنا بالجبر یا ناجائز تعلق کی وجہ سے ماں کے پیٹ میں پڑ جاتے ہیں؟ وہ والدین جو اُس بچّے کو اِس دُنیا میں لانے کا سبب بنتے ہیں وہ شاید یہ محسوس کریں کہ ایسا بچّہ خُدا کی طرف سے ایک برکت نہیں ہے لیکن جس انداز یا وجہ سے وہ بچّہ پیدا ہوا ہے اُس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ماں کے پیٹ میں اُس کی تخلیق اور ترتیب خُدا کی طرف سے نہیں ہوئی جیسے کہ داؤد اپنے بارے میں بیان کرتا ہے۔ اِس بات سے قطع نظر کہ کوئی شخص کس طرح سے پیدا ہوتا ہے ، ہر پیدا ہونے والے انسان کی زندگی کے لیے خُدا کا کوئی نہ کوئی مقصد اور منصوبہ ضرور ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کلامِ مُقدس نے اِس بات کو بیان نہ کیا ہوتا۔ نئے عہد نامے میں ہم پڑھتے ہیں کہ خُدا نے ہم سب سے ایسی محبت رکھی کہ اُس نے ہماری خاطر جان دینے کیلئے اپنے اکلوتے بیٹے کو بھیج دیا (یوحنا 3باب16 آیت)۔

یہ وہی محبت ہے جس نے ہمارے نجات دہندہ کو مجبور کیا کہ وہ اپنے شاگردوں کو خُدا کا کلام سکھائے اور خُدا کی اُس محبت کا عملی مظاہر ہ ہماری خاطر اپنی صلیبی موت اور پھر جی اُٹھنے کے وسیلے سے دے (1 یوحنا 4 باب 7-8)۔ خُدا ہمارے ساتھ کتنا پیار کرتا ہےا ور ہمیں کس قدر برکت دینا چاہتا ہے اِس کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ انسان کی تخلیق میں خُدا کا مقصد اُس کے ساتھ رفاقت رکھنا تھا۔ 1 یوحنا 4 باب ہمیں بتاتا ہے کہ ایک بار جب ہمیں اِس چیز کا ادراک ہو جائے پھر یہ ادراک ہمیں اِس قابل بناتا ہے کہ ہم دوسرے لوگوں کے ساتھ محبت کر سکیں۔ کیا ہم ہر ایک بچّے کو خُدا کی طرف سے خاص برکت سمجھتے ہیں اِس کا انحصار اِس بات پر ہے کہ ہم اُس بچّے کو کس حد تک اُس نظر سے دیکھتے ہیں جس نظر سے خُدا اُسے دیکھتا ہے۔ جب ہم ہر کسی بچّے کو خُدا کی نظر سے دیکھتے ہیں تو پھر ہمارےلیے یہ ماننا کبھی بھی مشکل نہیں ہوتا کہ ہر ایک بچّہ خُدا کی طرف سے خاص برکت ہے۔ اگر ہم کسی بچّے پر گناہ کی نظر سے نگاہ کرتے ہیں تو پھر ہم اُس کےخُدا کی برکت ہونے پر شک کریں گے کیونکہ اُس وقت ہم خالق پر نہیں بلکہ مخلوق پر اپنی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہوتے ہیں۔

یہ خُدا کا منصوبہ اور خواہش ہے کہ ہمارے ہاں ہر ایک بچّہ اُس کے منصوبے کے مطابق پیدا ہو جو کہ شادی کا رشتہ ہے۔ جب ایسا نہیں ہوتا تو بھی اُس پیدا ہونے والے انسان کے لیے خُدا کی محبت اور اُس کی فکر کرنے کی حقیقت خارج العمل نہیں ہو جاتی۔ داؤد 139 زبور 17 آیت میں اپنے اُس خیال کو اِس بات پر ختم کرتا ہے کہ خُدا کے خیالات اُس کے لوگوں کے لیے کیسے بیش بہاہیں اور اُن کا مجموعہ بہت بڑا ہے۔ اِس بات کی سب سے زیادہ عملی شکل کو متی 1 باب میں بیان کردہ خُداوند یسوع مسیح کے نسب نامے میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اُن سارے ناموں کی فہرست میں ہم ایسے لوگوں کو دیکھ سکتے ہیں جو اپنی زندگی میں جگہ جگہ ناکام ہوئے اور ایسے بھی لوگ دیکھنے کو ملتے ہیں جو شادی کے مُقدس رشتے کی بنیاد پر پیدا نہیں ہوئے تھے بلکہ گناہ کی بدولت پیدا ہوئے تھے۔ اِس چیز نے اِس حقیقت کو تہ و بالا نہیں کیا تھا کہ خُدا کا کلام پورا ہوا اور بنی نوع انسان کے لیے انسانی نجات کی برکت لایا۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا بچّے ہمیشہ ہی خُدا کی طرف سے خاص برکت ہوتے ہیں؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries