میں خُدا کا فرزند کیسے بن سکتاہوں؟



سوال: میں خُدا کا فرزند کیسے بن سکتاہوں؟

جواب:
خُدا کے فرزند بننے کے لیے یسوع مسیح پر ایمان لانا ضروری ہے۔ ’’لیکن جتنوں نے اُسے قبول کِیا اُس نے اُنہیں خُدا کے فرزند بننے کا حق بخشا یعنی اُنہیں جو اُس کے نام پر ایمان لاتے ہیں‘‘ (یوحنا۱۲:۱)

آپ کو نئے سِرے سے پیدا ہونا ضرور ہے

جب مذہبی رہنما نِیکُدِیمُس نے دورہ کیا تو یسوع نے فوراً اُسے فردوس کی یقین دہانی نہیں کرائی ۔ بلکہ یسوع نے یہ کہتے ہوئے اُسے آگاہ کیا کہ اُسے خُدا کا فرزند بننا ضرور ہے۔ ’’میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک کوئی نئے سِرے سے پیدا نہ ہو وہ خُدا کی بادشاہی کو دیکھ نہیں سکتا‘‘(یوحنا۳:۳)۔

جب کوئی شخص پہلی بار پیدا ہوتا ہے وہ گناہ آلودہ فطرت وراثت میں پاتا ہے جو کہ باغِ عدن میں آدم کی نافرمانی سے حاصل ہوتی ہے۔ بچہ کو سکھانا نہیں پڑتا کہ وہ گناہ کیسے کرے۔ وہ فطری طور پر اپنی غلط خواہشات کی پیروی کرتا ہے۔ جو جھوٹ، چوری، نفرت جیسے گناہوں کی سبب بنتی ہیں۔ اور اِس طرح وہ خُدا کا فرزند بننے کی بجائے نافرمانی اور غضب کا فرزند بنتا ہے۔ (افسیوں۱:۲۔۳)۔

غضب کے فرزند ہونے کے ناطے ہم جہنم میں خُدا سے جُدائی کے مستحق ہیں۔ شکر ہے، افسیوں۲:۴۔۵ میں مرقوم ہے کہ ’’مگر خُدا نے اپنے رحم کی دولت سے اُس بڑی محبت کے سبب سے جو اُس نے ہم سے کی۔ جب قصوروں کے سبب سے مُردہ ہی تھے تو ہم کو مسیح کے ساتھ زندہ کیا۔ تم کو فضل ہی سے نجات ملی ہے‘‘۔ ہم مسیح کے ساتھ کس طرح زندہ کئے گئے ، کس طرح نئے سِرے سے پیدا کئے گئے ، اور خُدا کے فرزند کیسے بنے؟ لازم ہے کہ ہم یسوع کو ایمان کے وسیلہ سے قبول کریں۔

یسوع کو قبول کریں

"لیکن جتنوں نے اُسے قبول کیا۔ اُس نے اُنہیں خُدا کے فرزند بننے کا حق بخشا" (یوحنا۱:۱۲)۔ یہ آیت واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ خُدا کے فرزند کیسے بنتے ہیں۔ ہمیں یسوع پر ایمان لا کراُسے قبول کرنا ضرورہے۔ ہمیں یسوع کے بارے میں کیا ایمان لانا ضرور ہے؟

سب سے پہلے، خُدا کا فرزند یہ تسلیم کرتا ہے کہ یسوع خُدا کا ازلی بیٹا ہے جو انسان بنا۔ رُوح القُدس کی قدرت سے کنواری سے پیدا ہوا، یسوع نے آدم کی گناہ آلودہ فطرت میراث میں نہیں پائی۔ اِس لیے یسوع کو پِچھلا آدم کہا جاتا ہے (۱۔کرنتھیوں۲۲:۱۵)۔ جبکہ آدم کی نافرمانی سے دُنیا میں گناہ کی لعنت آئی، مسیح کی کامل فرمانبرداری سے برکت آتی ہے۔ ہمیں ردِعمل کے طور پر توبہ کرنی چائیے (گناہ سے باز آنا) اور مسیح میں معافی کی تلاش کرنی چاہیے۔

دوسری بات، خُدا کا فرزند یسوع مسیح نجات دہندہ پر ایمان رکھتا ہے۔ خُدا کا منصوبہ تھا کہ وہ اپنے کامل بیٹے کو اُن گناہوں کی ادائیگی کے طور پر صلیب پر قربان کرے جس کے اصل حق دار ہم تھے۔ مسیح کی موت اُن سب کو آزاد کرتی ہے جو اُسے گناہ کی قوت اور سزا میں سے قبول کرتے ہیں۔ اُس کی قیامت ہمیں راستباز ٹھہراتی ہے (رومیوں۲۵:۴)۔

آخر میں خُدا کا فرزند یسوع کی خُداوند کے طور پر پیروی کرتا ہے۔ موت اور گناہ پر فاتح یسوع کے زندہ ہونے کے بعد خُدا نے اُسے کُل اختیار دے دیا (افسیوں۲۰:۱۔۲۳)۔ یسوع اُن سب کی رہنمائی کرتا ہے جو اُسے قبول کرتے ہیں ، وہ اُن سب کی عدالت کرے گا جو اُسے ردّ کرتے ہیں (اعمال۴۲:۱۰) خُدا کے فضل کی بدولت ہم سب خُدا کے فرزند کے طور پر نئے سرے سے نئی زندگی کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔ خُدا کے فرزندصرف وہی بننے ہیں جو یسوع کو قبول کرتے ہیں، نہ کہ اُس کے بارے میں صرف معلومات رکھنے والے ، بلکہ جو نجات کے لیے اُس پرتکیہ کرتے ہیں ، آقا کے طور پر اُس کی اطاعت کرتے ہیں، اعلیٰ خزانہ کے طور پر اُس سے پیار کرتے ہیں وہی خُدا کے فرزند بنتے ہیں۔

خُدا کے فرزند بنیں

جیسا کہ ہماری فطری پیدائش میں ہمارا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا، ویسے ہی ہم خود سے ایمان کا تصور کر کے یا اچھے اعمال کر کے خود کو خُدا کے خاندان میں پیدا نہیں کرسکتے۔ صرف خُدا ہی ہے جواپنی مہربان مرضی سے خُدا کے فرزند بننے کا ’’حق بخشتا‘‘ ہے۔ ’’دیکھو خُدا نے ہم سے کیسی محبت کی ے کہ ہم خُدا کے فرزند کہلائے ‘‘ (۱۔یوحنا۳:۱)۔ اِس طرح خُدا کے فرزند کے پاس فخر کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے، خُداوند ہی اُس کا فخر ہے (افسیوں۸:۲۔۹)۔

ایک بچہ اپنے والدین کی طرح دکھائی دینے کے لیے بڑا ہوتا ہے۔ اِسی طرح خُدا بھی چاہتاہے کہ اُس کے فرزندزیادہ سے زیادہ یسوع مسیح کی مانند بنیں۔ اگرچہ ہم صرف فردوس میں کامل ہوں گے، خُدا کا فرزند عادتاً،اور غیر منفعل طور پر گناہ نہیں کرے گا۔ ’’اے بچّو! کسی کے فریب میں نہ آنا۔ جو راست بازی کے کام کرتا ہے وہی اُس کی طرح راست باز ہے۔ جو شخص گناہ کرتا ہے وہ اِبلیس سے ہے کیونکہ اِبلیس شروع سے گناہ کرتا رہا ہے۔ خُدا کا بیٹا اِسی لیے ظاہر ہُوا تھا کہ اِبلیس کے کاموں کو مِٹائے۔ جو کوئی خُدا سے پیدا ہُوا ہے وہ گناہ نہیں کرتا کیونکہ اُس کا تُخم اُس میں بنا رہتا ہے بلکہ وہ گُناہ کر ہی نہیں سکتا کیونکہ خُداسے پیدا ہوا ہے۔ اِسی سے خُدا کے فرزند اور اِبلیس کے فرزندظاہر ہوتے ہیں۔ جو کوئی راست بازی کے کام نہیں کرتا وہ خُدا سے نہیں اور وہ بھی نہیں جو اپنے بھائی سے محبت نہیں رکھتا‘‘ (۱۔یوحنا۷:۳۔۱۰)۔

غلطی نہ کریں۔ خُدا کا فرزند گُناہ سے ’’دست بردار ‘‘ نہیں ہو سکتا۔ لیکن جو کوئی مُسلسل گناہ میں اور گناہ کی لذت میں مصروف رہتا اور مسیح اور اُس کے کلام کا لحاظ نہیں کرتا ظاہر کرتا ہے کہ وہ نئے سرے سے پیدا نہیں ہوا۔ یسوع نے ایسے لوگوں سے کہا ’’تُم اپنے باپ اِبلیس سے ہو اور اپنے باپ کی خواہشوں کو پُورا کرنا چاہتے ہو‘‘ (یوحنا۴۴:۸)۔ دوسری بات، خُدا کا فرزند گناہ کی لذت کی آرزو نہیں کرتا بلکہ اپنے باپ کی محبت اور جلال کو جاننے کی آرزو کرتا ہے۔

خُدا کے فرزند بننے کا اعزاز ناقابلِ پیمائش ہے۔ خُدا کے فرزند کے طور پر ، ہم اُس کے گھرانہ (کلیسیاء) کا، آسمان پر ایک گھر کے وعدہ کا ایک حصہ ہیں۔ اورہمیں دُعا کے وسیلہ سے خُدا تک رسائی بھی حاصل ہے (افسیوں۱۹:۲؛۱۔پطرس۳:۱۔۶؛رومیوں۱۵:۸)۔خدا کی بلاہٹ کا جواب گناہوں سے توبہ اور مسیح پر ایمان لا کر دیں۔ آج ہی خُدا کے فرزند بنیں!

جو بھی کچھ آپ نے یہاں پڑھا ہے اس کی بنیاد پر کیا آپ نے مسیح کے لئے فیصلہ لیا ہے؟ اگر آپکا جواب ہاں میں ہے تو برائے مہربانی اس جگہ پر کلک کریں جہاں لکھا ہے کہ آج میں نے مسیح کو قبول کر لیا ہے۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



میں خُدا کا فرزند کیسے بن سکتاہوں؟