settings icon
share icon
سوال

کیا رُوح کی نعمتوں کے منسوخ ہونے کا نظریہ بائبلی ہے؟

جواب


: انگریزی اصطلاح Cessationism دراصل ایک ایسے نظریے کو پیش کرتی ہے جس کے مطابق رُوح القدس کی "معجزانہ نعمتیں" جیسے کہ غیر زبان اور جسمانی شفا اب منسوخ ہو چکی ہیں - اِس نظریے کے حامیوں کا ماننا ہے کہ رسولی دور کے ساتھ ہی یہ معجزانہ نعمتیں بھی جن کا تعلق اُس دور کے ساتھ تھا ختم ہو گئیں۔ رُوح کی نعمتوں کے منسوخ ہونے کے نظریے کے زیادہ تر حامی یہ ایمان رکھتے ہیں کہ خُدا آج کے دن بھی معجزات کر سکتا ہے اور کرتا بھی ہے، لیکن رُوح القدس جس طرح سے رسولی دور میں مخصوص لوگوں کو لیکر معجزانہ نشانات دکھاتا تھا ویسا وہ اب نہیں کرتا۔

بائبلی ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ مختلف معجزات کچھ مخصوص ادوار کے اندر خُدا کی طرف سے آنے والے نئے پیغام کی تصدیق و توثیق کے لیے وقوع پذیر ہوئے ہیں۔ موسیٰ کو معجزات کرنے کی قوت بخشی گئی تاکہ وہ فرعون کے سامنے اپنے پیغام اور اپنی خدمت کی تصدیق پیش کر سکے (خروج 4 باب 1-8آیات)۔ ایلیاہ نبی کو معجزات کرنے کی قوت بخشی گئی تاکہ وہ اخی اب بادشاہ کے سامنے اپنے پیغام اور خدمت کی تصدیق پیش کر سکے (1 سلاطین 17 باب 1آیت؛ 18 باب 24آیت)۔ رسولوں کو معجزات کرنے کی قوت بخشی گئی تاکہ وہ اسرائیل قوم کے سامنے اپنے پیغام اور خدمت کی تصدیق کو پیش کر سکیں (اعمال 4 باب 10، 16آیات)۔

یسوع مسیح کی خدمت میں بھی بہت سارے معجزات شامل تھے جنہیں یوحنا رسول "نشانات" کہتا ہے (یوحنا 2 باب 11آیت)۔ یوحنا یہاں پر بیان کرنا چاہتا ہے کہ یسوع کی طرف سے کئے جانےو الے معجزات اُس کے پیغام کی حقانیت کی تصدیق کرتے تھے۔

یسوع کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد جب کلیسیا کا قیام عمل میں آ رہا تھا اور نیا عہد نامہ قلمبند کیا جا رہا تھا، تو اُس وقت رسولوں کی طرف سے مختلف نشانات (معجزات) کا مظاہرہ کیا گیا جیسے کہ غیر زبانیں اور شفا دینا، اور یہ نشانات اُن کے لیے نہیں تھے جو ایمان لا چکے تھے بلکہ یہ اُن کے لیے تھے جو ابھی ایمان نہیں لائے تھے (1 کرنتھیوں 14 باب 22آیت ایک ایسی آیت ہے جو واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ غیر زبانوں کی نعمت ایمانداروں کے لیے نہیں تھی)۔

پولس رسول نے نبوت کی تھی کہ غیر زبانوں کی نعمت منسوخ ہو جائے گی (1 کرنتھیوں 13 باب 8آیت)۔ ذیل میں چھ ثبوت پیش کئے گئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ نعمت منسوخ ہو چکی ہے۔

1. رسول جن کے وسیلے سے غیر زبانوں کی نعمت آئی تھی وہ کلیسیا کی تاریخ میں منفرد حیثیت کے مالک اور حامل تھے۔ جس وقت اُن کی خدمت ختم ہو گئی، اُس کے ساتھ ہی اُن کی خدمت کی تصدیق کرنے والے نشانات (معجزات) بھی منسوخ ہو گئے۔

2. معجزات (نشانات)کا ذکر ہمیں ابتدائی خطوط کے اندر ہی ملتا ہے جیسے کہ 1 کرنتھیوں۔ بعد میں قلمبند ہونے والی کتابوں جیسے کہ افسیوں اور رومیوں کے اندر رُوح کی نعمتوں کے بارے میں تفصیلی پیراگراف تو وجود ہیں لیکن اُن میں معجزات کی نعمتوں کا کہیں پر کوئی ذکر نہیں ملتا، اگرچہ رومیوں کے نام خط میں نبوت کی نعمت کا ذکر کیا گیا ہے۔ جس یونانی لفظ کا ترجمہ "نبوت" کیا گیا ہے اُس کے معنی ہیں "بولنا/کلام کرنا" لہذا نبوت سے مُراد لازمی طور پر مستقبل کے بارے میں پیشن گوئیاں کرنا ہی نہیں ہے۔

3. غیر زبانوں کی نعمت ایمان نہ لانے والے اسرائیلیوں کے لیے ایک نشان تھی کہ اب نجات غیر اقوام کے لیے بھی میسر تھی۔ دیکھئے 1 کرنتھیوں 14 باب 21-22آیات اور یسعیاہ 28 باب 11-12آیات۔

4. غیر زبانوں کی نعمت اپنی حیثیت کے لحاظ سے نبوت(کلام سنانے) کی نعمت سے چھوٹی تھی۔کلامِ مُقدس کی تعلیم کا دیا جانا کلیسیا کی ترقی کا باعث ہوتا ہے جبکہ غیر زبان کا بولا جانا کلیسیا کی اجتماعی ترقی کا باعث نہیں ہوتا۔ ایمانداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ غیر زبانیں بولنے سے بڑھ کر نبوت (کلام کی خدمت کرنے) کی نعمت کے خواہشمند ہوں(1 کرنتھیوں 14 باب1-3آیات)۔

5. تاریخ بھی اِس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ غیر زبانوں کی نعمت منسوخ ہو چکی ہے۔ رسولی دور کے بعد ابتدائی کلیسیا کے فادروں کی کسی بھی تحریر کے اندر غیر زبانوں کا قطعی طور پر کوئی ذکر نہیں ملتا۔ دیگر مصنفین جیسے کہ جسٹن شہید، اوریجن ، کرسسوسٹم اور اگسٹن کا یہ ماننا تھا کہ غیر زبانوں کی نعمت کا تعلق صرف کلیسیا کے ابتدائی دِنوں کے ساتھ ہی تھا۔

6. ایسے شواہد اور اشارے ملتے ہیں کہ غیر زبانوں کی معجزانہ نعمت منسوخ ہو چکی ہے۔ اگر غیر زبانوں کی نعمت آج کے دن تک موجود ہوتی تو اُس صورت میں مشنریوں کو نئی زبانیں سیکھنے کے سکولوں میں داخلے لینے کی قطعی طور پر کوئی ضرورت نہ ہوتی۔ مشنریوں کے لیے کسی بھی ملک میں جانا اور پھر خودکار طریقے سے اُس ملک کی کسی بھی زبان کو باآسانی بولنا ممکن ہوتا، بالکل ویسےہی جیسے رسولوں کے لیے ایسا کرنا ممکن تھا (اعمال 2 باب )۔ اب جہاں تک شفا دینے کی معجزانہ نعمت کا تعلق ہے تو ہم کلامِ مُقدس میں دیکھتے ہیں کہ معجزانہ طور پر شفا دینے کی نعمت یسوع مسیح اور اُس کے بعد اُس کے رسولوں کی خدمت کے ساتھ جُڑی ہوئی تھی (لوقا 9 باب 1-2آیات)۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ جیسے ہی رسولی دور اپنے اختتام کو پہنچا، ویسے ہی غیر زبانوں کی طرح معجزانہ طور پر شفا دینے کی نعمت بھی اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔ پولس رسول جس نے یوتخس نامی ایک نوجوان کو زندہ کر دیا تھا اُس نے اپفردتس (فلپیوں 2 باب 25-27آیات)، ترفمس (2 تیمتھیس 4 باب 20آیت)، تیمتھیس (1 تیمتھیس 5 باب 23آیت) یا پھر اپنے آپ کو شفا نہ دی تھی (2 کرنتھیوں 12 باب 7-9آیات)۔ پولس رسول کے اِن سب معاملات میں شفا نہ دینے کی وجوہات یہ ہیں کہ (1) اِس نعمت کا یہ مقصد نہیں تھا کہ دُنیا کے ہر ایک مسیحی کو جسمانی طور پر بالکل اچھا بھلا یا تندرست کر دیا جائے، بلکہ اِس کا مقصد رسولوں کی طرف سے اپنی رسالت کی حقانیت کا ثبوت دینا تھا ؛ اور (2) رسولوں کے اختیار اور رسالت کا ثبوت بڑے واضح طور پر دیا جا چکا تھا اِس لیے مزید معجزات کی ضرورت نہ رہی تھی۔

اوپر بیان کردہ وجوہات اِس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ معجزات کی نعمتیں منسوخ ہو چکی ہیں۔ 1 کرنتھیوں 13 باب 13آیت تا 14باب 1آیت کے مطابق ہمیں سب سے بڑھ کر محبت کی نعمت کا خواہشمند ہونا چاہیے کیونکہ یہ سب نعمتوں سے افضل ہے۔ اگر ہم رُوح نعمتوں کو حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں تو ہمیں کلامِ مُقدس کو پیش کرنے کی نعمت (نبوت) کا خواہشمند ہونا چاہیے جس سے سب کی ترقی ممکن ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا رُوح کی نعمتوں کے منسوخ ہونے کا نظریہ بائبلی ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries