بائبل غاروں میں رہنے والے، تحریری تاریخ سے پہلے کے زمانے کے لوگوں، حجری دور(پتھر کے زمانے) کے لوگوں کے بارے میں کیا کہتی ہے؟


سوال: بائبل غاروں میں رہنے والے، تحریری تاریخ سے پہلے کے زمانے کے لوگوں، حجری دور(پتھر کے زمانے) کے لوگوں کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

جواب:
بائبل غاروں کے باسی "Cavemen" یا نیندرتھل "Neanderthals" حجری دور (پتھر کے زمانے) کے لوگوں کے لیے استعمال ہونے والی اِن اصطلاحات کا ذکر نہیں کرتی۔اور بائبل کے مطابق تحریری تحریر سے پہلے کے زمانے (Pre-historic) کے لوگوں جیسی کوئی چیز اپنا وجود نہیں رکھتی تھی۔ Pre-historic اصطلاح کے معنی ہیں "تاریخ کے قلمبند ہونے سے پہلے کا دور"۔بائبل اِس بارے میں قطعی طور کوئی اشارہ نہیں کرتی کہ آدم اور حوؔا ارتقاء پذیر ہوئے تھے ۔ اور نہ ہی بائبل اِس حوالے سے کوئی اشارہ دیتی ہے کہ آدم اور حوؔا کی تخلیق سے پہلے بھی انسانوں جیسی کوئی مخلوق موجود تھی۔

یہ سب کچھ کہنے کے بعد بائبل یہ ضرور بیان کرتی ہے کہ اِس زمین پر ایک بہت بڑا طوفان ہو گزرا ہے (پیدائش 6- 9ابواب )، جس کے دوران آٹھ جانوں کے علاوہ انسانی تہذیب مکمل طور پر تباہ کر دی گئی تھی۔ انسانیت کا دوبارہ آغاز کیا گیا۔بہت سارے علماء کا ماننا ہے کہ یہ وہ دور تھا جس وقت انسان غاروں میں رہتے تھے اور پتھر کے اوزار اور ہتھیار استعمال کرتے تھے۔ اِس مقام پر یہ لوگ قدیم (حجری دور کے لوگ) نہیں تھے، وہ صرف مفلس/حاجت مند تھے۔ اور وہ یقینی طور پر نصف بندر بھی نہیں تھے۔ فوسل اِس بات کو بالکل واضح طور پر ثابت کرتے ہیں کہ غاروں میں رہنے والے لوگ کوئی عجیب مخلوق نہیں تھے بلکہ یہی عام انسان غاروں میں رہتے تھے۔

بندروں کی فوسلوں کے طور پر ملنے والی کچھ باقیات کی بناء پر اکثر لوگوں کی طرف سے یہ خیال کیا جاتا رہا ہے کہ یہ کسی قدیم دور کے انسان ہیں اور یہ وہ دور تھا جب بندر ارتقاء کے ذریعے انسانوں میں تبدیل ہو رہے تھے ۔ زیادہ تر ارتقاء پسندوں کا خیال ہے کہ یہ وہ دور تھا جب یہ بندر نما انسان غاروں میں رہتے تھے۔ ایسے خیالات سوچ کر اُن کے ذہن میں اُس دور کے لوگوں کی جو تصویر بنتی ہے اُس میں وہ آدھی انسان اور آدھی بندر نما مخلوق کو دیکھتے ہیں جس کی جلد پر کافی زیادہ بال ہیں اور وہ غار کے اندر آگ کے قریب بیٹھی ہوئی ہے اور اُن میں سے کوئی ایک اپنے نوکیلے پتھر کے ہتھیار سے غار کی دیوار پر خاکہ بنا رہا ہے۔ یہ ایک عام غلط فہمی ہے۔ اور جہاں تک ڈاروّن ازم سے متعلقہ انسانی ارتقاء کے تصور کی بات ہےتو ہمیں اِس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ یہ تشریحات ایک ایسے عجیب عالمی نقطہ نظر کی عکاسی کرتی ہیں جس کی پشت پناہی کرنے کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف تعلیم یافتہ حلقوں میں اِن تشریحات اور خیالات کے بارے میں بہت زیادہ مخالفت اور تردید پائی جاتی ہے بلکہ ڈاروّن ازم کو مانے والے ماہرینِ علم الانسان کے تصورات میں بھی باہمی طور پر اتفاق نہیں پایا جاتا ۔

بدقسمتی سےحالیہ طور پر مقبول لوگوں کے حلقے کی طرف سے اِس تصور کو فروغ دیا جا رہا ہے کہ بندروں اور انسانوں کے آباؤ اجداد ایک ہی تھے، لیکن یہ بات حتمی طور پر دستیاب شہادت کی واحد معقول تشریح نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اِس عجیب تشریح کے حق میں ثبوتوں کی کمی ہے۔

جب خُدا نے آدم اور حوا کو خلق کیا، وہ مکمل طور پر کامل اور پختہ انسان، گفتگو کرنے، معاشرے میں رہنے، اور ترقی کرنے کے قابل تھے (پیدائش2 باب 19- 25 آیات؛ 3باب 1- 20آیات؛ 4 باب 12آیت )۔ غور کیا جائے تو یہ بڑی دلچسپ بات ہے کہ ارتقاء کے حامی سائنسدان تحریری تاریخ سے قبل کے غار باش لوگوں کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے کس حد تک چلے جاتے ہیں۔ وہ کسی نہ کسی غار میں چند ایک مسخ شُدہ دانت تلاش کرتے، اور اُس سے ایک بندر کی طرح جھکا ہوا مسخ شُدہ انسان تخلیق کرتے ہیں جو اُن کے خیال میں غار میں رہتا تھا۔ ایسا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ سائنس کسی فوسل کے تھوڑے سے ٹکڑے کی بنیاد پر غاروں میں رہنے والے قدیم انسانوں کے وجود کو ثابت کر سکے۔ ارتقا پسند سائنسدانوں کے پاس صرف نظریہ ہے اوروہ ثبوت کو نظریے کے ساتھ زبردستی جوڑتے ہیں۔ آدم اور حوؔا سب سے پہلے انسان تھے جن کو تخلیق کیا گیا اور وہ مکمل انسانی وجود کے حامل، ذہین، اور راست تھے۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
بائبل غاروں میں رہنے والے، تحریری تاریخ سے پہلے کے زمانے کے لوگوں، حجری دور(پتھر کے زمانے) کے لوگوں کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں