settings icon
share icon
سوال

بائبل سرمایہ داری کے نظریے /نظام کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟

جواب


لغت کے اندر سرمایا داری کے نظریے کی تعریف کچھ یوں کی گئی ہے کہ "یہ ایک معاشی نظام ہے جس میں کوئی ایک فردِ واحد نجی طور پر یا پھر کچھ افراد گروہی طور پر سرمائے یا اشیاء کی ملکیت، سرمایہ کاری کے ذریعے رکھتے ہیں جس کا تعین نجی فیصلوں، قیمتوں، پیداواراور اشیاء کی تقسیم اور بنیادی طور پر آزاد منڈی میں مسابقت کے ذریعےکیا جاتا ہے۔"اگرچہ بائبل نام لیکر سرمایہ داری کے نظام کا ذکر نہیں کرتی ، لیکن یہ ایک بہت بڑے پیمانے پر معاشی معاملات پر بات ضرور کرتی ہے۔ مثال کے طور پر امثال کی کتاب کے پورے پورے حصے اور خُداوند یسوع مسیح کی تعلیمات میں بہت ساری تمثیلیں معاشی معاملات پر بات کرتی ہیں۔ اِن سب کے وسیلے سے ہم یہ سیکھتے ہیں کہ ہمارا دولت کی جانب کیسا رویہ ہونا چاہیے اور ہمیں اپنے مال و دولت کے ساتھ کیا کرنا چاہیے۔ بائبل ہمیں انسانی فطرت کے بارے میں بھی آگاہی فراہم کرتی ہے جو ہمیں معاشرے میں معاشی نظام کی ممکنہ کامیابی یا ناکامی کا جائزہ لینے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

کیونکہ معیشت وہ چیز ہے جس کا ہماری روز مرہ کی زندگی کے ساتھ گہرا تعلق ہے ، اِس لیے ہمیں بائبلی نقطہ نظر سے اِس چیز کا جائزہ لینا چاہیے۔ جب ہم بائبل کو اپنے فریم ورک کے طور پر استعمال کرتے ہیں تو ہم ایک ایسی حکومت اور معیشت کے لئے ماڈل کی تعمیر شروع کر سکتے ہیں جو انسانی صلاحیت کو آزاد کرے اور انسانی گناہ کو محدود کرے۔پیدایش 1باب28آیت میں خُدا کہتا ہے کہ ہم زمین کو معمور و محکوم کریں اور اِس پر اختیار رکھیں۔ اِس حوالے سے ایک تصور یہ پیش کیا جاتا ہے کہ انسان اِس زمین پر ملکیت رکھ سکتا اور اُس پر اپنے اختیار کو عمل میں لا سکتا ہے۔ اب چونکہ ہمارے پاس ارادے اور نجی جائیداد رکھنے جیسے دونوں حقوق ہیں تو ایسے میں ہم یہ فرض کر سکتے ہیں کہ ہمیں اپنی اِس نجی جائیداد کے حقوق کا آزاد مارکیٹ میں تبادلہ کرنے کی بھی آزادی ہونی چاہیے جہاں پر اشیاء اور خدمات کا تبادلہ کیا جا سکتا ہے۔

تاہم گناہ کی تباہ کاریوں کی وجہ سے دُنیا کے بہت سارے حصے زوال اور قلت زدہ مقامات بن چکے ہیں۔ اور اگرچہ خُدا نے ہمیں اپنی تخلیق پر اختیار اور حاکمیت دی ہے لیکن ہمیں اُن سب وسائل کے اچھے مختار ہونا چاہیے۔ ۔ تاریخی طور پر آزاد انٹرپرائز سسٹم نے اب تک وضع کردہ کسی بھی معاشی نظام کو سب سے زیادہ آزادی اور سب سے موثر معاشی فوائد فراہم کیے ہیں۔ اس کے باوجود مسیحی اکثر سوچتے ہیں کہ کیا وہ سرمایہ داری کی حمایت کر سکتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ آزاد سرمایہ دارانہ نظام میں ذاتی فائدے کے طور پرصلہ ملتا ہے۔اور انجیل کا پیغا م بھی ہمارے اپنے ذاتی فائدے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ کیونکہ خُداوند یسوع مسیح کو اپنے شخصی نجات دہندہ کے طور پر قبول کرنا ہمارے اپنے ذاتی فائدے کا سبب ہوتا ہے۔ اور اُس کو اپنا نجات دہندہ قبول کرنے کی بدولت ہماری اپنی حتمی ابدی منزل کا تعین ہو جاتا ہے۔

مسیحی نقطہ نظر سے نجی املاک کی بنیاد انسان کے خُدا کی شبیہ پر تخلیق کئے جانے پر رکھی گئی ہے۔ ہم اپنی اُس املاک کے حوالے سے مختلف طرح کے انتخابات لے سکتے ہیں جس کا ہم عام مارکیٹ میں تبادلہ کر سکتے ہیں۔ لیکن بہت دفعہ نجی املاک کے لیے ہماری خواہش ہماری گناہ آلود فطرت سے جنم لیتی ہے۔ اِسی مناسبت سے ہماری گناہ آلود فطرت بھی سُستی، غفلت اور پھوہڑ پن کو پیدا کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ معاشی انصاف اُس صورت میں بہتر طور پر حاصل کیا جا سکتا ہے جب لوگ اپنی پیداواری صلاحیت کے لیے جوابدہ ہو۔

تاریخی طور پر سرمایہ داری کے بہت سے فوائد رہے ہیں۔ اس نے معاشی صلاحیت کو آزاد کر دیا ہے۔ اس نے بہت بڑے پیمانے پر سیاسی اور معاشی آزادی کی بنیاد بھی فراہم کی ہے۔ جس وقت حکومت مارکیٹوں کو کنٹرول نہیں کر رہی ہوتی تو پھر کاروباری سرگرمیوں میں شامل ہونے کی معاشی آزادی ہوتی ہے۔ سرمایہ داری کے نظام نے بھی بہت زیادہ سیاسی آزادی حاصل کی ہے کیونکہ ایک بار جب ہم معاشیات میں حکومت کے کردار کو محدود کر دیتے ہیں تو ہم دوسرے شعبوں میں بھی حکومت کا دائرہ کار محدود کر دیتے ہیں۔ یہ کوئی حادثہ نہیں ہے کہ سب سے زیادہ سیاسی آزادی رکھنے والے زیادہ تر ممالک کو عام طور پر بہت زیادہ معاشی آزادی حاصل ہوتی ہے۔

تاہم مسیحی لوگ سرمایہ داری کے ہر پہلو کی توثیق نہ تو کر سکتے ہیں اور نہ ہی اُنہیں کرنی چاہیے۔ مثال کے طور پر سرمایہ داری کے بہت سے حامی ایک نظریہ رکھتے ہیں جسے افادیت پسندی کے نام سے جانا جاتا ہے جو بائبل کے مطلقات کے نظریات کے خلاف ہے۔ یقیناً ہمیں اس فلسفے کو مسترد کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ کچھ معاشی اور اخلاقی مسائل بھی ہیں جن پر توجہ دینی چاہیے۔ اگرچہ سرمایہ داری کے نظام کے حوالے سے کچھ جائز معاشی تنقیدیں ہیں جیسے اجارہ داریاں اور آلودگی کی ضمنی پیداوار، لیکن ان پر محدود حکومتی کنٹرول کے ذریعے قابو پایا جاسکتا ہے۔ اور جب سرمایہ داری نظام پر دانشمندی سے قابو پایا جاتا ہے تو یہ نظام اپنے عوام کے لئے نمایاں معاشی خوشحالی اور معاشی آزادی پیدا کرتا ہے۔

سرمایہ داری کےنظام کے خلاف ایک اہم اخلاقی دلیل لالچ ہے، یہی وجہ ہے کہ بہت سے مسیحی آزاد انٹرپرائز نظام کے بارے میں غیر یقینی کا احساس رکھتے ہیں۔ سرمایہ داری کے ناقدین کا مؤقف ہے کہ یہ نظام لوگوں کو لالچی بناتا ہے۔ لیکن پھر ہمیں یہ پوچھنا چاہئے کہ کیا سرمایہ داری لوگوں کو لالچی بناتی ہے یا ہمارے پاس پہلے ہی لالچی لوگ ہیں جو سرمایہ دارانہ نظام کی معاشی آزادی کو اپنے مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کرتے ہیں؟ انسانی فطرت کے بارے میں بائبل کے بیان کی روشنی میں (یرمیاہ 17باب9آیت) مؤخر الذکر کا امکان زیادہ لگتا ہے۔ کیونکہ لوگ گناہ گار اور خود غرض ہیں،اُن میں سے کچھ لازمی طور پر اپنے لالچ کو پورا کرنے کے لئے سرمایہ دارانہ نظام کا استعمال کریں گے۔ لیکن یہ چیز سرمایہ داری کے نظام پر تنقید سے بڑھکر انسانی فطرت کا ادراک ہے۔ سرمایہ داری کے نظام کا مقصد برے لوگوں کو تبدیل کرنا نہیں بلکہ ہمیں ان سے بچانا ہے۔ سرمایہ داری ایک ایسا نظام ہے جس میں برے لوگ کم سے کم نقصان پہنچا سکتے ہیں اور اچھے لوگوں کو اچھے کام کرنے کی آزادی ہے۔ سرمایہ داری کا نظام اخلاقی لحاظ سے بہتر لوگوں کے ساتھ کامیابی کے ساتھ کام کرتا ہے۔ لیکن یہ خود غرض اور لالچی لوگوں کے ساتھ اُسی طرح موثر انداز سے کام کرتا ہے۔

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ذاتی مفاد اور خود غرضی میں فرق ہے۔ تمام لوگوں کے ذاتی مفادات ہوتے ہیں اور اُن کا حصول ایسے طریقوں سے ممکن ہے جو خود غرضانہ نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پر، ملازمت حاصل کرنا اورروزی روٹی کمانا ہمارے ذاتی مفادات ہیں تاکہ ہم اپنے خاندان کی کفالت کر سکیں۔ ہم ایسا اُن طریقوں سے بھی کرسکتے ہیں جن کی بنیاد خود غرضی نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس سوشل ازم جیسے دیگر معاشی نظام بائبل مُقدس میں بیان کردہ انسانی فطرت کی تعریف کو نظر انداز کرتے ہیں۔ نتیجے کے طور پر معیشت کو مرکزی طاقت بناتے ہوئے اپنی ساری طاقت کا اختیار چند لالچی لوگوں کے ہاتھوں میں دے دیتے ہیں۔ جو لوگ ہماری زندگیوں پر بڑی کارپوریشنوں کے اثر و رسوخ کی شکایت کرتے ہیں انہیں سرمایہ داری کے نظام کے متبادل سوشل ازم پر غور کرنا چاہیے جہاں چند سرکاری بیوروکریٹس ہماری زندگی کے ہر پہلو کو کنٹرول کرتے ہیں۔

اگرچہ سرمایہ دارانہ نظام میں لالچ بعض اوقات واضح ہوتا ہے لیکن ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ لالچ نظام کی وجہ سے نہیں ہے- اس کی وجہ یہ ہے کہ لالچ انسان کی گناہگار فطرت کا حصہ ہے۔ اس کا حل معاشی نظام کو تبدیل کرنے میں نہیں بلکہ یسوع مسیح کی خوشخبری کی طاقت کے ذریعے انسان کے دل کو تبدیل کرنے میں ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل سرمایہ داری کے نظریے /نظام کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries