settings icon
share icon
سوال

ہم اِس بات کا فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں کہ کونسی کتابیں بائبل سے تعلق رکھتی ہیں کیونکہ بائبل یہ نہیں بتاتی کہ اِس میں کون کونسی کتابیں شامل ہیں؟

جواب


اگر کسی بات کے تعین کےلیے بائبل ہی ہماری حتمی بنیاد ہے تو ہم کس بنیاد پر جانتے ہیں کہ بائبل میں کون سی کتابیں شامل ہیں -چونکہ بائبل میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس میں کون کون سی کتابیں ہونی چاہییں؟یہ بہت اہم سوال ہے کیونکہ کوئی زنجیر اُتنی ہی مضبوط ہوتی ہے جتنی کہ اُس کی کڑیاں مضبوط ہوتی ہیں جن سے وہ زنجیر بنی ہوئی ہوتی ہے۔ کیا خدا کے بنی نو ع انسان کے ساتھ ابلاغ کے سلسلے میں کہیں کوئی کمزور کڑی پائی جاتی ہے ؟اگر ایسا ہے تو پھر تمام تسلسل ناکام ہو جاتا ہے اور بالآخر اس ابلاغ پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔

اُن مختلف " کڑیوں " پر غور کریں جو خدا کے ساتھ ہمارے ابلاغ/رابطے کو تشکیل دیتی ہیں : ہمارے ساتھ ابلاغ کی پہل خدا کی طرف سے ہوئی تھی۔ اس رابطے کی بنیاد اُس کی محبت پر مبنی ہے کیونکہ خدا جو راستباز ہے اُس کا محبت بھرا کام یہ ہو سکتا ہے کہ اپنی مخلوق پر اپنے آپ کو عیاں کرے ۔ ا س کے بعد انسانی مصنفین کے وسیلہ سے خدا کے کلام کی اصل ترسیل کا عمل آتا ہے ۔ یہ تر سیل ایک ایسے عمل پر مشتمل تھی جسے بائبل " الہام " کا نام دیتی ہے جس میں خدا ہمکلام ہوتا ہے اور انسانی نمائندے اُسے قلمبند کرتے تھے ۔ ( 2تیمتھیس 3باب 16آیت)۔ اس کے بعد کلام کی منادی یا تشہیر کا عمل شروع ہوا تھا کیونکہ سامعین تک کلام منادی یا دیگر ذرائع کے وسیلہ سے پہنچا تھا ۔ اس کے بعد پہچان کا عمل شروع ہوا کیونکہ خدا کے لوگوں نے کلامِ مقدس کو دوسری مذہبی کتب سے ممتاز ٹھہرایا ۔ اور اس کے بعد تحفظ کا عمل شروع ہوا جس کے ذریعہ سے خدا کا کلام آج کے دن تک قائم ہے گوکہ بہت سے لوگوں نے اِسے ختم کرنے کی کوششیں کی ہیں ۔ اور اس کے بعد کلام کو سمجھنے کےلیے ذہن کو روشن کرنے کا عمل شروع ہوتا ہے کیونکہ رُوح القدس اس طرح کلام کو قبول کرنے کےلیے ایماندار کی عقل کو روشن کرتا ہے ۔

اور یہ ایک تسلسل ہے جو خدا کے کلام کے الہا م ، تشہیر ، پہچان ، تحفظ اور عقل کو روشن کرنے میں ا ُس کی محبت کا مظاہرہ کرتا ہے ۔ ہمارا یقین ہے کہ خدا اس عمل کے ہر مرحلے میں شامل تھا کیونکہ اگر خُدا نے اپنے کلام کو محفوظ نہیں کرنا تھا تو پھر وہ اپنے کلام کے الہام کے لیے اِس حد تک کیوں گیا تھا ؟ اگر وہ ہم سے ہمکلام ہوا تھا تو پھر اپنے کلام کی پہچان میں ہماری رہنمائی کےلیے اُس نے ناکام کیوں ہونا تھا ؟

خدا کے کلام کی اس پہچان کو عام طور پر " ترتیب و تدوین " (بائبل کی مسلمہ کتب کی فہرست کی تیاری) کہا جاتا ہے۔ ہم اس بیان میں پوری طر ح محتاط ہیں کہ کتابِ مقدسہ کی مسلمہ فہرست کا تعین خدا نے کیا تھا اور کلیسیا نے اُسے دریافت کیا تھا ۔ بائبل کی مسلمہ کتب کلیسیا نے تیار نہیں کی تھیں بلکہ کلیسیا نے اِن کتب کی دریافت اور پہچان کی تھا ۔ دوسرے الفاظ میں خدا کا کلام اپنی ابتداء ہی سے مستند اور الہام پر مبنی تھا –یہ " آسمان پر ابد تک قائم ہے" ( 119زبور 89آیت) اور کلیسیا نے صرف اس حقیقت کو پہچانا اور قبول کیا ہے ۔

کلیسیا نے خدا کے کلام کو پہچاننے اور جمع کرنے کےلیے جو معیار استعمال کیا تھا اس کے نکات درج ذیل ہیں :

1) کیا وہ کتاب خدا کےکسی نبی کی طرف سے قلمبند کی گئی تھی ؟

2) کیا مصنف کے پیغام کی معجزات کے وسیلہ سے تصدیق کی گئی تھی ؟

3) کیا وہ کتاب خدا کے بارے میں سچائی کو جھوٹ یا تضاد کے بغیر بیان کرتی ہے؟

4) کیا وہ کتاب زندگیوں کو تبدیل کرنے کےلیے خدائی قابلیت کا اظہار کرتی ہے ؟

5) جن لوگوں کے لیے یہ کتاب لکھی گئی تھی کیا اُن لوگوں نے اس کتاب کو خدا کے کلام کے طور پر قبول کیا تھا ؟

ان معیاری نکات میں سے سب سے زیادہ اہمیت کا حامل پہلا نکتہ ہے یعنی کیا وہ کتاب خدا کے نبی کی طرف سے قلمبند کی گئی تھی ؟ اور اس نکتے کا منطقی نتیجہ کہ " کیا اسے رسولوں کی طرف سے منظوری حاصل تھی ؟" ابتدائی کلیسیا میں ترتیب و تدوین (مسلمہ فہرست کی تیاری)کے عمل کا مرکزی امتحان تھا ۔ یہ معیار کسی " رسول " کی پہچان کا منطقی نتیجہ ہے ۔ خدا نے رسولوں کو کلیسیا کے بانی اور قائدین بننے کی نعمت بخشی تھی لہذا اس بات کو قبول کرنا پوری طرح معقول ہے کہ کلیسیا پر اثر انداز ہونے والا کلام رسولوں کے وسیلہ سے ظاہر ہوا تھا ۔

رسولوں سے وعدہ کیا گیا تھا کہ روح ِ حق اُن کو مسیح کی باتوں کو یاد دلانے (یوحنا 14باب 26آیت) اور " تمام سچائی " کو جاننے میں اُن کی رہنمائی کرے گا (یوحنا 14باب 13آیت)۔ مسیح کے آسمان پر اُٹھائے جانے کے بعد رسولوں نے اپنے خدمتی کام کو سرانجام دینے اور اپنے پیغام کی تصدیق کے لیے مافوق الفطرت نعمتیں حاصل کی تھیں ( اعمال 2باب 4آیت)۔ خداوند کا گھرانہ "رسولوں اور نبیوں کی نیو" پر تعمیر کیا گیا ہے ( افسیوں 2باب 20 آیت)۔ رسولوں کو اس خصوصی حکم کا دیا جانا اس بات کو قابلِ فہم بناتا ہے کہ کلیسیا نے رسول ہونے کی حیثیت کو بائبل کی کتب کی مسلمہ فہرست کی تیار ی کا سب سے پہلا امتحان کیوں قرار دیا تھا ۔ اس معیار کے مطابق متی کی انجیل کو مسلمہ کتب کی فہرست میں شامل کر لیا گیا تھا ( چونکہ یہ ایک رسول کی طرف سے قلمبند کی گئی تھی )؛ مرقس کی انجیل بھی اس وجہ سے قبو ل کر لی گئی تھی کہ مرقس پطر س رسول کا قریبی ساتھی تھا ۔

جب نئے عہد نامے کو لکھا جا رہا تھا تو اُس وقت انفرادی کتب اور خطوط کو نہ صرف خدا کے کلام کے طور پر فوراً قبول کر لیا گیا تھا بلکہ دوسرے لوگوں کے فائدہ کےلیے تقسیم بھی کر دیا گیا تھا ۔ تھسلنیکے کی کلیسیا نے پولس رسول کے الفاظ کو خدا کے کلام کے طور پر قبول کیا تھا ( 1تھسلنیکیوں 2باب 13 آیت)۔ پولس رسول کے خطوط رسولی دور میں بھی کلیسیاؤں میں گردش کر رہے تھے ( 4باب 16آیت)۔ پطرس رسول نے پولس کے خطوط کو خدا کے کلام کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے انہیں " اور صحیفوں " کے برابر قرار دیا تھا ( کلسیوں 4باب 16آیت) ۔پولس رسول لوقا کی انجیل کا حوالہ دیتا اور اِسے"کتابِ مقدس" کا نام دیتا ہے ( 1تیمتھیس 5باب 18آیت)۔ خطوط اور اناجیل کی بڑے پیما نے پر پذیرائی اُن متنازعہ کتب کے مقابلے میں بالکل نمایاں ہے جن کو غیر مستند ہونے کے ناطے بالآخر مسترد کر دیا گیا تھا اور جن کو بہت تھوڑ ے عرصہ کے لیے حمایت حاصل ہوئی تھی۔

بعد میں جب بدعات میں اضافہ ہو ا اور کلیسیا میں موجود کچھ لوگوں نے مذموم مذہبی تحریروں کے حق میں آوازیں بلند کرنا شروع کیں تو کلیسیا نے دانشمندی سے ایک مجلس کا انعقاد کیا تاکہ وہ نئے عہد نامے کی 27 کتب کے بارے میں اپنی منظور ی کی با ضابطہ تصدیق کر ے ۔ اُن کی طرف سے استعمال کردہ معیار ی نکات نے اُنہیں خدا کے الہامی کلام اور انسانی باتوں کے درمیان درست طور پر فرق کرنے کے قابل بنایا تھا ۔ آخر میں اُنہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ وہ اُن کتابوں کا ساتھ دیں گے جو عالمگیر طور پر قابلِ قبول ہیں ۔ ایسا کرتے ہوئے اُنہوں نے رسولوں کی تعلیم کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا ( اعمال 2باب 42آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

ہم اِس بات کا فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں کہ کونسی کتابیں بائبل سے تعلق رکھتی ہیں کیونکہ بائبل یہ نہیں بتاتی کہ اِس میں کون کونسی کتابیں شامل ہیں؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries