settings icon
share icon
سوال

کیا اعمال 2باب 38آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے؟

جواب


یہ سوال کہ "کیا خُدا مجھے بچا سکتا ہے؟" کئی سالوں کے دوران لاکھوں لوگوں کی طرف سے پوچھا جا چکا ہے۔ نہ صرف خُدا آپ کو بچا سکتا ہے، بلکہ یہ صرف خُدا ہی ہے جو آپ کو بچا سکتا ہے۔ اِس بات کو سمجھنے کے لیے کہ اِس سوال "کیا خُدا مجھے بچا سکتا ہے؟" کا جواب ہاں کیوں ہے ، ہمیں پہلے اِس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہمیں بچائے جانے کی ضرورت کیوں ہے۔ جس وقت باغِ عدن میں آدم نے گناہ کیا تو اُس کی نافرمانی نے باقی کی تمام مخلوقات کو بھی گناہ آلود کر دیا (رومیوں 5باب12آیت)، اور آدم سے ہمیں وراثت میں جو گناہ آلود فطرت ملی ہے اُس نے ہمیں خُدا سے جُدا کر دیا ہے۔ بہرحال ہمارے لیے خُدا کی عظیم محبت کی وجہ سے اُس کے پاس ہمارے لیے ایک منصوبہ تھا (پیدایش 3باب15آیت)۔ منصوبہ یہ تھا کہ خُدا خود یسوع مسیح کی صورت میں انسان بن کر اِس دُنیا میں آئے اور اپنی مرضی سے ہماری خاطر اپنی جان کو قربان کرتے ہوئے اُس سزا کو برداشت کرے جس کے ہم مستحق تھے۔ جب ہمارے نجات دہندہ نے صلیب پر سے چِلا کر کہا کہ "تمام ہوا" (یوحنا 19باب30آیت)، ہمارے گناہوں کا قرض ایک ہی بار ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ادا ہو گیا تھا۔ خُداوند یسوع نے ہمیں ایک یقینی موت اور خُدا کے بغیر خوفناک ابدیت سے بچایا۔

خُداوند یسوع کی کفارہ بخش قربانی سے مستفید ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اُس پر اپنے شخصی نجات دہندہ کے طور پر اُس کی قربانی پر اپنے گناہوں کی ادائیگی کے طور پر ایمان لائیں (یوحنا 3باب16آیت؛ اعمال 16باب31آیت)۔ اور جس لمحے ہم ایسا کرتے ہیں خُدا ہمیں مسیح یسوع کی راستبازی سے ملبس کر دے گا (رومیوں 3باب22آیت)۔ اور اگر ہم سے یہ راستبازی منسوب نہ کی جاتی تو ہم کبھی بھی پاک خُدا کی حضوری میں داخل نہ ہو پاتے (عبرانیوں 10باب19-25آیات)۔

ہماری نجات کا اثر ہماری ابدی منزل سے بڑھکر کئی اور باتوں پر بھی پڑتا ہے، یہ ہماری موجودہ حالت پر بھی بہت زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔ خوشخبری یہ ہے کہ یسوع نے صلیب پر جس کام کو مکمل کیا اُس نے ہمیں خُدا کے ساتھ ابدی جُدائی سے بچا لیا ہے اور اِس کے ساتھ ساتھ اُس نے ہمیں گناہ کی اُس طاقت سے بھی بچا لیا ہے جو موجودہ زندگی میں پائی جاتی ہے۔ ایک بار جب ہم مسیح کو قبول کر لیں تو اُسی گھڑی اُس کا رُوح ہمارے اندر آ بستا ہے اور گناہ آلود فطرت کا ہمارے اوپر اختیار نہیں رہتا۔ یہ آزادی ہمارے لیے اِس بات کو ممکن بناتی ہے کہ ہم گناہ کو "نہیں" کہیں اور اپنے بدن کی گناہ آلود خواہشات پر فتح پائیں ۔ "لیکن تم جسمانی نہیں بلکہ رُوحانی ہو بشرطیکہ خُدا کا رُوح تم میں بسا ہُوا ہے ۔ مگر جس میں مسیح کا رُوح نہیں وہ اُس کا نہیں " (رومیوں 8باب9آیت)۔

اِس سے کچھ بھی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کون ہیں اور آپ نے اپنی زندگی میں کیا کچھ کیا ہے۔ مسیح اِس دُنیا میں گناہگاروں کو بچانے کے لیے آیا (1 تیمتھیس 1باب15آیت)، اور ہم سبھی کے سبھی گناہگار ہیں (رومیوں 3باب23آیت)۔ ہم میں سے کوئی ایک بھی خُدا کے بچانے والے فضل کے دائرے سے باہر نہیں ہے (یسعیاہ 59باب1آیت)۔ پولس رسول خُدا کے فضل کے وسیلے بچائے جانے کی ایک بہت بڑی مثال ہے۔ پولس نے اپنی زندگی کا پہلا حصہ مسیحیوں سے نفرت کرتے، اُنہیں قید میں ڈالتے ، اُنہیں ستاتے اور حتیٰ کہ اُن میں سے کئی ایک کو قتل کرواتے ہوئے گزارا۔ اُس کے بعد پولس کی یسوع کے ساتھ ایک ملاقات نے اُسے مسیحی تاریخ کا سب سے بڑا مشنری بنا دیا۔ اگر خُدا پولس کو بچا سکتا ہے جو خود کہتا ہے کہ وہ "سب گناہگاروں میں بڑا" ہے (1 تیمتھیس 1باب15آیت)، تو پھر وہ ہمیں بھی بچا سکتا ہے۔

بنی نوع انسان خُدا کی ساری تخلیق کے تاج کا سب سے اہم اور خوبصورت ہیرا ہے، جسے خُدا نے خود اپنی شبیہ پر بنایا ہے (پیدایش 1باب26آیت)۔ خُدا چاہتا ہے کہ ہم سب کی توبہ تک نوبت پہنچے (1 تیمتھیس 2باب4آیت) اور ہم میں سے کوئی بھی ہلاک نہ ہو (2 پطرس 3باب9آیت؛ حزقی ایل 18باب32آیت)۔ اور وہ جو یسوع کے نام پر ایمان لاتے ہیں خُدا اُنہیں اپنے فرزند بننے کا حق بخشتا ہے (یوحنا 1باب12آیت)۔ خُدا اپنے بچّوں کے لیے جو کچھ کرتا ہے وہ 91 زبور کے اندر بیان کیا گیا ہے : "چونکہ اُس نے مجھ سے دِل لگایا ہے اِس لئے مَیں اُسے چُھڑاؤں گا۔ مَیں اُسے سرفراز کرُوں گا کیونکہ اُس نے میرا نام پہچاناہے۔وہ مجھے پُکارے گا اور مَیں اُسے جواب دُوں گا۔ مَیں مصیبت میں اُس کے ساتھ رہُوں گا۔ مَیں اُسے چُھڑاؤں گا اور عِزت بخشوں گا۔مَیں اُسے عُمر کی درازی سے آسُودہ کرُوں گا اور اپنی نجات اُسے دِکھاؤں گا " (91زبور 14-16آیات)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا اعمال 2باب 38آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries