settings icon
share icon
سوال

کیا اعمال 2باب 38آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے؟

جواب


مکاشفہ 20 باب 15 آیت بیان کرتی ہے کہ "اور جس کسی کا نام کِتابِ حیات میں لِکھا ہوا نہ مِلا وہ آگ کی جھیل میں ڈالا گیا۔ "اِس سیاق و سباق میں کتابِ حیات سے مُراد اُن لوگوں کے نام کی فہرست ہے جو اپنی ابدیت آسمان پر خُدا کے ساتھ گزاریں گے۔ یہ اُن لوگوں کا ریکارڈ ہے جو نجات یافتہ ہیں۔ اِس کتابِ حیات کا ذکر مکاشفہ 3باب5آیت؛ 20 باب 12آیت اور فلپیوں 4باب3آیت میں بھی کیا گیا ہے۔ اِسی کتاب کو برّے کی کتاب بھی کہا گیا ہے کیونکہ اِس میں اُن لوگوں کے نام درج ہیں جو خُداوند یسوع مسیح کے خون کے وسیلے سے بچائے گئے ہیں (مکاشفہ 13باب8آیت؛ 21 باب27 آیت)۔

آپ اِس بات کی یقین دہانی کیسے کر سکتے ہیں کہ آپ کا نام کتابِ حیات میں لکھا ہوا ہے؟اِس بات کو یقینی طور پر جانیں کہ آپ نجات پا چکے ہیں یا نہیں۔ اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور خُداوند یسوع مسیح کو اپنے شخصی نجات دہندہ کے طور پر قبول کریں (فلپیوں 4باب3آیت؛ مکاشفہ 3باب5آیت)۔ ایک بار جب آپ کا نام کتابِ حیات میں درج ہو جائے تو پھر وہ وہاں سے کبھی بھی مٹایا نہیں جائے گا (مکاشفہ 3باب5آیت؛ رومیوں 8باب37-39آیات)۔ کسی بھی حقیقی ایماندار کو مسیح میں اپنے ابدی تحفظ کے بارے میں شک و شبہ کا شکار نہیں ہونا چاہیے (یوحنا 10باب28-30آیات)۔

مکاشفہ 20باب11-15آیات کے اندر بیان کردہ سفید عدالت کا تخت غیر ایمانداروں کی عدالت کے لیے ہے۔ اُس حوالے میں اِس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ اُس عدالت کا سامنے کرنے والے کسی بھی شخص کا نام کتابِ حیات میں نہیں لکھا ہوا (مکاشفہ 20باب12-14آیات)۔ ناراستوں کی ابدی منزل پر بھی مہر ثبت ہو چکی ہے؛ اُن کے نام کتابِ حیات کے اندر نہیں لکھے ہوئے اور اُن کی سزا یقینی ہے۔

کچھ لوگ مکاشفہ 3باب5آیت کواِس بات کے ثبوت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کوئی بھی شخص اپنی نجات کو کھو سکتا ہے۔ بہرحال مکاشفہ 3باب5آیت کا وعدہ واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ خُدا کسی کے نام کو اُس کتاب میں سے نہیں مٹاتا: " جو غالِب آئے۔۔۔ مَیں اُس کا نام کِتابِ حیات سے ہرگِز نہ کاٹُوں گا ۔"غالب آنے والا وہ شخص ہے جس نے ہر طرح کی آزمائشوں، مشکلات اور اِس گناہ آلود دُنیا پر فتح پائی ہے –دوسرے الفاظ میں وہ شخص جسے خُدا کی طرف سے نجات بخشی گئی ہے۔ وہ جو بچائے گئے ہیں اُن کے نام خُدا کی طرف سے تیار کردہ زندگی کی کتاب میں درج ہیں اور اُن کے ساتھ ابدی تحفظ کا وعدہ کیا گیا ہے۔

ایک اور حوالہ جس کی وجہ سے کئی بار لوگ تذبذب کا شکار ہو جاتے ہیں 69 زبور 28آیت ہے: " اُن (داؤد کے دشمنوں )کے نام کِتابِ حیات سے مِٹا دِئیے جائیں اور صادِقوں کے ساتھ مندرج نہ ہوں۔ " یہاں پر جس کتابِ حیات کا ذکر کیا گیا ہے اُسے برّے کی کتاب نہیں سمجھنا چاہیے، یہاں پر داؤد زمینی اور جسمانی زندگی کی بات کر رہا ہے نہ کہ آسمان پر ابدی زندگی کی۔ یہی بات خروج 32باب32-33آیات میں مذکور "کتاب" کے حوالے سے بھی سچ ہے۔

خُدا اپنے لوگوں کا اچھا ریکارڈ رکھتا ہے۔ وہ اپنوں کو جانتا ہے اور اُس نے اپنے فرزندوں کے نام مستقل طور پر اپنی کتاب کے اندر لکھ رکھے ہیں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا اعمال 2باب 38آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries