settings icon
share icon
سوال

کیا ہماری ذات کے دو پہلو ہیں یا پھر تین پہلو ہیں ؟ کیا ہم بدن ، جان اور رُوح ہیں یاپھر بدن اور جان/رُوح ہیں ؟

جواب


پیدایش 1باب 26-27آیات اِس بات کی نشاند ہی کرتی ہیں کہ خدا نے انسان کو دوسرے جانداروں سے مختلف بنایا تھا ۔ کلامِ مقدس واضح طور پر سکھا تا ہے کہ انسان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ خدا کے ساتھ گہری رفاقت کا تجربہ حاصل کرے اور یہی وجہ ہے کہ خدا نے ہمیں مادی ( جسمانی ) اور غیر مادی ( روحانی) دونوں عناصر کے ایک مرکب کے طور پر تخلیق کیا ہے ( واعظ 12باب 7آیت؛ متی 10باب 28آیت؛1کرنتھیوں 5باب 5آیت؛ 2کرنتھیوں 4باب 16آیت ؛ 7باب 1آیت ؛ یعقوب 2باب 26آیت)۔ انسانوں کا مادی حصہ یعنی جسمانی بدن ٹھوس اور عارضی ہے لیکن یہ پہلوپوری طرح وا ضح دیکھا جا سکتا ہے ۔ مگر غیر مادی پہلوغیر ٹھوس ہیں جیسا کہ جان، رُوح ، عقل ،خواہش،ضمیر، ذہن، جذبات وغیرہ۔ یہ پہلو جسمانی بدن کے عرصہ حیات یعنی جسمانی زندگی سے آگے تک مستقل طور پر موجود رہتے ہیں ۔

سب انسانوں کی ذات اِن مادی( جسمانی ) اور غیر مادی (رُوحانی )دونوں پہلوؤں کی مالک ہے ۔ ہر شخص کا ایک جسمانی بدن ہے ۔ تاہم انسان کی غیر ٹھوس اور غیر جسمانی خوبیاں اکثر قابلِ بحث رہتی ہیں ۔ کلامِ مقدس اِ ن دونوں کے بارے میں کیا کہتا ہے ؟ پیدایش 2باب 7آیت بتاتی ہے کہ انسان کو " جیتی جان" کے طور پر تخلیق کیا گیا تھا۔ گنتی 16باب 22آیت خدا کو " سب بشر کی رُوحوں کے خدا "کے طور پربیان کرتی ہے ۔امثال 4 باب 23 آیت اِس بات ظاہر کرتے ہوئے کہ " اپنے دل کی خوب حفاظت کر کیونکہ زندگی کا سر چشمہ وہی ہے " ہمیں بتاتی ہے کہ انسانی خواہش اور جذبات کا مرکز اُس کا دل ہے (یہاں پر گوشتین دل کی بات نہیں کی جا رہی ہے )۔ اعمال 23باب 1آیت میں پولس ضمیر کا عقل کے اُس حصے کے طور پر حوالہ دیتا ہے جو ہمیں درست اور غلط کے درمیان فرق کرنے کے قابل بناتاہے ۔ رومیوں 12باب 2آیت عقل کے نئے ہونے کے بارے میں کے بارے میں بات کرتی ہے ۔ ان جیسی دیگر اور کئی آیات انسان کے رُوحانی حصوں کے مختلف پہلوؤں کی نشاندہی کرتی ہیں ۔ ہم مادی اور غیر مادی دونوں خصوصیات کا ایک مربوط مجموعہ ہیں ۔

جان ، رُوح ، جذبات ضمیر ، خواہش اور عقل کسی حد تک آپس میں منسلک اور باہمی طور پر جڑے ہوئے ہیں ۔ شاید جان – رُوح دوسرے تمام غیر مادی انسانی پہلوؤں کے مجموعے پر مشتمل ہیں ۔ ان سب باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئےکیا انسانی ذات کے دو پہلو ہیں یا پھر تین پہلو ہیں۔ دو پہلوؤں کو بیان کرنے کے لیے انگریزی اصطلاح Dichotomous استعمال کی جاتی ہے جبکہ تین پہلوؤں کو بیان کرنے کے لیے انگریزی اصطلاح Trichotomous استعمال کی جاتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں کہا جائے تو کیا ہماری ذات کے دو حصے (بدن اور جان/رُوح)ہیں یا پھر تین حصے (بدن ، جان اور رُوح) ہیں؟بہر حال یہ بات ایک اصو ل کے طور پر نہیں اپنائی جا سکتی۔عالمِ دین صدیوں سے اِس معاملے پر اختلاف ِ رائے اختیار کئے ہوئے ہیں اور راسخ العقیدہ کلیسیاؤں کی طرف سے کبھی بھی کوئی فیصلہ کُن اعلان نہیں کیا گیا کہ اِس میں سے کون سی بات سچ ہے ۔

وہ لوگوں جو ایمان رکھتے ہیں کہ کلامِ مقدس سکھاتا ہے کہ انسان دو نوعیتی (دو حصوں پر مشتمل ) ہے وہ انسانی ذات کے دو پہلوؤں کو دیکھتے ہیں ۔ انسان کے اس دو نوعیت کے حامل ہونے کے بارے میں دو تصورات ہیں ۔ پہلا تصور یہ ہے کہ انسان بدن اور رُوح کا مرکب ہے ، بدن اور رُوح کے باہمی ملاپ سے ایک انسان جیتی جان بنتا ہے۔ انسانی جان یعنی رُوح اور انسانی بدن متحد ہو کر ایک انسانی ذات بناتے ہیں۔ اس تصور کو پیدایش 2باب 7آیت ؛ گنتی 9باب 13آیت ؛ 16زبور 10آیت ؛ 97زبور 10آیت اور یوناہ 4باب 8آیت کی حمایت حا صل ہے ۔ یہ تصور اس بات پر زور دیتا ہے کہ ان آیات میں عبرانی لفظ نفیش (بمعنی نفس) ایک مربوط(متحد) جان، جیتی جان ، زندگی یا نفس کی نشاند ہی کرتا ہے - دوسرے الفاظ میں ایک متحد شخصیت( جان) ہے جو ایک بدن اور رُوح پر مشتمل ہے ۔ اِس بات پر بھی غور کیاجانا چاہیے کہ بائبل کہتی ہے کہ جب رُوح (عبرانی میں ruach روآخ بمعنی سانس،دم، ہوایا رُوح") بدن سے جُدا کی جاتی ہے تو وہ شخصیت منتشرہو جاتی ہے یعنی ( ٹوٹ جاتی) – مر جاتی ہے ( دیکھیں واعظ 12باب 7آیت؛ 104زبور 29آیت ؛ 146زبور 4آیت )۔

انسان کے دونوعیتی ہونے(یعنی انسانی ذات کے دو پہلو ہونے) کے بارے میں دوسرے تصور کے مطابق رُوح اور بدن دونوں ایک ہی چیز ہیں بس اِس کے دو مختلف نام ہیں ۔ یہ تصور اِس حقیقت پر زور دیتا ہے کہ یہ دونوں الفاظ رُوح اور بدن اکثر متبادل طور پر استعمال کئے جاتے ہیں( لوقا 1باب 46-47آیات؛ یسعیاہ 26باب 9آیت ؛ متی 6باب 25آیت ؛ 10باب 28آیت ؛ 1کرنتھیوں 5باب 3اور 5آیات) اور ان کو ایسے مترادف الفاظ کے طور پر سمجھنا چاہیے جو ہر شخص کے اندر ایک ہی طر ح کی رُوحانی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے دو نوعیتی نقطہ نظر اِس بات پر قائم ہے کہ انسانی ذات دو حصوں پر مشتمل ہے ۔ انسان یا تو ایک بدن اور رُوح ہے جو ایک جیتی جان کی تشکیل کرتےہیں یا ایک بدن اور جان ہے جسے رُوح بھی کہا جا سکتا ہے ۔

وہ لوگ جو ایمان رکھتے ہیں کہ کلامِ مقدس سکھاتا ہے کہ انسان تین نوعیتی ہے(یعنی اُس کی ذات کے تین پہلو ہیں ) وہ انسان کو تین مختلف حصوں: بدن ، جان ، اور رُوح کے مجموعے کے طور دیکھتے ہیں ۔ یہ لوگ 1تھسلنیکیوں 5باب 23آیت اور عبرانیوں 4باب 12 آیت پر زور دیتے ہیں جو رُوح اور بدن کے درمیان فرق کرتی معلوم ہوتی ہیں ۔ ایسے میں دونوعیتی تصور کے حامل کہتے ہیں اگر 1تھسلنیکیوں 5باب 23آیت انسان کے تین نوعیتی ہونے کی تعلیم دیتی ہے تو پھر علمِ تفسیر کے اس انداز میں "کیا مر قس 12باب 30آیت انسان کے چار نوعیتی ہونے کی تعلیم دیتی ہے؟ "

کیا انسان کے دونوعیتی یا تین نوعیتی ہونے کے مابین حتمی فیصلہ کرنا ضروری ہے ؟ شا ید نہیں ؛ بہرحا ل اِن اصطلاحات کے استعمال میں احتیاط ضروری ہے ۔ کیونکہ تین نوعیتی تصور انفرادی وجود کے باہمی اتحاد کی اہمیت بہت کم کر دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگوں نے غلط طور پر یہ تعلیم دی تھی کہ خدا لہامی طور پر ہماری رُوحوں سے ہم کلام ہوتا ہے اور ہماری عقلوں کو نظر انداز کر دیتا ہے ۔ اِس غلط مفروضے کو بنیاد بناتےہوئے کچھ کلیسیائیں تین نوعیتی نظریے کو اِس امکان کی تعلیم دینے کےلیے استعمال کرتی ہیں کہ مسیحی بھی بدرُوح گرفتہ ہو سکتے ہیں ۔ چونکہ وہ مسیحیوں میں جان اور رُوح کو دو علیحدہ علیحدہ غیر مادی عناصر کے طور پر دیکھتے ہیں اِس لیے یہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان دونو ں میں سے ایک تو رُوح القدس کا مسکن ہو سکتا ہے اور دوسرے پر بد ارواح قابض ہو سکتیں ہیں ۔ یہ تعلیم اِس لحاظ سے مشکل پیدا کرتی ہے کہ اِس بارے میں بائبل کوئی حوالہ پیش نہیں کرتی ہے کہ وہ لوگ جن میں رُوح القدس بسا ہوتا ہے وہ رُوح القدس کی موجودگی میں بد رُوح گرفتگی کا شکار ہو سکتے ہیں۔

اِ س بات سے قطع ِ نظر کہ آیا ایک مسیحی کا دونوعیتی یا تین نوعیتی تصور پر ایمان رکھنا کلامِ مقدس کی بہتر سمجھ بخشتا ہے ہم سب زبور نویس کے ساتھ مل کر خدا کی تعریف کر سکتے ہیں " مَیں تیرا شُکر کروں گا کیونکہ میں عجیب و غریب طور سے بنا ہوں تیرے کام حیرت انگیز ہیں ۔ میرا دل اسے خوب جانتا ہے۔" (139 زبور 14)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا ہماری ذات کے دو پہلو ہیں یا پھر تین پہلو ہیں ؟ کیا ہم بدن ، جان اور رُوح ہیں یاپھر بدن اور جان/رُوح ہیں ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries