settings icon
share icon
سوال

یسوع مسیح کے جسمانی طور پر مُردوں میں سے جی اُٹھنے کی سچائی اتنی اہمیت کی حامل کیوں ہے ؟

جواب


یسوع مسیح کا جسمانی طور پر مُردوں میں سے جی اُٹھنا تاریخ کا سب سے اہم ترین واقعہ ہے جو اس بات کا ناقابل تردید ثبوت فراہم کرتا ہے کہ یسوع واقعی وہی ہے جو ہونے کا اُس نے دعویٰ کیا تھا یعنی –خُدا کا بیٹا ۔ مُردوں میں سے جی اُٹھنا نہ صرف اُس کی الوہیت کی اعلیٰ توثیق تھی؛ بلکہ اِس چیز نے اُن صحائف کی بھی توثیق کی تھی جن میں اُس کی آمد اور جی اٹھنے کی پیشین گوئی کی گئی تھی۔ مزید برآں اس عمل نے مسیح کے اُن دعوؤں کی بھی تصدیق کی تھی کہ وہ تیسرے دن جی اُٹھے گا (یوحنا 2باب 19-21آیات ؛ مرقس 8باب 31آیت؛ 9باب 31آیت؛ 10باب 34آیت)۔ اگر مسیح کا جسم جی نہیں اُٹھا تھا تو ہمیں کوئی امید نہیں کہ ہمارے جسم بھی جی اُٹھیں گے (1 کرنتھیوں 15باب 13، 16آیت)۔ درحقیقت مسیح کے جسمانی طور پر جی اُٹھنے کےبغیر ہمارے پاس نہ تو نجات دہندہ، نہ نجات اور نہ ہی ابدی زندگی کی کوئی امید ہے۔ جیسا کہ پولس رسول نے کہا ہے کہ اُس صورت میں ہمارا ایمان "بے فائدہ " اور انجیل کی زندگی بخش قوت بالکل ختم ہو جائے گی۔

چونکہ ہمارا ابد ی مستقبل اس تاریخی واقعے کی سچائی پر منحصر ہے اِس لیے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کی سچائی کلیسیا کے خلاف شیطان کے سب سے بڑے حملوں کا ہدف بنی رہی ہے۔ اسی سبب سے مسیح کے جسم کی حالت میں جی اٹھنے کی تاریخی حقانیت کو صدیوں سے لاتعداد عالمین، ماہرین الہیات، پروفیسروں اور دیگر لوگوں کی طرف سے ہر زاویے سے جانچا اور پرکھا گیا اور اِس کا لگاتارمطالعہ کیا جاتا رہا ہے۔ اور گوکہ اس خاص واقعے کو غلط ثابت کرنے کی کوشش میں متعدد نظریات پیش کیے گئے ہیں لیکن ایساکوئی قابل اعتبار تاریخی ثبوت موجود نہیں ہے جو یسوع کے جسم کی حالت میں جی اٹھنے کے علاوہ کسی اور بات کی توثیق کرتا ہو۔ جبکہ دوسری جانب یسوع مسیح کے جسم کی حالت میں جی اٹھنے کے واضح اور قابل یقین ثبوت انتہائی زبردست ہیں۔

باوجود اس کے ہمارے نجات دہندہ کے جی اُٹھنے کے بعض پہلوؤں کے حوالے سے غلط فہمیاں اب بھی برقرار ہیں جو قدیم کرنتھس کے مسیحیوں سے لے کر آج کے بہت سے مسیحیوں تک جاری ہیں ۔ پس کچھ لوگ کیوں پوچھتے ہیں کہ آیا یسوع کا جسمانی طور پر زندہ ہونا اہم ہے یا نہیں ؟کیا اُس کا جی اٹھنا صرف رُوحانی نہیں ہو سکتا تھا؟ یسوع مسیح کا جی اٹھنا ایمانداروں کے جسم کی حالت میں جی اُٹھنے کی کیوں اور کیسے ضمانت دیتا ہے؟ کیا ہمارے جی اٹھنے والے جسم ہمارے زمینی بدنوں کی طرح ہی ہوں گے؟ اگر نہیں، تو وہ کیسے ہوں گے؟ ان سوالات کے جوابات کرنتھس کی کلیسیا کے نام لکھے گئے اُس کے پہلے خط کے پندرھویں باب میں ملتے ہیں جسے پولس نے کئی سال پہلے اپنے دوسرے مشنری سفر کے دوران قائم کیا تھا ۔

کرنتھس کی ناتجربہ کار کلیسیا میں بڑھتی ہوئی فرقہ بازی کے علاوہ مسیحیت کے کچھ کلیدی عقائد بشمول مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بارے میں بڑی غلط فہمی پائی جاتی تھی ۔ اگرچہ کرنتھس کی کلیسیا کے بہت سے ایماندار اس بات کو قبول کرتے تھے کہ مسیح کو مُردوں میں سے زندہ کیا گیا ہے ( 1کرنتھیوں 15باب 1، 11آیت)مگر اُنہیں یہ ماننے میں دشواری تھی کہ دوسروں لوگوں کو بھی دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے یا زندہ کیا جائے گا۔ بنیادی طور پرجی اٹھنے کے بارے میں اُن کی الجھن کا ذمہ دار لاادریت کے فلسفے کا مستقل اثرتھاکیونکہ یہ فلسفہ اس بات کا قائل تھا کہ ہر رُوحانی چیز اچھی ہے جبکہ ہر جسمانی چیز جیسے کہ ہمارے بدن پیدایشی طور پر بُرے ہیں۔ اس لیے کچھ لوگوں اوریقینی طور پر اُس زمانے کے یونانی فلسفیوں (اعمال 17باب 32 آیت)کی طرف سے نفرت انگیزبدن کے ابدی طور پر زندہ کیے جانے کے خیال کی سختی سے مخالفت کی جاتی تھی۔

اس کے باوجودکرنتھس کی کلیسیاکے زیادہ تر ایماندار سمجھتے تھے کہ مسیح کا جی اٹھنا جسم کی حالت میں تھا نہ کہ رُوح کی حالت ۔لہذا قیامت کا مطلب "مُردوں میں سے جی اٹھنا"ہے؛ کوئی چیز جو واپس زندگی کی حالت آ جاتی ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ تمام رُوحیں لافانی ہیں اور موت کے فوراً بعد خداوند کے پاس چلی جاتی ہیں (2کرنتھیوں 5باب 8آیت)۔ لہذا "رُوحانی" حالت میں جی اُٹھنے کا کوئی مطلب نہیں ہوگا کیونکہ رُوح مرتی نہیں اور اس لیے اُسے دوبارہ زندہ نہیں کیا جا سکتا۔ نیز وہ اس بات سے بھی واقف تھے کہ صحائف کے ساتھ ساتھ خود مسیح نے بھی کہا ہے کہ اُس کا بدن تیسرے دن دوبارہ جی اٹھے گا۔ صحائف نے یہ بھی واضح کیا کہ مسیح کے بدن میں کسی طرح کے گلنے سڑنے کا کوئی عمل رونما نہیں ہوگا(16زبور 10آیت؛ اعمال 2باب 27آیت)۔ اگر یسوع جسمانی طور پر جی نہیں اُٹھا تھا تو اِس بات کا کوئی مطلب نہیں نکلتا۔ آخر ی بات یہ مسیح نے اپنے شاگردوں کو زور دے کر کہا تھا کہ یہ اُس کا بدن ہی تھا جسے دوبارہ زندہ کیا گیا تھا:"کیونکہ رُوح کے گوشت اور ہڈّی نہیں ہوتی جیسا مجھ میں دیکھتے ہو"(لوقا24باب 39آیت)۔

بہرحال ایک بار پھر کرنتھس کے ایمانداروں کی فکر مندی اُن کے اپنے جی اُٹھنے کے بارے میں تھی۔ اس لیے پولس نے کرنتھس کی کلیسیا کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ چونکہ مسیح مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے اس لیے وہ بھی کسی دن مُردوں میں سے جی اُٹھیں گےاور یہ کہ - مسیح اور ہمارا – مُردوں میں سے جی اُٹھنا باہمی طور مربوط ہےکیونکہ "اگر مُردوں کی قیامت نہیں تو مسیح بھی نہیں جی اُٹھا "(1کرنتھیوں 15باب 13آیت)۔

" لیکن فی الواقِع مسیح مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے اور جو سو گئے ہیں اُن میں پہلا پھل ہُوا۔ کیونکہ جب آدمی کے سبب سے مَوت آئی تو آدمی ہی کے سبب سے مُردوں کی قِیامت بھی آئی۔ اور جیسے آدمؔ میں سب مَرتے ہیں وَیسے ہی مسیح میں سب زِندہ کئے جائیں گے "(1کرنتھیوں 15باب 20-22آیات)۔

جب یسوع مسیح مردوں میں سے جی اُٹھا تو وہ اُن سب میں "پہلا پھل" ٹھہراجو مُردوں میں سے جی اٹھیں گے (کلسیوں 1باب 18آیت بھی دیکھیں)۔ بنی اسرائیل اس وقت تک اپنی فصلوں کو مکمل طور پر کاٹ نہیں سکتے تھے جب تک کہ وہ خداوند کے لیےنذر کی قربانی کے طور پر اپنے"پہلے پھلوں کا ایک پولا "کاہنوں کے پاس نہ لاتے تھے (احبار 23باب 10آیت)۔ یہ وہی بات ہے جو پولس 1 کرنتھیوں 15باب 20-22آیات میں کہہ رہا ہے کہ مسیح کا مُردوں میں جی اُٹھنا مر جانے والے ایماندار وں کے جی اُٹھنے کی "فصل" کا "پہلا پھل" تھا۔ پولس جو "پہلے پھل" کی اصطلاح استعمال کرتا ہے وہ بعد میں آنے والی کسی چیز کی طرف اشارہ کرتی ہے اور یہ چیز –باقی "فصل " اُس کے پیروکار ہوں گے ۔ اس طرح مسیح کا جی اٹھنا ہمارے جی اُٹھنے کی ضمانت دیتا ہے۔ درحقیقت اُس کا جی اٹھنا ہمارے جی اٹھنےکا تقاضاکرتا ہے۔

اور رُوح کو ایک نفرت انگیز خیال کردہ بدن سے جوڑنے کے بارے میں اُن کے خدشات کو دور کرنے کے لیے پولس نے اُن کے سامنے نہ صرف ہمارے جی اٹھنے والے بدنوں کی فطرت کی وضاحت کی بلکہ یہ بھی بیان کیا کہ وہ ہمارے زمینی بدنوں سے کیسے مختلف ہوں گے۔ پولس نے ہمارے مُردہ زمینی بدنوں کو ایک ’’بیج‘‘ سے تشبیہ دی جس کے ختم ہونے اور بوئے جانے پر خُدا بالآخر ایک اور جسم فراہم کرے گا (1کرنتھیوں 15باب 37-38آیات) جو مسیح کے جی اُٹھے جلالی بدن جیسا ہوگا (1کرنتھیوں 15باب 49آیت؛ فلپیوں 3باب 21آیت)۔ درحقیقت ہمارے بدن جو ابھی فانی، بے عزت، کمزور اور فطری ہیں ہمارے خُداوند کی مانندایک دن ایسے بدنوں کی صورت میں جی اٹھیں گے جو غیر فانی، جلالی ، طاقتور اور رُوحانی ہونگے (1کرنتھیوں 15باب 42-44آیات)۔ ہمارے رُوحانی بدن آسمانی اور مافوق الفطرت زندگی گزارنے کے لیے بالکل لیس ہوں گے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

یسوع مسیح کے جسمانی طور پر مُردوں میں سے جی اُٹھنے کی سچائی اتنی اہمیت کی حامل کیوں ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries