settings icon
share icon
سوال

بائبل مخلوط مسیحی خاندانوں کے متعلق کیا کہتی ہے ؟

جواب


مخلوط (سوتیلے بہن بھائیوں پر مشتمل )مسیحی خاندان روز بروز عام ہوتے جا رہے ہیں۔ خُدا خاندان اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے اور مدد کرنے کے عمل کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ مردوں کو چاہیے کہ وہ اپنے خاندان کا اچھی طرح سے بندوبست کریں اور بچّوں کی اس طور سے پرورش کریں کہ وہ اُن کی عزت کریں(1 تیمتھیس 3باب 4آیت )۔ کسی ادھیڑ عمر عورت کو چاہیے کہ دوسروں کو اچھی باتوں کی تعلیم دے ، انکساری اور فرمانبرداری میں زندگی بسر کرے اور جوان عورتوں کو یہ تربیت کرے کہ وہ اپنے شوہروں اور بچّوں سے محبت کریں (ططس2باب 3-5آیات)۔ اپنے رشتہ داروں بالخصوص اُنکا جو ہمارے اہل ِ خانہ میں ہیں ، خیال رکھنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے (1 تیمتھیس 5باب 8آیت )۔ والدین جب تک بچّوں سے خدا کی مرضی کے خلاف کچھ کرنے کو نہیں کہتے (افسیوں 6باب 1-3آیات ) تب تک بچّوں کو اپنے والدین کی فرمانبرداری اور عزت کرنی چاہیے ۔ جب بچّے بڑے ہو جاتے ہیں تو اُن کی ذمہ داری ہے کہ وہ بڑھاپے میں اپنے والدین کی دیکھ بھال کر کے اُن کا قرض ادا کریں (1تیمتھیس 5باب 4 آیت )۔ اِن اُصولوں کا مخلوط اور غیر مخلوط خاندانوں پر یکساں طور پر اطلاق ہوتا ہے ۔

شادی سے بالاتر صرف وہی رشتہ ہونا چاہیے جو ہم خدا کے ساتھ رکھتے ہیں ۔ جب وہ ہماری ازدواجی زندگی کا مرکز ہےتو وہ ہماری خاندانی زندگی کا مرکز خود بخود بن جائے گا۔ خُدا نے آدم اور حوّا کو پہلے شوہر اور بیوی کے طور پر متحد کیا۔ اُس نے حوّا کو آدم کی پسلی سے بنایا تھا اور یہ بات ہم پر واضح کرتی ہے کہ کس طرح مرد اور عورت کو اپنے باپ اور ماں کو چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہنا چاہیے ( پیدایش 2باب 24آیت؛ متی 19باب 5آیت)۔ شادی کی اکائی جتنی مضبوط ہوگی پورا خاندان اتنا ہی مضبوط ہوگا۔

جب دو خاندان مل کر ایک مخلوط خاندان کو تشکیل دیتے ہیں تو وہ مختلف گھرانوں سے مختلف اصولوں، مختلف روایات اور کام کرنے کے مختلف طریقوں کے ساتھ آتے ہیں۔ یہ نہایت ضروری ہے کہ بچّوں کی اُن بڑی تبدیلیوں کے بارے میں مدد کی جائے جن کا وہ ایک نئی مخلوط خاندانی زندگی میں منتقل ہونے کے دوران تجربہ کریں گے۔ اس حوالے سے تعاون،تحمل اور رابطہ کلیدی عناصر ثابت ہوں گے۔ بچّوں کو حقیقی اور سوتیلے والدین دونوں کی طرف سے محبت میں قبولیت اور تحفظ کا احساس ہونا ضروری ہے ۔ تربیتی قوانین تشکیل دئیے جانے اور تمام بچّوں پر غیر جانبدارانہ طور پر نافذ کیے جانے چاہییں ۔

جب کوئی مخلوط خاندان تشکیل پاتا ہے تو اکثر وقت کی تقسیم کو ملحوظ ِ خاطر رکھا جانا چاہیے کہ کوئی بچّہ یا بچّے کب اپنی اُس ماں یا باپ سے ملاقات کرتے ہیں جو ابھی باقاعدہ طو رپر اُس کا/کی سرپرست نہیں۔ دوسرے والدین کے ساتھ اچھے تعلقات کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں اور اگر ممکن ہو تو دونوں خاندانوں میں تربیت/گھریلو کاموں /قواعد کے بارے میں ایک ہی حکمت عملی اپنائیں ۔ گھر کے ماحول کو منظم اور یقینی بنائیں۔ ہمیں ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے؛خُداوند یسوع نے بھی رفاقت اور حمایت کے لیے اپنے "سوتیلے باپ" یوسف پر انحصار کیا تھا ۔ یسوع نے رُوحانی طور پر تازہ دم ہونے کے لیےباہمی مدد کے نظام (متی 26باب 28آیت ) اور نجی وقت کی ضرورت کو بھی تسلیم کیا۔ ایک خاندان میں ہمیں ہمیشہ دوسروں کی تقویت اور حوصلہ افزائی کرنے والا ہونا چاہیے۔ ہمیں دینداری کا ایک اچھا نمونہ بنتے ہوئے ایمانداری اور خداوند کی ہدایت کے مطابق چلنا چاہیے ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل مخلوط مسیحی خاندانوں کے متعلق کیا کہتی ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries