settings icon
share icon
سوال

سیاہ فام لوگوں کی آزادی سے متعلق الہیاتی نظریہ کیا ہے؟

جواب


سیاہ فام لوگوں کی آزادی کا الہیاتی نظریہ جنوبی امریکہ کی آزادی کے ِ الہیاتی نظریے کی ایک شاخ ہے جوکہ غریبوں کی پریشان کُن حالت پر مسیحی علمِ الہیات کا اطلاق کرنے والا بہت بڑی حد تک ایک انسان پرست نظریہ ہے ۔ سیاہ فام لوگوں کی آزادی کا الہیاتی نظریہ عام طور پر افریقی لوگوں اور خصوصاً افریقی نژاد امریکیوں کو ہر طرح کی غلامی اور ناانصافی سے آزاد کرانے پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ چاہے یہ حقیقی یا فرضی،معاشرتی ، سیاسی، معاشی یا مذہبی غلامی اور نا انصافی ہی کیوں نہ ہو ۔

اس نظریے کا مقصد " سیاہ فام لوگوں کےلیے مسیحیت کو حقیقی بنانا ہے۔" سیاہ فام لوگوں کی آزادی کے الہیا تی نظریے کا مرکزی نقطہ ہی اس کی بنیادی غلطی ہے ۔ یہ نظریہ ابدی زندگی کے حصول کی بجائے حالیہ معاشرتی نا انصافیوں سے آزادی پانے کےلیے مسیحیت کا استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یسوع نے اس کے بالکل برعکس سکھایا ہے " کہ میری بادشاہی اِس دُنیا کی نہیں" ( یوحنا 18باب 36آیت)۔ کیا حالیہ تاریخ میں سیاہ فام /افریقی لوگوں اور خاص طور پر افریقی نژاد امریکی لوگوں کے ساتھ غیر منصفانہ ، ناجائز اور ناروا سلوک کیا جاتا رہا ہے ؟ بالکل ! کیا انجیل کا ایک مقصد نسل پرستی، تعصب ،تکبر اور عدم مساوات کا خاتمہ ہونا چاہیے ؟ ایک بار پھر، ہاں بالکل ہونا چاہیے ( گلتیوں 3باب 28آیت)۔ کیا معاشرتی نا انصافی سے نجات پانا انجیل کا بنیادی اُصول ہے ؟ نہیں ۔

خوشخبری کا پیغام یہ ہے کہ ہم سب گناہگار ہیں ( رومیوں 3باب 23آیت)۔ ہم سب خدا سے ابدی جُدائی کی حالت میں یعنی جہنم کی سزا کےمستحق ہیں (رومیوں 6باب 23آیت)۔ یسوع نے اُس سزا کو برداشت کرنے کے لیے صلیب پر جان دی تھی جس کے ہم لائق ہیں ( 2کرنتھیوں 5باب 21 آیت؛ 1یوحنا 2باب 2آیت) اور اس صلیبی موت سے اُس نے ہمیں نجات فراہم کی ہے ۔اس کے بعد یسوع مُردوں میں سے جی اُٹھا تھا جو اس بات کی تصدیق تھی کہ اُس کی موت بلاشبہ گناہ کی سزا کا کا مل کفارہ ہے ( 1کرنتھیوں 15باب 1-4آیات)۔ اگر ہم نجات دہندہ کی حیثیت سے یسوع پر ایمان لائیں تو ہمارے تمام گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں اور ہمیں موت کے بعد فردوس میں داخل ہونے کی اجازت مل جائے گی ( یوحنا 3باب 16آیت)۔ یہی خوشخبری ہے اور یہ ہماری منادی کا مرکزی نقطہ ہونا چاہیے ۔ انسانیت جس مرض سے دوچار ہے اس کا علاج یہی ہے ۔

جب کوئی شخص نجات دہندہ کے طور پر یسوع کو قبول کرتا ہے تو وہ نیا مخلوق بن جاتا ہے ( 2کرنتھیوں 5باب 17آیت) اور اُس میں بسنے والے والا رُوح القدس اسے مسیح کا ہمشکل بنانے کا عمل شروع کر دیتا ہے (رومیوں 12باب 1-2آیات)۔ نسل پرستی پر واقعتاً صرف اُس رُوحانی تبدیلی کے وسیلہ سے ہی فتح پائی جا سکتی ہے ۔ سیاہ فام لوگوں کی آزادی کا الہیاتی نظریہ ناکام اس لیے ہو جاتا ہے کہ یہ بیماری کی صحیح تشخیص کئے بغیر اس کی علامات سے نمٹنے کی کوشش کرتا ہے ۔ گناہ/زوال پذیری کی حالت ایک بیماری ہے اور نسل پرستی اس کی متعدد علامات میں سے ایک ہے ۔ہمارے گناہ اور نجات کےلیے یسوع کی کفارہ بخش موت انجیل کا پیغام ہے اور اس لیے یہ صرف ایمان کے وسیلہ سے دستیاب ہے ۔ لوگوں کے سچے دل سے یسوع مسیح کو نجات دہندے کے طور پر قبول کرنے کا ایک نتیجہ نسل پرستی کے خاتمے کی صورت میں ظاہر ہو گا تاہم انجیل میں خصوصاً نسل پرستی کے بارے میں بات نہیں کی گئی ۔

نسلی معاملات پر حد سے زیادہ زور دینے کی وجہ سے اس الہیاتی نظریے کا ایک منفی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ یہ سیاہ فام اور سفید فام مسیحی طبقات کو جُدا کرنے کا باعث بنتا ہے اور یہ چیز مکمل طور پر غیر بائبلی ہے ۔ مسیح اُن تمام لوگوں کو جو اُس پر ایمان لاتے ہیں ایک عالمگیر کلیسیا یعنی اُس کے بدن کی صورت میں متحد کرنے کےلیے زمین پر آیا تھا جس کا وہ سر ہے ( افسیوں 1باب 22-23آیات)۔ اپنے پسِ منظر ، نسل یا قومیت سے قطعِ نظر مسیح کے بدن کے تمام اراکین دوسرے مسیحیوں کے ساتھ ایک مشترکہ رشتہ رکھتے ہیں ۔ "تاکہ بدن میں تفرقہ نہ پڑے بلکہ اعضاء ایک دُوسرے کی برابر فکر رکھیں " (1کرنتھیوں 12باب 25آیت)۔ ہمیں ایک ایسی سوچ رکھنے والے انسان بننا ہے جن کی عقل مسیح کی عقل کے ماتحت ہو اور جن کا مقصد مسیح کے اس حکم کی تعمیل کرنا ہو کہ " پس تم جا کر سب قوموں کو شاگرد بناؤ" مزید جنکا مقصد دوسروں کو مسیح کے بارے میں بتانے ، انجیل کی خوشخبر ی کی منادی کرنے ، دوسروں کو اُس کے احکام پر عمل کرنے کی تعلیم دینے کے وسیلہ سے خد اکو جلال دینا ہو ( متی 28باب 19-20آیات)۔ یسوع ہمیں دو سب سے بڑے حکموں کے بارے میں بتاتا ہے اور وہ یہ ہیں کہ ہم خدا سے محبت کر یں اور نسلی فرق سے قطع ِ نظر دوسرے لوگوں سے اپنی مانند محبت کریں (متی 22باب 36-40آیات)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

سیاہ فام لوگوں کی آزادی سے متعلق الہیاتی نظریہ کیا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries