انضباط تناسل کی بابت کلام پاک کیا کہتا ہے؟



سوال: انضباط تناسل کی بابت کلام پاک کیا کہتا ہے؟

جواب:
انسان کو خدا کی طرف سے حکم دیا گیا تھا کہ "پھلو اور بڑھو" (پیدایش 1:28)۔ شادی خدا کے ذریعہ ایک مستقل ماحول بطور ہونے کے لئے قائم کی گئی تھی جس میں نسل کی افزایش یعنی اولاد پیدا کئے جاسکیں مگر افسوس کے ساتھ کہتا پڑتا ہے کہ موجودہ دور میں اولاد کو کبھی کبھی تکلیف دہ، ناگوار اور ایک بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ وہ لوگوں کی ترقی اور تشونما اور پیسہ کمانے کے راستہ پر کھڑے ہیں۔ اور وہ معاشرتی طور سے "ہمارے طریقہ کو دبا دیتے ہیں" اکثر اس قسم کی خود غرضی بے حقیقی استعمال کی بنیاد پر ہوتی ہے۔

خود مرکزامر کی بنیاد پر کچھ باتیں ہیں جو انضباط تناسل کے استعمال کے خلاف کلام پاک بچوں کو خدا کی طرف سے انعام بطور کہہ کر پیش کرتا ہے (پیدایش 4:1 ؛ 33:5)۔ بچے خداوند کی طرف سے وارث ہیں (زبور5- 127:3)۔ بچے خدا کی طرف سے برکت ہیں (لوقا 1:42)۔ بچے بوڑھوں کے لئے تاج ہیں (امثال 17:6)۔ خدا بانجھ کا گھر بسا کر اسے برکت دیتا اور اسے دلشاد کرتا ہے (زبور 113:9 ؛ پیدایش2- 30:1؛ 22-21 : 25؛ 3- 21:1 ؛ 1 سموئیل8- 1:6؛ لوقا 25-24، 1:7)۔ خدا ماں کے پیٹ میں بچہ کو صورت بخشتا ہے (زبور16- 139:13)۔ خدا بچوں کو ان کے پیدا ہونے پہلے جانتا ہے (یرمیاہ 1:5؛گلیتوں 1:15)۔

سب سے زیادہ قریبی طور سے اور خاص طور سے جو انضباط تناسل کو پیش کرتا ہے وہ کلام پاک میں پیدایش کا 38 باب ہے جس میں یہودا کے بیٹے عیر اور اونان کا ذکر پایا جاتاہے۔ عیر نے تمر نام کی ایک عورت سے بیاہ کیا، مگر وہ بدکار تھا اس لئے خداوند نے اس کو موت دیدی تھی۔ اور تمر اکیلی، بے شوہر اور بے اولاد ہوکر رہ گئی تھی۔ استثنا6- 25:5 کے شادی کے قانون کے مطابق تمر کی شادی عیر کے چھوٹے بھائی اونان سے ہوئي۔ مگر اونان اپنے بھائی کے واسطے بچے پیدا کرکے اس کی وارث کو پھیلانا نہیں چاہتا تھا۔ سو اس نے انضباط تناسل کا سب سے پرانا طریقہ اپنایا یعنی علیحدگی۔ پیدایش 38:10 کہتا ہے کہ "جو کچھ اونان نے کیا وہ خداوند کی نظر میں برا تھا۔ اس لئے خدا نے اس کو موت دیدی"۔ اونان کی منشا خود غرضی کی تھی : اس نے تمر کو اپنی لطف اندوزی کے لئے استعمال کیا۔ اس کو اپنے مرے ہوئے بھائي کی خاطر وارث دینے کی ایک قانونی ذمہ داری تھی جس کا اس نے انکار کیا۔ اس عبارت کو اکثر اس بات کے لئے ثبوت بطور استعمال کیا جاتا ہے کہ خدا انضباط تناسل کو منظوری نہیں دیتا۔ کسی طرح یہ واضح طور سے بے حقیقی امر نہیں تھا کہ خدا نے اونان کو موت کا سبب ٹہرایا بلکہ اس عمل میں اس کا ارادہ خود غرضی کا تھا۔ یہ ضروری ہے کہ جس طرح خدا بچوں کو رحم کی نظر سے دیکھتا ہے اسی طرح ہم بھی دیکھیں، جیسے دنیا کہتی ہے ویسا نظریہ ہمیں نہیں رکھنا ہے۔ ایسا کہا گیا ہے کہ کلام پاک بے حقیقت کے لئے منع نہیں کرتا۔ بے حققیت شرح کے طور سے فقط تصور کا الٹا ہے۔ بے حقیقت کا عمل خود ہی آمادہ کرتا ہے کہ یہ صحیح ہے یہ غلط۔ جیسے ہم نے اونان سے سیکھا کہ بے حقیقت کے پیچھے اس کا ارادہ تھا جو اسے اس بات پر آمادہ کرتا تھا کہ وہ جو کچھ کر رہا تھا وہ صحیح تھا یا غلط۔ اگر ایک شادی شدہ جوڑا بے حقیقت کو انجام دے رہے ہیں اس ارادہ سے کہ بچے پیدا کرنے میں جلدی نہ کریں یا جب تک کہ وہ دونوں پورے سمجھدار نہ بن جائیں یا مالی حالت کو سدھارلیں یا روحانی طور سے تیار ہوں پھر شاید یہ جائز ہے کہ اس بے حقیقت کا استعمال ایک وقت کے لئے کریں۔ پھر سے ہم آپکو بتانا چاہتے ہیں کہ یہ دیکھنا پڑیگا کہ ان ساری باتوں کے پیچھے آپکی منشا کیا ہے۔

کلام پاک تو ہمیشہ یہی بات کرتا ہے کہ شادی شدہ جوڑا بچے پیدا کریں اور یہ اچھی بات ہے۔ بائیبل اس بات توقع رکھتی ہے کہ شوہر اور بیوی کے بچے ہوں۔ بچے پیدا کرنے کی ناقابلیت کو بائيبل میں ہمیشہ برا مانا گیا ہے۔ صرف ایک دو معاملوں کو چھوڑ کر بائيبل میں ایسا کوئی شادی شدہ جوڑا نہیں ہے جنہوں نے بچوں کے لئے خواہش ظاہر نہ کیا ہو۔ اور اسی وقت بائیبل سے واضح طور سے بحث نہیں جاسکتا کہ ایک مقررہ وقت کے لئے انضباط تناسل کا استعمال غلط ہے۔ مطلب یہ کہ کلام پاک انضباط تناسل کو منظوری نہیں دیتا۔ تمام شادی شدہ جوڑوں کو چاہئے کہ وہ خداوند کی پاک مرضی کی تلاش کریں اور انہیں کوشش کرنی چاہئے کہ بچے ہو مگر کتنے بچے اس کا فیصلہ خود کریں۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



انضباط تناسل کی بابت کلام پاک کیا کہتا ہے؟