settings icon
share icon
سوال

کیا خُدا نے کائنات کو تخلیق کرنے کے لیے "بِگ بینگ"کا استعمال کیا تھا ؟

جواب


بیسویں صدی سے پہلے جب بِگ بینگ کا نظریہ ابھی تک پیش نہیں کیا گیا تھا بہت سارے فلسفی اور سائنسدان اِس بارے میں بحث کر رہے تھے کہ آیا اِس کائنات کی کوئی ابتدا بھی ہے یا نہیں۔ کچھ اِس بات پر اصرار کر رہے تھے کہ کائنات ہمیشہ ہی سے موجود رہی تھی: یعنی یہ کائنات "لامحدود حد تک قدیم" تھی۔ یہ تصورقدیم فلسفیوں کے نظریہ حیات اورموجودہ دور کے نظریہ دہریت کے ساتھ موافقت رکھتا تھا۔ دوسری طرف ایسی بہت ساری منطقی وجوہات موجود تھیں جیسے کہ "اصولِ سببیت" جو اِس بات کی دلیل پیش کرتی تھیں کہ یہ کائنات "لامحدود طور پر قدیم " نہیں ہو سکتی۔ تاریخ کے زیادہ تر حصے کے دوران ہمارے پاس کوئی تجرباتی ثبوت نہیں تھا جو یہ ثابت کرتا ہو کہ اِس کائنات کا کوئی" حتمی آغاز"موجود تھا۔نظریہ دہریت خصوصی طور پر اِسی تصور کی پیروی کر رہا تھا کہ یہ کائنات "لامحدود طور پر قدیم " ہے تاکہ اُس کے حامی خُدا کو ایک غیر ضروری چیز کے طور پر رَد کر کے نظر انداز کر سکیں۔

یہ صورتحال بیسویں صدی کے پہلے نصف حصے میں بڑے پیمانے پر تبدیل ہونا شروع ہو گئی تھی کیونکہ ایسی بہت ساری دریافتیں کی گئی تھیں جو بِگ بینگ کے نظریے کے پیش کئے جانے کا سبب بنی تھیں۔ کئی دہائیوں تک اُن سب لوگوں کی طرف سے جو کائنات کے ابدی ہونے کے تصور کو پیش کر رہے تھےاِن سارے ثبوتوں اور دریافتوں کی کوئی نہ کوئی اور وجہ پیش کرنے کی کوششیں کی جاتی رہیں لیکن کچھ بھی سودمند ثابت نہ ہو سکا۔ نتیجہ یہی نکلا کہ لا دینیت کی بنیاد پر کئے جانے والے سائنسی تجربات کی طرف سے بائبلی تخلیق کے عقیدے کو بہت زیادہ پشت پناہی ملی۔

1916 میں آئن سٹائن کا عمومی اضافیت کا نطریہ شائع کیا گیا جس میں یہ تجویز پیش کی گئی تھی کہ یا تو یہ کائنات مسلسل طور پر پھیل رہی ہے یا پھر مسلسل طور پر سکڑ رہی ہے۔ پس آئن سٹائن نے اپنی مساواتوں میں "کائناتی مستقل" کے تصور کا اضافہ صرف اِس وجہ سے کیا کہ ایک جامد، ابدی کائنات کےتصور کے امکان کو برقرار رکھا جا سکے۔ بعد میں آئن سٹائن نے اِسے اپنے کیرئیر کی "سب سے بڑی غلطی" قرار دیا۔

1920 کی دہائی میں ایڈوّن ہبل کے تجربات نے اِس بات کو ثابت کیا کہ کائنات مسلسل طور پر پھیل رہی ہے۔ اُس کی اِس دریافت نے آئن سٹائن کے "کائناتی مستقل" کے تصور کی تردید کی اور یہ فلکیاتی طبیعیات کے غیر ایماندار ماہرین کے نا خوش ہونے کا سبب بنی۔‏رومن کیتھولک راہب اور ماہر فلکیات جارجزلیمائترے( Lemaître )کی طرف سے کئے گئے کام نے اُن کی بے چینی کو اور بھی بڑھا دیا۔ لیمائترے/Lemaître نے اِس بات کی طرف توجہ دلائی کہ عمومی اضافیت کے نظریے اور ہبل کی دریافتوں کے امتزاج کا مطلب ایک "آغاز" ہے۔ اگر کائنات اس وقت ‏‏پھیل رہی‏‏ہے تو ماضی میں کسی خاص وقت پر پوری کائنات کسی لامحدود چھوٹے نقطے پر مشتمل ہوگی۔ یہی خیال بگ بینگ نظریے کی بنیاد ہے۔‏

‏اگلی کئی دہائیوں میں طبیعیات دانوں نے ملن(Milne) ماڈل (1935) سے لے کر Steady State Theory (1948) تک مختلف چیزیں تجویز کرکے کائنات کی ‏‏ابدیت‏‏ کو بچانے کی کوشش کی۔(اگر زیادہ تر نہیں تو بھی) بہت سے معاملات میں، یہ نمونے واضح طور پر تجویز کیے گئے تھے کیونکہ ایک غیر ابدی کائنات کے مضمرات "بہت زیادہ مذہبی" تھے۔‏

‏ ‏سال 1964 میں نوبل پرائز حاصل کرنے والی کائناتی مائیکرو ویو بیک گراؤنڈتابکارکی دریافت ہوئی- جس کی پیشن گوئی 1940 کی دہائی میں ابتدائی بگ بینگ نظریہ سازوں نے کی تھی۔ پس اس دریافت نے کائنات کے "آغاز" کو جدید سائنس کی ایک اٹل حقیقت بنا دیا۔ اب سوال یہ نہیں رہا تھا کہ "کیا کائنات کا آغاز ہوا تھا؟"بلکہ اب سوال یہ تھا کہ "کائنات کا آغاز کیسے ہوا تھا؟"‏

اِس بات سے قطع نظر کہ کوئی اِس کی تشریح کیسے کرتا ہے ‏بگ بینگ کے لئے ظاہری ثبوت سائنس اور الہیات کے ایک دوسرے کو کاٹنے کی ایک حیرت انگیز مثال ہے۔ معروضی، تجرباتی سائنس کے مطابق، تمام خلاء، وقت اور توانائی ایک ہی لمحے میں ایک ساتھ وجود میں آئیں: اور وہ لمحہ ہے ایک "آغاز/ابتدا"۔ یہ واقعہ جو کچھ بھی تھا اُس سے پہلے وقت نہیں تھا۔ کوئی خلاء نہیں تھی۔پھر اچانک، کسی چیز کی ایک انتہائی کثیف، ناقابل یقین حد تک گرم،بہت ساری مختلف چیزوں کا لامحدود گولا نمودار ہوا، کسی نہ کسی طرح نامعلوم وجوہات کی بناء پر ہماری پوری کائنات کو اپنے اندر سمائے ہوئے یہ تیزی کے ساتھ پھیلنا شروع ہو گیا۔اگر یہ سچ ہے تو بگ بینگ کا نظریہ ہزاروں سال پہلے کے یہودیوں اور مسیحیوں کے تخلیق کے بارے میں نظریے کی تصدیق کرتا ہے۔‏

فلکیاتی طبیعیات کے ماہر ڈاکٹر روبرٹ جیسٹرو نے نے اپنی کتاب بعنوان"گاڈ اینڈ دی ایسٹرونومرز " God and the Astronomers (New York:W.W.Nortan, 1978, p116 کے اندر کہا ہے کہ "وہ سائنسدان جس نے اپنی زندگی معقولیت کی طاقت پر ایمان رکھتے ہوئے گزاری ہو اُس کے لیے اِس کہانی کا انجام ایک بُرے خواب کی طرح ہوتا ہے۔ جب وہ بڑی مشکل سے عدم واقفیت کے پہاڑوں کی چڑھائی چڑھ جاتا ہے اور سب سے بلند چوٹی کو سر کرنے کے نزدیک ہوتا ہے اور پھر جونہی وہ آخری چٹان پر سے اپنے آپ کو اوپر کھینچتے ہوئے چڑھتا ہے تو اُسے اُن ماہرین الہیات کا ایک گروہ خوش آمدید کہتا ہے جو سینکڑوں سالوں سے وہاں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔"

کیوں؟کیونکہ جیسا کہ جیسٹرو بعد کے اپنے ایک انٹرویو میں وضاحت کرتا ہےکہ ، "ماہرین فلکیات نے اب اپنے آپ کو ایک کونے میں رنگ لیا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے طریقوں سے ثابت کیا ہے کہ دنیا اچانک تخلیق کے ایک عمل کی صورت میں وجود میں آئی۔ اور اِس سے آپ اس کائنات اور زمین ، اور ہر ایک موجود ستارے، ہر سیارے، ہر زندہ چیز کے بیجوں کا سراغ لگا سکتے ہیں۔ میرے خیال میں اب مَیں یا کوئی بھی اور شخص پیچھے کارفرماں مافوق الفطرت قوتوں کو مافوق الفطرت قوتیں ہی کہے گا۔ یہ سائنسی طور پر ثابت شدہ حقیقت ہے" (“A Scientist Caught Between Two Faiths: Interview with Robert Jastro, Christianity Today, August 6, 1982, pp. 15, 18).

‏یہ بات جاننا اہم ہے کہ بگ بینگ کے نظریے کی ترقی سے قبل خُدا پر ایمان نہ رکھنے کے عمل کو ایک ابدی، غیر سبب کے وجود میں آنے والی اور ایک غیر تخلیق شدہ کائنات کے ساتھ جوڑا جاتا تھا۔ تاہم اس کے بعد دہریت پسندوں نے یہ دعویٰ کرنا شروع کر دیا کہ سائنسی میدان کی ان پیش رفتوں نے دراصل خدا ‏‏کو غلط ثابت کر دیا‏‏ ہے۔ جس بات کو ہمیشہ ایک خالق کی واضح حمایت کے طور پر تعبیر کیا گیا تھا- اور اسی وجہ سےاُسکی مزاحمت کی جاتی تھی- وہ قریباً راتوں رات اس دعوے میں تبدیل ہو گئی کہ دہریت پسند ایک بار پھر درست ثابت ہوئے ہیں اور ایمان رکھنے والے غلط ثابت ہوئے ہیں۔

‏بدقسمتی سے اس رویے کی وجہ سے ‏‏نظریہ تخلیق کے حامیوں کی جانب سے اسی سے ملتا جلتا رد عمل سامنے آیا۔ جس طرح بہت سے ماہرینِ فلکیاتی طبیعیات نے محسوس کیا کہ کائنات کے پھیلنے کا نظریہ سائنس میں مذہب کو داخل کرنے کی ایک چال ہے اُسی طرح بہت سے مسیحیوں نے ایسا محسوس کرنا شروع کر دیا کہ بگ بینگ نظریہ بائبل کی تخلیق کے بیان کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ تاہم بہت سارے مسیحیوں کا خیال ہے کہ بگ بینگ کا نظریہ بائبل کے بیان سے مطابقت رکھتا ہے اور یہ گروہ کائنات کے آغاز کے بارے میں اس طرح کے زبردست ثبوت کا خیرمقدم کرتا ہے۔ ‏

‏ اس کے ساتھ ہی یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بگ بینگ کا نظریہ صرف ایک نظریہ ہے۔ اس "آغاز" کی صحیح نوعیت یا وجہ تجرباتی سائنس نے واضح طور پر ثابت نہیں کی ہے اور نہ ہی ایسا ہوسکتا ہے۔ ‏

‏ کیا خدا نے کائنات کو بنانے کے لئے "بگ بینگ" کا استعمال ‏‏ کیا؟ یہ تصور کہ یہ ساری کائنات یکدم کسی چیز کے پھیلنے کی وجہ سے وجود میں آئی ہے بائبل کے تخلیقی بیان کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔ اور اِس خیال کو اُس صورت میں مانا جا سکتا ہے جب اِس چیز کا اقرار کیا جائے کہ اِس بڑے دھماکے کے تمام اجزاء اور قوتوں کو خُدا کی طرف سے نیست میں سے تخلیق کیا گیا تھا (عبرانیوں 11 باب3 آیت)۔ کلامِ مُقدس بس یہی بیان کرتا ہے کہ خُدا نے زمین و آسمان کو پیدا کیا (پیدایش 1باب1آیت)۔ اور یہ بات پوری کائنات کے بارے میں ایک بیان ہے (33 زبور 6آیت؛ عبرانیوں 11باب3آیت)۔ تو پھر کیا کچھ شواہد جوابتدائی طور پر اِس بڑے دھماکے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں وہ اِس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ بگِ بینگ کو خُدا نے اپنے تخلیقی کام کے لیے استعمال کیا تھا؟ عین ممکن ہے۔

‏ ‏‏ اس کے ساتھ ساتھ بگ بینگ نظریہ، جیسا کہ اسے عام طور پر سائنسی برادری پیش کرتی ہےکئی ایک مقامات پر دہریت پرست تصورات پر مشتمل ہے اور بائبل کے تخلیق کےبیان سے متصادم ہے۔ اس صورت میں ہم کہیں گے کہ نہیں ، خُدا نے اِس کائنات کو تخلیق کرنے کے لیے "بِگ بینگ" کا استعمال نہیں کیا تھا۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا خُدا نے کائنات کو تخلیق کرنے کے لیے "بِگ بینگ"کا استعمال کیا تھا ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries