settings icon
share icon
سوال

بائبلی علمِ الٰہیات کیا ہے ؟

جواب


بائبلی علمِ الٰہیات بائبلی عقائد کا ایسا مطالعہ ہے جسے اُن عقائد کےتسلسل اور تاریخی پسِ منظر کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے۔ با ضابطہ علمِ الٰہیات کے برعکس جس میں بائبلی عقائد کی مختلف عنوانات کے مطابق زُمرہ بندی کی جاتی ہے ، بائبلی علمِ الٰہیات تاریخ میں آگے بڑھتے ہوئے خُدا کے مکاشفے کو ظاہر کرتا ہے۔ بائبلی علمِ الٰہیات کلام کے کسی مخصوص حصے کی الٰہیاتی تعلیمات کو علیحدہ کر کے اُس پر تعلیم دینے کی کوشش کر سکتا ہے جیسے کہ اِسفارِ خمسہ (بائبل کی پہلی پانچ کتابوں ) کی الٰہیاتی تعلیم، یا پھر یوحنا کی تصانیف میں موجود الٰہیات وغیرہ۔ یا پھر یہ کسی مخصوص دور کے کسی خاص حصے پر اپنی توجہ مرکوز کر سکتا ہے جیسے کہ متحدہ مملکت کے دور کا علمِ الٰہیات ۔ بائبلی علمِ الٰہیات کی ایک اور شاخ بائبل کے اندر کسی خاص تصور یا عنوان کا معالعہ بھی کر سکتی ہے ، جیسے کہ "اسرائیل کے بقیہ" کا مطالعہ، یہ ممکنہ طور پر اِس بات کا مطالعہ و تحقیق کر سکتا ہے کہ یہ تصور کلامِ مُقدس کے اندر کس طرح سے متعارف کروایا گیا اور کیسے یہ پروان چڑھا۔

بہت سارے لوگ بائبلی الٰہیات کے اِس شعبے کا آغاز کرنے کا سہرا جرمن عالم جے۔ پی۔ گیبلر کے سر پر رکھتے ہیں۔ جب 1787 میں اُس کی پروفیسر شپ کا افتتاح ہو رہا تھا تو اُس نے منظم علمِ الٰہیات (باقاعدہ یا عقائدی علمِ الٰہیات) اور بائبلی علمِ الٰہیات کے درمیان واضح فرق کرنے کا مطالبہ کیا۔ گیبلر کےمطابق بائبلی علمِ الٰہیات کوبائبل کی تاریخ کے مختلف ادوار میں جو کچھ مانا یا سکھایا گیا اُس سب کے ایک سخت تاریخی مطالعے کے طور پر لیا جانا چاہیے جو جدید دور کے فرقہ وارانہ ، عقائدی، فلسفیانہ یا ثقافتی تصورات سے آزاد ہو۔ عمومی طور پر گیبلر نے جن اصولوں کی حمایت کی وہ درست تھے اور اُس کی ذات کا اثر آئندہ کئی سالوں کے دوران بائبلی علمِ الٰہیات کی ترقی و ترویج پر موجود رہا۔

بہرحال اِس بات کو دھیان میں رکھنا چاہیے کہ مکمل معروضیت کے ساتھ بائبل کے خصوصی مطالعے جیسی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ ہر ایک مفسر اِس کام میں کئی ایک مفروضات کا اضافہ کرتا ہے۔ اِن تعصبات کا کلامِ مُقدس کی تشریح و تفسیر پر کافی اثر ہوتا ہے۔ نتیجتاً بائبلی علمِ الٰہیات کے شعبے پر ہر ایک قابلِ تصور خیال اور بائبل مُقدس کی تعلیم کی ہر ایک تصوراتی رائے کو رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بائبلی علمِ الٰہیات کا مکمل انحصار مفسرین کے علمِ التفسیر پر ہوتا ہے۔ کلامِ مُقدس کی تفسیر و تشریح میں استعمال ہونے والے طریقے بائبلی علمِ الٰہیات کے لیے بہت زیادہ اہم ہیں۔ کسی کی طرف سے پیش کردہ بائبلی علمِ الٰہیات اُس شخص کے تفسیر و تشریح کے طریقوں سے بہتر نہیں ہو سکتا۔

باضابطہ علمِ الٰہیات اور بائبلی علمِ الٰہیات کے درمیان بنیادی فرق کچھ یوں ہے: با ضابطہ علمِ الٰہیات یہ سوال کرتا ہے کہ "پوری کی پوری بائبل مجموعی طور پر فرشتوں کے بارے میں کیا کہتی ہے؟" اور پھر یہ علم بائبل کے ہر اُس حوالے کا جائزہ لیتا ہے جس کاتعلق فرشتگان کے ساتھ ہو ، اُن سے پھر خاص نتائج اخذ کرتا ہے اور پھر تمام کی تمام معلومات کو ایک خاص زُمرے میں رکھتے ہوئے اُسے "علم الملائکہ /علم الفرشتگان" نامی عنوان میں منظم کرتا ہے۔ اِس صورت میں آخر میں سامنے آنے والا علم پیدایش سے لیکر مکاشفہ کی کتاب تک کی ساری تعلیم کا احاطہ کرتا ہے اور اِن سب کتب میں فرشتوں کے بارے میں جو بھی سچائی بیان کی گئی اُس کو ظاہر کرتا ہے۔

بائبلی علمِ الٰہیات یہ سوال کرتا ہے کہ "بائبلی تاریخ کے دوران فرشتوں کے بارے میں ہماری سوجھ بوجھ کیسے پیدا ہوئی؟" اور پھر یہ اِسفارِ خمسہ سے شروع ہوتا ہے اور پوری بائبل کے اندر اِن ہستیوں کے بارے میں خُدا کے بتدریج مکاشفے کا سُراغ لگاتا ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ بائبلی علمِ الٰہیات کے عالمین یہ نتائج بھی اخذ کرتے ہیں کہ فرشتوں کے بارے میں لوگوں کی سوچ کس طرح سے تبدیل ہوتی چلی گئی کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ اُن کے بارے میں زیادہ سے زیادہ سچائی سامنے آتی چلی گئی۔ اِس طرح کے مطالعے کا اختتام یقیناً یہ ادراک دیتا ہےکہ بائبل فرشتوں کے بارے میں کیا کہتی ہے لیکن اِس میں سیکھی جانے والی ساری باتوں کو بائبل کے پورے مکاشفے کی "بڑی تصویر" کے تناظر میں بھی رکھا جاتا ہے۔ بائبلی علمِ الٰہیات ہمیں بائبل مُقدس کو ایک ہی متحد چیز کے طور پر دیکھنے کی بجائے غیر متعلقہ عقائدی نکات کے مجموعے کے طور پر دیکھنے میں مدد کرتا ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبلی علمِ الٰہیات کیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries