بائبل کی بے خطائی پر ایمان لانا کیوں اہم ہے؟


سوال: بائبل کی بے خطائی پر ایمان لانا کیوں اہم ہے؟

جواب:
اہم ایسے دور میں رہتے ہیں جس میں غلطیوں سے دو چار ہو کر کندھے اچکانے کا رُجحان ہے۔ پِیلاطُس کی طرح یہ پوچھنے کی بجائے "سچائی کیا ہے" آزاد خیال لوگ یہ کہتے ہیں، "کچھ بھی سچ نہیں ہے" یا شاید، " سچائی ہے، لیکن ہم اِسے جان نہیں سکتے"۔ ہم جھوٹ بولتے بڑے ہوئے ہیں، اور ایسا لگتا ہے کہ بہت سے لوگ ایک غلط عقیدہ کے ساتھ جی رہےہیں کہ بائبل میں بہت سی غلطیاں ہیں۔

بائبل کی بے خطائی کی تعلیم بہت اہم تعلیم ہے کیونکہ سچائی اہم ہوتی ہے۔ یہ تعلیم خُدا کے کردار کو ظاہر کرتی ہے اور بائبل کی سکھائی گئی ہر بات کے بارے میں ہماری سمجھ کے لئے بنیاد ہے۔ مندرجہ ذیل کچھ وجوہات ہیں کہ ہمیں بائبل کی بے خطائی پر ایمان کیوں رکھنا چاہیے۔

-1 بائبل خودکامل ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔ "خُداوند کا کلام پاک ہے۔ اُس چاندی کی مانند جو بھٹی میں مٹی پر تائی گئی اور سات بار صاف کی گئی ہو" (زبور6:12)۔ "خُداوند کی شریعت کامل ہے" (زبور7:19)۔ "خُداوند کا ہر سُخن پاک ہے" (امثال5:30)۔ پاکیزگی اور کاملیت کے یہ دعوے کامل بیانات ہیں۔ غور کریں یہ دعوے یہ نہیں کہتے کہ خُدا کا کلام "زیادہ تر" یا "تقریباً" پاک اور کامل ہیں۔ بائبل بغیر"جُزوی کاملیت" کے نظریہ کی گنجائش چھوڑے، مکمل طور پر کامل ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔

-2بائبل مجموعی طور پر کھڑی رہتی یا گرتی ہے۔ اگر ایک اہم اخبار عادتاً غلطیوں پر مشتمل ہو، تو وہ فوری طور پر بدنام ہو جاتا ہے۔ یہ کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، "تمام غلطیاں صفحہ نمبر تین تک ہی محدود ہیں"۔ کیونکہ اخبار کے کسی بھی حصہ کے قابلِ اعتماد ہونے کے لئے ساری اخبار کو درُست ہونا ضرور ہے۔ اِسی طرح، اگر بائبل جغرافیہ کے بارے میں غلط بیانی کرے تو اُس کی علمِ الٰہیات کیوں قابلِ اعتماد ہو گی؟ بائبل یا تو ایک قابلِ اعتماد دستاویز ہے، یا پھر نہیں ہے۔

-3 بائبل اپنے مصنفین کا عکس ہے۔ تمام کُتب عکس ہیں۔ بائبل کو خُود خُدا نے لکھا، جیسا کہ اُس نے انسانی مصنفین کے ذریعے ایک عمل میں کام کیا جِسے "الہام" کہا جاتا ہے۔ "ہر ایک صحیفہ خُدا کے الہام سے لکھا گیا" (2تھِمُتھِیُس16:3)۔ 2پطرس21:1اور یرمیاہ2:1بھی دیکھیں۔

ہم ایمان رکھتے ہیں کہ خُدا جس نے کائنات کو خلق کیا کتاب لکھنے کے بھی قابل ہے۔ اور خُدا جو کامل ہے ایک کامل کتاب لکھ سکتا ہے۔ مسلہ یہ نہیں کہ "کیا بائبل میں غلطیاں موجود ہیں؟" بلکہ "کیا خُدا غلطی کر سکتا ہے؟" اگر بائبل میں غلطیاں موجود ہیں تو پھر خُدا عالم الغیب نہیں ہے بلکہ خود غلطیاں کرنے کے قابل ہے۔ اگر بائبل میں جھوٹی خبریں ہیں، تو پھر خُدا سچائی نہیں بلکہ جھوٹا ہے۔ اگر بائبل میں تضاد ہے، تو پھر خُدا ابتری کا خُدا ہے ۔ دوسرے الفاظ میں، اگر بائبل کی بے خطائی کا عقیدہ سچ نہیں ہے تو پھر خُدا خُدا ہی نہیں ہے۔

-4بائبل ہمیں پرکھتی ہے۔ "کیونکہ خُدا کا کلام زندہ اور مُوثر اور ہر ایک دو دھاری تلوار سے زیادہ تیز ہے اور جان اور روح اور بند بند اور گودے کو جُدا کر کے گُذر جاتا ہے اور دل کے خیالوں اور اِرادوں کو جانچتا ہے" (عبرانیوں12:4)۔ دل اور کلام کے تعلق پر غور کریں۔ کلام جانچتا ہے؛ اور دل جانچا جاتا ہے۔ کسی بھی وجہ سے لفظ کے حصوں کو بگاڑنے کے لئے اگر اِس عمل کو اُلٹ کر دیں۔ ہم جانچنے والے بن جاتے ہیں، اور کلام کو ہماری "اعلیٰ پرکھ" کے ماتحت ہونا پڑتا ہے۔ لیکن خُدا فرماتا ہے، "اے انسان بھلا تُو کون ہے جو خُدا کے سامنے جواب دیتا ہے؟" (رومیوں20:9)۔

-5بائبل کے پیغام کو مجموعی طور پر لینا چاہیے۔ یہ تعلیمات کی آمیزش نہیں کہ ہم آزادی سے اِس میں سے انتخاب کر سکیں۔ بہت سے لوگ ایسی آیات کو لیتے ہیں جو بیان کرتی ہیں کہ خُدا محبت کرتا ہے۔ لیکن وہ اُن آیات کو ناپسند کرتے ہیں جو بیان کرتی ہیں کہ خُدا گنہگاروں کی عدالت کرتا ہے۔لیکن ہم کہہ نہیں کر سکتے کہ بائبل میں سے من پسند کی باتیں لے لیں یا اُن کا انتخاب کر لیں اور باقی باتوں کو چھوڑ دیں۔ مثال کے طور پر، اگر بائبل جہنم کے بارے میں غلط ہے، تو پھر کون کہہ سکتا ہے کہ فردوس یا کسی اور چیز کے بارے میں درُست ہے؟ اگر بائبل تخلیق کے بارےمیں درُست تفصیلات حاصل نہیں کر سکتی تو پھر ہو سکتا ہے کہ نجات کے بارے میں تفصیلات بھی قابلِ اعتماد نہ ہوں۔ اگر یوناہ کی کہانی صرف ایک افسانہ ہے، تو پھر شاید یسوع کی کہانی بھی صرف افسانہ ہی ہو۔ اِس کے برعکس، خُدا نے جو کہہ دیا وہ کہہ دیا ہے، اور بائبل خُدا کے بارے میں مکمل تصویر پیش کرتی ہے کہ وہ کیسا ہے۔ "اے خُداوند! تیرا کلام آسمان پر ابد تک قائم ہے" (زبور89:119)۔

-6 ہمارے ایمان اور عمل کے لئے صرف بائبل مقدس ہی واحد اصول ہے۔ اگر یہ قابلِ اعتماد نہیں، تو پھر ہم کس پر اپنے ایمان کی بنیاد رکھیں؟ یسوع ہمارا ایمان چاہتا ہے، اور اِس میں جو کچھ وہ اپنے کلام میں کہتا ہے اُس پر بھی ایمان لانا شامل ہے۔ یوحنا69-67:6ایک خوبصورت حوالہ ہے۔ یسوع نے ابھی اُن لوگوں کی رخصتی کی تصدیق کی تھی جو اُس کی پیروی کرنے کا دعویٰ کرتے تھے، پھر وہ بارہ رسولوں کی طرف رُخ کرتا اور اُن سے پوچھتا ہے، "کیا تم بھی جانا چاہتے ہو؟" اِس پر پطرس باقی سب کے لئے بولتا ہے، "اے خداوند! ہم کِس کے پاس جائیں؟ ہمیشہ کی زندگی کی باتیں تو تیرے ہی پاس ہیں"۔ ہم بھی اِسی طرح خُداوند پر اور اُس کے زندگی بخش کلام پر بھروسہ رکھیں۔

جو کچھ ہم نے یہاں پیش کیا حقیقی تعلیمی امداد کی تردید کے طور پر اِن میں سے کچھ بھی نہیں لینا چاہیے۔ بائبل کی بے خطائی کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنے دماغ کا استعمال کرنا چھوڑ دیں یا جو کچھ بائبل بیان کرتی ہے اُسے اندھا دھند قبول کرتے جائیں۔ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم خُدا کے کلام کا مطالعہ کریں (2تھِمُتھیُس15:2)، اور جو لوگ اِس کی تلاش کرتے ہیں اُن کی تعریف کی گئی ہے (اعمال11:17)۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ بائبل کی تفسیر پر مخلص اختلافِ رائے کے ساتھ ساتھ، بائبل میں مشکل حوالہ جات بھی موجود ہیں۔ ہمارا مقصد بائبل کے پاس عزت و احترام کے ساتھ دُعا کے ساتھ آنا ہے، پھر ہمیں وہ چیز ملے گی جس کی ہمیں سمجھ نہیں آتی، جس کے لئے ہم دُعا کر تے ہیں، جس کے لئے زیادہ مطالعہ کرتے ہیں۔ اور اگر ابھی بھی جواب نہیں ملتا، تو ہمیں عاجزی کے ساتھ خُدا کے کامل کلام کے سامنے اپنی محدودیت کو تسلیم کر لینا چاہیے۔

English
اردو ہوم پیج میں واپسی
بائبل کی بے خطائی پر ایمان لانا کیوں اہم ہے؟