settings icon
share icon
سوال

بائبل کے مطابق غیبی ہدایت یا کلام کو سمجھنے کے لیے ذہن کے روشن کئے جانےسے کیا مُراد ہے؟

جواب


اگر ہم اِس بات کو بالکل سادگی کے ساتھ دیکھیں تو یہاں استعمال کی گئی انگریز ی اصطلاح "illumination" کے معنی رُوحانی لحاظ سے کسی خاص پہلو کو سمجھنے کے لیے اُس پر "روشنی ڈالنا" ہے۔ جس وقت الٰہی ذرائع سے عطا کردہ نور (ذہن کا روشن کیا جانا )کسی نئے علم یا مستقبل کی چیزوں یا باتوں کے ساتھ ٹکراتا ہے تو ہم اُسے "نبوت" کہتے ہیں۔ لیکن جب وہی الٰہی ذرائع سے عطا کردہ نور (ذہن کا روشن کیا جانا)کلامِ مُقدس کے پہلے سے عطا کردہ علم کو بہتر طور پر سمجھنے اور اُس کا اطلاق اپنی زندگیوں پر کرنے جیسے عمل سے ٹکراتا ہے تو اُس کو ہم خاص غیبی ہدایت، کلام کو سمجھنے کے لئے تابانی یا درخشائی کہہ سکتے ہیں، یا پھر اِس کو بھی ذہن کا روشن کیا جانا کہہ سکتے ہیں۔ ابھی یہاں پر یہ سوال جنم لیتا ہے کہ "خُدا اُن لوگوں کے ذہنوں کو کیسے روشن کرتا ہے جو اُسکے کلام کا مطالعہ کرتے ہیں؟"

رُوحانی طور پر ذہن کے روشن ہونے کا بنیادی ترین درجہ گناہ کا شعور ہونا ہے، اِس علم کے بغیر باقی ہر ایک چیز بالکل بے معنی ہوگی۔ 18 زبور 28 آیت بیان کرتی ہے کہ "اِس لیے کہ تُو میرے چراغ کو روشن کرے گا۔ خُداوند میرا خُدا میرے اندھیرے کو اجالا کر دے گا۔"119 زبو ر جو بائبل مُقدس میں سب سے لمبا باب ہے وہ خُدا کے کلام کے بارے میں ایک گیت ہے۔ اُس کی 130 آیت بیان کرتی ہے کہ "تیری باتوں کی تشریح نور بخشتی ہے۔ وہ سادہ دِلوں کو عقلمند بناتی ہے۔" یہ آیت خُدا کی طرف سے کسی کے ذہن کے روشن کئے جانے کے بنیادی ترین طریقے کو بیان کرتی ہے۔ جس وقت خُدا کا کلام کسی انسان کے دل میں اُترتا ہے تو یہ اُس شخص کو نور اور فہم عطا کرتا ہے۔ اِسی وجہ سے ہمیں بار بار یہ کہا گیا ہے کہ ہم کلامِ مُقدس کا مطالعہ کریں۔ 119 زبور 11آیت بیان کرتی ہے کہ "مَیں نے تیرے کلام کو اپنے دِل میں رکھ لیا ہے تاکہ مَیں تیرے خلاف گناہ نہ کروں"۔ اِسی زبور کی 98 اور 99آیات بیان کرتی ہیں کہ "تیرے فرمان مجھے میرے دشمنوں سے زیادہ دانش مند بناتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ مرے ساتھ ہیں۔ مَیں اپنے سب اُستادوں سےعقل مند ہوں کیونکہ تیری شہادتوں پر میرا دھیان رہتا ہے۔"

کلامِ مُقدس کا متواتر مطالعہ زندگی کے بہت سارے مشکل معاملات کے بارے میں ہمیں ہدایت اور فہم عطا کرے گا۔ خُدا کی طرف سے نور اور ہدایت پانے کا یہ پہلا طریقہ ہے اور ہم سب کے لیے یہ نورِ و ہدایت حاصل کرنے کا آغاز ہے۔ زبور 119 کے اندر ہم خُدا کی طرف سے ذہنی روشنی یا نور کی ایک اور قسم کو بھی دیکھتے ہیں، "میری آنکھیں کھول تاکہ مَیں تیری شریعت کے عجائب دیکھوں۔"یہاں پر نئے مکاشفہ جات کے بارے میں بات نہیں کی جا رہی بلکہ اُن مکاشفہ جات کے بارے میں بات کی جا رہی ہے جو بہت پہلے ظاہر کئے گئے اور لکھے جا چکے ہیں اور اب جب قاری اُس کو پڑھتا ہے تو حیران ہوتا ہے (اُس کے لیے یہ ایسا موقع ہوتا ہے جس میں اُس کے منہ سے بلااختیار آہاہ نکل جاتا ہے)۔ اِسی طرح 73آیت بیان کرتی ہے کہ "تیرے ہاتھوں نے مجھے بنایا اور ترتیب دی، مجھے فہم عطا کر تاکہ تیرے فرمان سیکھ لوں۔" یہاں پر التجا یہ کی جا رہی ہے کہ جب کوئی خُدا کے احکام کو پڑھتا ہے تو اُسے خُدا کی طرف سے وہ فہم عطا ہو جس کی بدولت وہ اُنہیں سمجھ کر خود پر اطلاق کر سکے۔ اِس زبور کے اندر 15 دفعہ خُدا سے یہ التجا کی گئی ہے کہ وہ اپنے احکام سکھائے اور اُن کے حوالے سے فہم عطا کرے۔

ایک حوالہ جو اکثر خُدا کی طرف سے ملنے والے نور یا ہدایت کے بارے میں تنازع کھڑا کرتا ہے وہ یوحنا 14 باب 26آیت ہے جہاں پر مرقوم ہے کہ "لیکن مددگار یعنی رُوح القدس جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا وہی تمہیں سب باتیں سکھائے گا اور جو کچھ مَیں نے تم سے کہا ہے وہ سب تمہیں یاد دلائے گا۔"اِس موقع پر یسوع بالائی منزل پر اپنے شاگردوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور وہ اپنی موت سے پہلے اُنہیں آخری ہدایات دے رہا تھا۔ اِن سب آدمیوں کا یہ چھوٹا سا گروہ یسوع کے بعد اِس بات کا ذمہ دار تھا کہ وہ یسوع کے وسیلے نجات کی خوشخبری دُنیا کے کونے کونے تک پھیلائیں۔ اُنہو ں نے قریباً ساڑھے تین سال یسوع کے ساتھ گزارے تھے، اُس کے معجزات کو دیکھا تھا اور اُس کی تعلیما ت کو حاصل کیا تھا۔ ابھی اُنہوں نے اُن ساری باتوں کو باقی ساری دُنیا تک پہنچانا تھا، اِس لیے اُنہیں اُن سب چیزوں کو بالکل درست طور پر یاد رکھنے کے لیے خُدا کی خاص مدد کی ضرورت تھی۔ یسوع نے کہا تھا کہ جو کچھ اُن سے کہا گیا ہے رُوح القدس وہ اُنہیں یاد دلائے گا تاکہ وہ اُس تعلیم کو دوسروں تک پہنچا سکیں( اور اِس میں اناجیل کا لکھا جانا بھی شامل ہے)۔ یہ آیت اِس بات کی طرف اشارہ نہیں کرتی کہ رُوح القدس یہ چیز ہر ایک دوسرے ایماندار کے لیے کرے گا (اگرچہ دوسری بہت ساری آیات ہیں جو رُوح القدس کے وسیلے سے ایمانداروں کے ذہنوں کو روشن کرنے کے بارے میں بات کرتی ہیں۔)

ایمانداروں کے اندر کلامِ مُقدس کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیےرُوح القدس کی طرف سے ذہنوں کو روشن کرنے کا کام کیا ہے؟افسیوں 1باب 17-18 آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ رُوح القدس خُداوند یسوع مسیح کی ذات کے تعلق سے مکاشفہ عطا کرتا ہے، اور ہماری فہم و ادراک کی آنکھیں کھولتا ہے تاکہ ہم اپنی زندگیوں میں خُدا کے مقاصد کو اچھی طرح سے سمجھ سکیں۔ 1 کرنتھیوں 2 باب 10-13آیات کے اندر خُدا نے رُوح القدس کے وسیلے سے ہمارے لیے اپنے منصوبوں کو ظاہر کیا ہے۔ رُوح القدس ہماری رہنمائی اور ہدایت کے لیے ہمیشہ ہی ہماری توجہ کلامِ مُقدس کی طرف مبذول کروائے گا۔ جیسا کہ یسوع نے یوحنا 16 باب 12-15آیات کے اندر اپنے شاگردوں کو بتایا تھا، رُوح القدس بس اُنہی باتوں کو دہراتا ہے جو خُدا باپ اور خُدا بیٹے نے کہی ہیں۔ یہ دہرائی ہماری اِس بات میں مدد کرتی ہے کہ ہم خُدا کی باتوں کو یاد رکھ سکیں اور اُن کو مکمل طور پر سمجھ پائیں جو ہمیں پہلے ہی بتا دی گئی ہیں۔ بہت دفعہ ہمیں کئی باتوں کو بار بار سننے کی ضرورت ہوتی ہے پھر کہیں جا کر ہم اُنہیں باقاعدہ طور پر یا درست طور پر سنتے اور سمجھتے ہیں۔اور یہی وہ مقام ہے جہاں پر رُوح القدس اپنا کام شروع کرتا ہے۔

ایک خاص چیز جس کو اکثر اِس غیبی ہدایت اور ذہن کو روشن کئے جانے کے عمل میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ خُدا کی طرف سے اِس غیبی ہدایت یا ہمارے ذہن کو روشن کئے جانے کا مقصد کیا ہے۔ کچھ دلائل کو دیکھنے کے بعد ہمیں محسوس ہوگا کہ اِس غیبی ہدایت اور ذہن کو روشن کئے جانے کا مقصد یہی ہے کہ خُدا کے کلام کو تعلیمی اور درست طریقے سے سمجھا جا سکے۔ اِس میں کچھ ابہام نہیں ہے کہ خُدا چاہتا ہے کہ ہمیں اُس نے جو کچھ کہا ہے اُسے ہم درست طریقے سے سمجھیں۔ الفاظوں کے معنی ہوتے ہیں اور ہمیں اُن الفاظوں کے معنی کی تمام تفاصیل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اور اگرکبھی ہم صرف الفاظ اور اُن کے معنی پر ہی رُک جائیں تو پھر ہمیں کلام کے اُن حصوں کے حقائق اور فلسفیانہ تصورات کی تعلیمی سوجھ بوجھ تو ہوگی لیکن اِس چیز کا کبھی کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

اگر ہم 119 زبور پر واپس جائیں تو وہاں پر ہمیں ذہن کو روشن کرنے کے بارے میں بات کرنے والی آیات کے ساتھ اُس کام کے مقصد کا بیان بھی ملے گا۔ "مَیں تیرے عجائب پر دھیان کرونگا"(27آیت)، "مَیں تیری شریعت پر چلونگا بلکہ مَیں پورے دل سے اُسکو مانوں گا۔"(34آیت)، "تاکہ تیری شہادتوں کو سمجھ سکوں" (125آیت)، "مجھے فہم عطا کر مَیں زندہ رہونگا" (144آیت)۔ خُدا کی طرف سے غیبی ہدایت اور ہمارے ذہنوں کا روشن کیا جانا ہمیشہ ہی عمل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ خُدا اپنے کلام کو سمجھنے میں ہماری مدد کیوں کرتا ہے؟تاکہ ہم کلامِ مُقدس کی روشنی میں جی سکیں۔ 1 یوحنا 1باب6آیت ہمیں چیلنج کرتی ہے ، "اگر ہم کہیں کہ ہماری اُس کے ساتھ شراکت ہے اور پھر تارِیکی میں چلیں تو ہم جھُوٹے ہیں اور حق پر عمل نہیں کرتے۔"اگر ہم اِس بات کو آسان الفاظ میں بیان کرنا چاہیں تو یہ آیت بیان کرتی ہے کہ "اگر ہم کہیں کہ خُدا نے ہمارے ذہنوں کو روشن کر دیا ہے لیکن اِس کے باوجود ہم تاریکی میں چلیں تو اُس صورت میں ہم خُدا کے کلام کو سمجھنے کے حوالے سے جھوٹ بولتے ہیں۔"خُدا کا پاک رُوح جو ہمیں خُدا کے کلام کو سننے اور سمجھنے میں مددکرتا ہے اُس علم کو لیتے ہوئے ہماری رہنمائی کرتا ہے کہ ہم اُس کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ رومیوں 8باب 14آیت بیان کرتی ہے کہ "اِس لئے کہ جتنے خُدا کے رُوح کی ہدایت سے چلتے ہیں وُہی خُدا کے بیٹے ہیں۔"ہماری زندگیوں کے اندر خُد اکی طرف سے یہ غیبی مدد، یعنی ہمارے ذہنوں کا روشن کیا جانا اِس بات کی تصدیق ہے کہ ہم حقیقت میں خُد اکے فرزند ہیں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل کے مطابق غیبی ہدایت یا کلام کو سمجھنے کے لیے ذہن کے روشن کئے جانےسے کیا مُراد ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries