settings icon
share icon
سوال

بائبلی نظریہ تخلیق اِس قدر اہم کیوں ہے؟

جواب


جس طرح ایک عمارت کی بنیاد اہم ہوتی ہےاسی طرح ابتداکے بارے میں ایک واضح نقطہ نظر اہم ہوتا ہے ۔ مسیحیت پیدایش کی کتاب کے پہلے باب کے آغاز میں بیان کردہ الفاظ " خدا نے ابتدا میں۔۔۔۔۔ پیدا کیا "کی بنیاد پر قائم ہے۔ یہ واحد بیان نظریہ ِ تخلیق کی تصدیق کرتا اور ایسے کسی بھی نظریے کی مخالفت کرتا ہے جو نظریہ فطرت پرستی (یہ عقیدہ کہ کائنات خدا کی مداخلت کے بغیر شروع ہوئی تھی اور/ یا اُس کے عمل دخل کے بغیر جاری ہے ) کا حامی ہے ۔

تخلیق کے بارے میں مختلف نقطہِ نظر اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ آیا ہم خدا کےکلام پر ایمان رکھتے ہیں یا اُس کی سچائی پر سوالات اُٹھاتے ہیں ۔ بطور مسیحی ہمیں نظریہِ تخلیق اور نظریہ فطرت پرستی میں فرق کرنے کی ضرورت ہے ؛ ہمیں جاننے کی ضرورت ہے کہ وہ مختلف کیسے ہیں ؟ اُن میں سے سچا کون سا ہے ؟کیا نظریہ تخلیق کے ساتھ ساتھ ارتقا ءکے کسی پہلو پر یقین کرنا ممکن ہے ؟بائبل کا نظریہ تخلیق کیا ہے اور یہ ہمارے بنیادی عقیدے کے نظام کو کیسے متاثر کرتا ہے ان باتوں کی وضاحت کے وسیلہ سے اوپر بیان کردہ سوالات کے جوابات دئیے جا سکتے ہیں ۔

بائبل کا نظریہ ِ تخلیق اس لیے اہمیت کا حامل ہے کہ یہ انسان کی موجودگی کے بارے میں بنیادی سوالات کے جوابات پیش کرتا ہے :

1) ہم اس زمین پر کیسے پہنچے تھے ؟ ہم کہاں سے آئے ہیں ؟

2) ہم یہاں کیوں ہیں ؟کیا ہماری زندگی کا کوئی مقصد ہے اور ہمارے یا اِس ساری دُنیا کے مسائل کا اصل سبب کیا ہے ؟ کیا گناہ اور نجات کے معاملات اہمیت رکھتےہیں ؟

3) جب ہم مرتے ہیں تو ہمارے ساتھ کیا ہوتا ہے ؟ کیا موت کے بعد زندگی ہے؟ابتدا کے بارے میں کسی بھی شخص کا موقف اہمیت کا حامل ہے کیونکہ پیدایش کی کتاب باقی تمام بائبل مقدس کی بنیاد ہے جس میں ان سوالات کے جوابات دئیے جاتے ہیں ۔ پیدایش کی کتاب کو ایک درخت کی جڑ سے تشبیہ دی گئی ہے اور اس طرح وہ کلامِ مقدس کو مضبوط کرتی ہے ۔ اگر آپ کسی درخت کی جڑیں کاٹ دیتے ہیں تو وہ درخت سوکھ جاتا ہے ۔ اگر آپ پیدایش کی کتاب پر کوئی الزام لگاتے ہیں تو آپ تمام کلام ِ مقدس کے مستند ہونے کی اہمیت کو ختم کر دیتے ہیں ۔

پیدایش 1باب 1آیت فرماتی ہے کہ "خُدا نے اِبتدا میں زمین و آسمان کو پیدا کِیا" ۔ یہ آیت ہمیں تین بڑی سچائیاں فراہم کرتی ہے جو بائبل کے نظریہ تخلیق اور مسیحی ایمان کے لیے بنیاد ہیں ۔ پہلی بات ، خدا ایک ہے ۔ یہ غیر مذاہب کے نظریہ کثرت پرستی اور جدید انسانی فلسفے کے نظریہِ ثنویت کے برعکس ہے ۔ دوسری بات، خدا یک شخصی خدا ہے جو اپنی ساری مخلوقات سے اعلیٰ و ارفع اور بالا ہے ۔ یہ نظریہ مظاہر پرستی کے اُلٹ ہے جو خدا کو اعلیٰ اور افضل نہیں بلکہ ایک طبعی ہستی کے طور پر دیکھتا ہے ۔ آخری بات، خدا قادرمطلق اور ابدی ہے ۔ یہ اُن بتُوں کےبالکل برعکس ہے جن کی لوگ پوجا کرتے ہیں ۔ خدا تمام چیزوں سے پہلے موجود تھا ، اب ہے اور ہمیشہ رہے گا –اُس نے اپنے کلام کے وسیلہ سے تمام چیزوں کو نیست سے پیدا کیا ہے ۔

یہ بات تخلیق کی ابتداسے متعلق ہمارے سوال کا جواب دیتی ہے لیکن ہمارے دوسرے سوال کا کیا ہوگا: ہم یہاں کیوں ہیں؟

بائبلی نظریہ تخلیق بنی نو ع انسان کی حالت سے متعلقہ سوال کا جواب دیتا ہے ۔ پیدایش 3باب انسان کے زوال کے بارےمیں ہے لیکن یہ ہمیں نجات کی اُمید بھی دیتا ہے ۔ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اس بات کو سمجھیں کہ ہم ایک اصلی اور حقیقی انسان آدم میں کی نسل سے ہیں ۔ اگر آدم ایک اصلی شخص نہیں ہے تو ہمارے پاس اس بات کی کوئی معقول وضا حت نہیں ہے کہ گناہ اس دنیا میں کیسے داخل ہوا تھا ۔ اگر آدم میں انسانیت فضل سے محروم نہیں ہوئی تھی تو پھر انسانیت مسیح یسوع میں فضل کے وسیلہ سے نجات بھی نہیں پا سکتی ۔ 1کرنتھیوں 15باب 22آیت فرماتی ہے "جیسے آدمؔ میں سب مَرتے ہیں وَیسے ہی مسیح میں سب زِندہ کئے جائیں گے ۔" آدم زوال پذیر نسل کا سربراہ ہے اور مسیح نجات یافتہ نسل کا سربراہ– اِس تشبیہ کی سوجھ بوجھ ہمارے لیے نجات کو سمجھنے کے لیے اہم ہے۔"کیونکہ جس طرح ایک ہی شخص کی نافرمانی سے بہت سے لوگ گنہگار ٹھہرے اُسی طرح ایک کی فرمانبرداری سے بہت سے لوگ راست باز ٹھہریں گے۔ اور بیچ میں شرِیعت آ موجود ہوئی تاکہ گُناہ زِیادہ ہو جائے مگر جہاں گُناہ زِیادہ ہواا وہاں فضل اُس سے بھی نہایت زِیادہ ہوا"( رومیوں 5باب 18-19آیات)۔

ہمیں بائبلی نظریہ ِ تخلیق کو اپنی اقدار کے نظام کی بنیاد کے طور پر دیکھنا چاہیے ۔ تخلیق کا بیان محض ایک افسانوی داستان نہیں بلکہ حقیقی ہونا چاہیے کیونکہ اگر یہ من گھڑت ہے تو جو اقدار یہ ظاہر کرتا ہے یہ انسانی عقل کا نتیجہ ہیں جو انسان کے " ارتقاء" کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتی جاتی ہیں اور اس سبب سے نامناسب ہیں ۔ سائنس اور مذہب ( بالخصوص مسیحیت) کے مابین جدید دور کے تصادم کی بنیاد اس مفروضے پر ہے کہ ( ملحدانہ ) سائنس ایک حقیقت ہے جبکہ مذہب محض توہمات اور افسانوی داستانوں کا مجموعہ ہے ۔ اگر یہ سچ تھا تو ہماری مسیحی اقدار صرف مسیحیوں کے لیے قابلِ قدرہیں جن کا بے دین دنیا سے کوئی تعلق نہیں ۔

بنی نو ع انسان کےلیے آخری بنیادی سوال یہ ہے کہ جب ہم مرتے ہیں تو ہمارے ساتھ کیا ہوتا ہے ؟ اگر انسان محض بے مقصد اور حادثاتی طور پر وجود میں آنے والی کائنات کا حصہ ہے اور جب مرتا ہے تو عام طور پر مادے کی ایک قسم سے دوسری قسم میں تبدیل ہو جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے پاس کوئی جان یا رُوح نہیں ہے اور یہ زمینی زندگی ہی سب کچھ ہے ۔ لہذا یہ عقیدہ اس زندگی میں ہمیں صرف ایک مقصدمہیا کرتا ہے : ارتقا ءکے منصوبے کی پیروی کرنا جو کہ بہترین انواع کی بقا ءکے اُصول پر مبنی ہے ۔

دوسری طرف مسیحیت ہمارے سامنے ایسی اخلاقی بھلائی پیش کرتی ہے جو اعلیٰ و ارفع اور مافوق الفطرت ہستی کی طرف سے قائم کردہ ہیں ۔ خدا کی اخلاقی فطرت ایک ایسے لاتبدیل معیارکو قائم کرتی ہے جو ہمارے لیے ذاتی طور پر نہ صرف بہتر زندگی کو فروغ دیتا ہے بلکہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ہمیں دوسروں سے محبت کیسے رکھنی ہے اور اپنے خالق کو جلال کیسے دینا ہے ۔ اس معیار کی مثال مسیح یسوع نے پیش کی ہے ۔ یہ اُس کی زندگی ،موت، اور مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے وسیلہ سے ہی یہ ممکن ہوا ہے کہ ہمیں اس زندگی کےلیے مقصد اور مستقبل میں آسمان پر خدا کےساتھ زندگی کی اُمید ملتی ہے ۔

بائبلی نظریہ تخلیق اس وجہ سے بھی اہم ہےکہ یہ وہ واحد نظا م ہے جو زندگی کے بنیادی سوالات کا جواب پیش کرتا ہے اور جتنی اہمیت ہم خود کو دیتے ہیں اُس سے بھی بڑھ کر ہمیں اہمیت دیتا ہے۔ یہ بات تمام مسیحیوں پر واضح ہونی چاہیے کہ نظریہ تخلیق اور نظریہ فطرت پرستی باہمی طور پر متصادم ہیں اور ایک دوسرے کی مخالفت میں کھڑے ہیں ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبلی نظریہ تخلیق اِس قدر اہم کیوں ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries