حسد (جیلسی)کے بارے میں بائبل کیا فرماتی ہے؟


سوال: حسد (جیلسی)کے بارے میں بائبل کیا فرماتی ہے؟

جواب:
جب ہم لفظ "جیلس " استعمال کرتے ہیں، تو ہم اِسے کسی سے حسد کرنے کے مفہوم میں استعمال کرتے ہیں کہ اُس کے پاس وہ چیز کیوں ہے جو میرے پاس نہیں ہے۔ اِس قسم کی جیلسی گناہ ہے اور ایک مسیحی کی خصوصیت نہیں ہے، بلکہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ ہم ابھی بھی اپنی خواہشات کے قبضہ میں ہیں (پہلا کرنتھیوں باب 3 آیت 3)۔ گلتیوں باب 5 آیت 26 فرماتی ہے، "ہم بے جا فخر کر کے نہ ایک دُوسرے کو چِڑائیں نہ ایک دُوسرے سے جلیں"۔

بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ ہمیں محبت کی کامل قسم رکھنی ہے جو خُدا ہم سے کرتا ہے۔ "مُحبت صابر ہے اور مہربان۔ مُحبت حسد نہیں کرتی۔ محبت شیخی نہیں مارتی اور پھُولتی نہیں۔ نازیبا کام نہیں کرتی۔ اپنی بہتری نہیں چاہتی۔ جھُنجھلاتی نہیں۔ بدگمانی نہیں کرتی"(پہلا کرنتھیوں باب 13 آیات 4تا 5)۔ جنتا ہم اپنے اُوپر اور اپنی خواہشات پر توجہ دیں گے، اُتنا کم ہم خُدا پر توجہ دے پائیں گے۔ جب ہم اپنے دِلوں کو سچائی کے حوالے سے سخت کرتے ہیں، ہم یسوع کی طرف نہیں پھر سکتے اور اُسے موقع نہیں دے سکتے کہ وہ ہمیں شفا بخشے (متی باب 13آیت 15)۔ جب ہم روح القدس کو موقع دیں گے کہ وہ ہمیں کنٹرول کرے، تو وہ ہم میں نجات کا پھل پیدا کرے گا، جو کہ محبت، خوشی، اطمینان، تحمل، مہربانی، نیکی، ایمانداری، حلم، پرہیزگاری ہے (گلتیوں باب 5 آیات 22تا 23)۔

حسد کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم اُن چیزوں سے مطمئن نہیں ہیں جو خُدا نے ہمیں دی ہیں۔ بائبل ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم اُن چیزوں پر قناعت کریں جو ہمارے پاس ہیں، کیونکہ خُدا ہم سے ہرگز دست بردار نہ ہو گا اور نہ کبھی چھوڑے گا" (عبرانیوں باب 13 آیت 5)۔ حسد کا مقابلہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ مسیح کی مانند اور کم سے کم اپنی مانند بنیں۔ ہم مسیح کو بائبل کے مطالعہ، دُعا، اور پختہ ایمانداروں کے ساتھ رفاقت کے وسیلہ سے جان سکتے ہیں۔ جونہی ہم سیکھ جائیں گے کہ خود کی بجائے دوسروں کی خدمت کیسے کرنی ہے، تو ہمارے دِل تبدیل ہونا شروع ہو جائیں گے۔ "اور اِس جہان کے ہم شکل نہ بنو بلکہ عقل نئی ہو جانے سے اپنی صُورت بدلتے جاؤ تاکہ خُدا کے نیک اور پسندیدہ اور کامل مرضی تجربہ سے معلوم کرتے رہو" (رومیوں باب 12 آیت 2)۔

English
اردو ہوم پیج میں واپسی
حسد (جیلسی)کے بارے میں بائبل کیا فرماتی ہے؟