بائبل کے مطابق ہمیں کونسے (حلال/پاک) کھانے کھانے چاہییں؟کیا ایسے کھانے بھی ہیں جن سے مسیحیوں کو پرہیز کرنا چاہیے؟


سوال: بائبل کے مطابق ہمیں کونسے (حلال/پاک) کھانے کھانے چاہییں؟کیا ایسے کھانے بھی ہیں جن سے مسیحیوں کو پرہیز کرنا چاہیے؟

جواب:
احبار11 باب غذائی اصول و قوانین پر مشتمل پابندیوں کی فہرست پیش کرتا ہے جو خُدا نے بنی اسرائیل کو دی۔اِن غذائی اصول و قوانین میں سُوَر ، کیکڑے/جھینگے، شیل فش/سیپ اور بہت سےسمندری/آبی کیڑوں، مُردار خور/متعفن مادہ و فضلہ خور پرندوں، اور متعدد دیگر جانوروں کو کھانے کی ممانعت شامل تھی۔ اِن غذائی قوانین کو اسرائیلیوں کے علاوہ کسی دوسرے پر لاگوکرنا قطعی طور پر مقصود نہیں تھا۔ نظام غذا کے قوانین کا مقصد اسرائیلیوں کو تمام دوسری قوموں سے الگ کرنا تھا۔ اِس مقصد کی تکمیل کے بعدیسوع نے تمام کھانوں کو پاک ٹھہرا دیا (مرقس7 باب 19 آیت)۔ خُدا نے پطرس رسول کو ایک رویا دی جس میں اُس نے اعلان کیا کہ بہت سارے دیگر جانوروں کو کھایا جا سکتا ہے: "پھر دوسری بار اُسے آواز آئی کہ جن کو خُدا نے پاک ٹھہرایا ہے تُو اُنہیں حرام نہ کہہ" (اعمال10 باب 15 آیت)۔ جب یسوع نے صلیب پر اپنی جان دی، تو اُس نے پرانے عہد نامے کی شریعت کو پورا کر دیا (رومیوں10 باب 4 آیت؛ گلتیوں 3باب 24-26 آیات؛ افسیوں2 باب 15 آیت)۔ اِس میں پاک اور ناپاک کھانوں کے قوانین بھی شامل ہیں۔

رومیوں14 باب 1-23 آیات ہمیں سکھاتی ہیں کہ اِس حقیقت کو قبول کرنے کے لئے ہر شخص ایمان میں اتنا پختہ نہیں ہوتا کہ تمام کھانے پاک ہیں۔ نتیجے کے طور پر اگر ہم کسی ایسے شخص کے ساتھ ہیں جو ہمارے کسی خاص قسم کے کھانے کی وجہ سے ٹھوکر کھا سکتا ہے تو ہمیں اُس کے سامنے ایسا کھانا کھانے کے حق سے دستبردار ہو جانا چاہیے، تاکہ کسی دوسرے بہن بھائی کے لیے ٹھوکر کا باعث نہ بنیں۔ ہمارے پاس یہ حق ہے کہ ہر وہ چیز جسے خُدا نے پاک ٹھہرایا ہے اُسے کھائیں لیکن ہمارے پاس اپنے کھانے پینے کی وجہ سے کسی دوسرے مسیحی بہن بھائی کے لیے ٹھوکر کا سبب بننے کا حق موجود نہیں ہے چاہے دوسراشخص غلط ہی کیوں نہ ہو۔ آج ہم مسیحی ہر مناسب چیز کھانے کی آزادی رکھتے ہیں، جب تک کہ ہم کسی کے ایمان کے لئے ٹھوکر کا باعث نہیں بنتے۔

اِس نئے فضل کےعہد میں بائبل کو اِس بات کے مقابلے میں کہ ہم کیا کھاتےہیں، اِس بات کی زیادہ تشویش ہے کہ ہم کتنا کھاتے ہیں۔ جسمانی بھوک ہمیں کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر ہم اپنے کھانے کی عادت کو کنٹرول کرنے کے قابل نہیں ہیں، تو ہم غالباً دوسری ذہنی عادات(شہوت، لالچ،بلاجواز نفرت/غصے) کو کنٹرول کرنے کے بھی قابل نہیں ہیں، اور اپنے منہ کو بکواس اور جھگڑے سے باز رکھنے کے قابل بھی نہیں ہیں۔ ہم اپنی بھوک کو اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ ہمیں کنٹرول کرے، بلکہ ہم نے اپنی بھوک کو کنٹرول کرنا ہے (استثنا21 باب 20 آیت؛ امثال23 باب 2 آیت؛ 2 پطرس 1 باب 5-7آیات؛2 تیمتھیس3 باب 1- 9 آیات؛ 2کرنتھیوں 10باب 5 آیت)۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
بائبل کے مطابق ہمیں کونسے (حلال/پاک) کھانے کھانے چاہییں؟کیا ایسے کھانے بھی ہیں جن سے مسیحیوں کو پرہیز کرنا چاہیے؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں