خوف کے بارے میں بائبل کیا فرماتی ہے؟


سوال: خوف کے بارے میں بائبل کیا فرماتی ہے؟

جواب:
بائبل دو مخصوص قسم کے خوف کا ذکر کرتی ہے۔ پہلی قسم فائدہ مند ہے اور اِس کی ترغیب دی جاتی ہے۔ دوسری قسم نقصان دہ ہے اور اِس پر قابو پانا چاہیے۔ پہلی قسم کے خوف کا مطلب کسی چیز سے ڈرنا نہیں ہے۔ بلکہ یہ خُدا کا تعظیمی خوف، یعنی اُس کی قدرت اور جلال کے لئے اُس کا احترام کرنا ہے۔ تاہم، یہ اُس کے غضب اور غصہ کے لئے واجب احترام بھی ہے۔ دوسرے الفاظ میں، خُدا کا خوف مکمل طور پر اِس بات کا اعتراف کرنا ہے کہ صرف خُدا ہی ہے، اور یہ اعتراف اُس کو اور اُس کی صفات کو جاننے سے آتا ہے۔

خُداوند کا خوف بہت سی برکات اور فوائد کا باعث بنتا ہے۔ یہ دانائی کا شروع ہے اور اچھی سمجھ بوجھ کی طرف لاتا ہے (زبور 111 آیت 10)۔ لیکن احمق حکمت اور تربیت کی حقارت کرتے ہیں (امثال پہلا باب آیت 7)۔ اِس کے علاوہ، خُدا کا خوف زندگی، آرام،سلامتی، اور اطمینان بخشتا ہے (امثال باب 19 آیت 23)۔ یہ زندگی کا چشمہ ہے (امثال باب 14 آیت 27) اور ضمانت اور حفاظت کی جگہ مہیا کرتا ہے (امثال باب 14 آیت 26)۔

اس طرح، کوئی بھی شخص دیکھ سکتا ہے کہ خُدا سے ڈرنے کی حوصلہ افزائی کیسے ہونی چاہیے۔ تاہم، بائبل میں مذکور خوف کی دوسری قسم بالکل فائدہ مند نہیں ہے۔ یہ "خوف کی رُوح" ہے جِس کا ذکر 2 تھِمُتھِیُس پہلا باب آیت 7 میں کیا گیا ہے، "کیونکہ خُدا نے ہمیں دہشت کی رُوح نہیں بلکہ قدرت اور محبت اور تربیت کی رُوح دی ہے"۔ خوف اور بُزدلی کی رُوح خُداوند کی طرف سے نہیں ہے۔

تاہم، بعض اوقات ہم خوفزدہ ہوتے ہیں، بعض اوقات یہ "خوف کی رُوح" ہم پر غالب آ جاتی ہے، اور اِس پر غالب آنےکے لئے ہمیں خُدا پر بھروسہ کرنے اور اُس سے محبت کرنے کی ضرورت ہے۔ "محبت میں خوف نہیں ہوتا بلکہ کامل محبت خوف کو دُور کر دیتی ہے کیونکہ خوف سے عذاب ہوتا ہے اور کوئی خوف کرنے والا محبت میں کامل نہیں ہوا" (پہلا یوحنا باب 4 آیت 18)۔ کوئی کامل نہیں ہے، اور خُدا اِس بات سے واقف ہے۔ اِس وجہ سے اُس نے پوری بائبل میں خوف کے خلاف آزادانہ طور پر ہمت افزائی کی ہے۔ پیدائش کی کتاب کے شروع سے لے کر مکاشفہ کی کتاب کے آخر تک خُدا ہمیں "خوف نہ کرنے" کی یاد دِلاتا ہے۔

مثال کے طور پر، یسعیاہ باب 41 آیت 10 ہماری حوصلہ افزائی کرتی ہے، "تُو مت ڈر کیونکہ میں تیرے ساتھ ہوں۔ ہِراسان نہ ہو کیونکہ میں تیرا خُدا ہوں میں تجھے زور بخشوں گا۔میں یقیناً تیری مدد کرُوں گا اور میں اپنی صداقت کے دہنے ہاتھ سے تجھے سنبھالوں گا"۔ اکثر ہم مستقبل کا خوف کرتے ہیں کہ ہمارا کیا بنے گا۔ لیکن یسوع ہمیں یاد دِلاتا ہے کہ خُدا ہوا کے پرندوں کا خیال رکھتا ہے، تو وہ اپنے فرزندوں کی کتنی زیادہ فکر کرے گا؟ "پس ڈرو نہیں۔ تمہاری قدر تو بہت سی چڑیوں سے زیادہ ہے" (متی باب 10 آیت 31)۔ صرف یہ چند آیات مختلف قسم کے خوف کا احاطہ کرتی ہیں۔ خُدا ہمیں اکیلے ہونے ، کمزور ہونے، نہ سُنے جانے، اور جسمانی ضروریات کی کمی کی وجہ سے خوف نہ کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ ایسی نصیحتیں "خوف کے رُوح" کے بہت سے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے پوری بائبل میں جاری رہتی ہیں۔

زبور 56 آیت 11 میں زبور نویس لکھتا ہے، "میرا توکل خُدا پر ہے۔ میں ڈرنے کا نہیں۔ انسان میرا کیا کر سکتا ہے؟"۔ یہ خُدا پر بھروسہ کرنے کی قدرت کی بہت اچھی گواہی ہے۔ جو کچھ ہوتا ہے اِ سکے باوجود، زبور نویس خُدا پر بھروسہ کرتا ہے کیونکہ وہ خُدا کی قدرت کو جانتا اور سمجھتا ہے۔ خوف پر غالب آنے کی کُلید خُدا پر مکمل اور کامل بھروسہ کرنا ہے۔ خُدا پر بھروسہ کرنا خوف سے ہار ماننے سے انکار کرنا ہے۔ یہ تاریک ترین اوقات میں خُدا کی طرف پھرنا اور چیزوں کو درُست کرنے کے لئے خُدا پر بھروسہ کرنا ہے۔ یہ بھروسہ خُدا کو جاننے اور اِس بات کو جاننے سے آتا ہے کہ وہ بھلا ہے۔ جیسے ایوب نے کہا جب وہ بائبل میں درج مشکل ترین مصائب جھیل رہا تھا، "اگرچہ وہ مجھے قتل کرتا ہے، لیکن میں پھر بھی اُس پر بھروسہ کروں گا " (ایوب باب 13 آیت 15 این۔کے۔جے۔وی)۔

جب ہم نے خُدا پر بھروسہ کرنا سیکھ لیا ہے، تو اب ہم اُن باتوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے جو ہمارے خلاف آتی ہیں۔ ہم زبور نویس کی طرح ہوں گے جس نے اعتماد کے ساتھ کہا، "لیکن وہ سب جو تجھ پر بھروسہ رکھتے ہیں شادمان ہوں۔ وہ سدا خوشی سے للکاریں کیونکہ تُو اُن کی حمایت کرتا ہے۔ اور جو تیرے نام سے محبت رکھتے ہیں تجھ میں شاد رہیں" (زبور 5 آیت 11)۔

English
اردو ہوم پیج میں واپسی
خوف کے بارے میں بائبل کیا فرماتی ہے؟