settings icon
share icon
سوال

بائبل مُقدس کسی انسان کو سہل/بے ایذا/آسان موت دینے (معاونتی خودکشی) کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

جواب


آسان(سہل/بے ایذا) موت جسے بعض اوقات "مہربان قتل" بھی کہا جاتا ہے ایک مشکل معاملہ ہو سکتا ہے۔ ایک طرف تو ہم کسی شخص کی زندگی کو اپنے ہاتھ میں لے کر ختم نہیں کرنا چاہتے ۔ اور دوسری طرف ہم(کسی کی بیماری، کمزوری، لاچاری ، جسمانی بدحالی کی وجہ سے اُسکے) مرنے کے عمل کو ضرورت سے زیادہ لمبا نہیں دیکھنا چاہتے۔ مطلب یہ کہ ہم زندگی کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں لیکن(جسمانی بدحالی کی صورت میں) موت کو طُول بھی نہیں دینا چاہتے۔ایسی صورت میں کونسے موقعے پرہم کسی انسان کو مر جانے دیں اور اُسکی زندگی کو مزید بچانے یا محفوظ رکھنے کی کوشش کرنا روک دیں؟

اِس سے ملتا جلتا معاملہ معاونتی خود کشی کا ہے۔ معاونتی خودکشی کے عمل میں دراصل وہ شخص جو مرنا چاہتا ہے وہ کسی ایسے معاون کی تلاش میں ہوتا ہے جو اُسکی مدد کرے اور اِس بات کو یقینی بنائے کہ مرنے والے شخص کی موت بالکل آسان، بغیر درد کے اور جلد واقع ہو جائے۔ معاون شخص خود کشی کی تیاری اور اُس کے عمل میں استعمال ہونے والے ضروری سازوسامان کی سہولت فراہم کرتا ہے، جبکہ خود کشی کرنے والا اپنی جان دینے کی تیاری کرتا ہے۔ موت تک رسائی میں مدد فراہم کر نے والا سہولت کار قتل کے الزام سے بچنے کے لیے ذاتی طور پر پیچھے ہی رہتا ہے۔ معاونتی خودکشی کے حامی اِس عمل کو مثبت رنگ دینے کے لیے اِس کے لیے "عزت و وقار کی موت" جیسی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ لیکن "عزت و وقار کی موت" ابھی بھی "معاونتی خود کشی" کی موت ہے، اور خود کشی کرنا گناہ ہے۔

ہم ایسی دُنیا میں رہتے ہیں جسے کبھی کبھی "موت کی ثقافت " کہا جاتا ہے۔ اسقاطِ حمل پر دہائیوں سے عمل کیا جا رہا ہے۔ اب کچھ ایسے بھی ہیں جو حیران کن طور پرطفل کشی (چھوٹے بچوں کو مارنے کے عمل) کی بھی تجویز دیتے ہیں۔ آسان موت کو مختلف سماجی اور مالی مسائل کو حل کرنے کے قابل عمل ذریعے کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے۔ دُنیا کے مسائل کو حل کرنے کےلیے موت پر اِس قسم کی توجہ بائبلی نمونے کے بالکل برعکس ہے۔ بائبل بیان کرتی ہے کہ موت دشمن ہے (1کرنتھیوں15باب 26 آیت)۔ زندگی خُدا کی طرف سے ایک پاک اور بیش قیمت تحفہ ہے (پیدائش2 باب 7 آیت)۔ جب اسرائیلیوں کو زندگی اور موت میں سے ایک چیز کے انتخاب کا موقع دیا گیا تو خُدا نے اسرائیل کو "زندگی کے انتخاب" کے لئے کہا (اِستثنا 30 باب 19آیت)۔ آسان(سہل/بے ایذا) موت خُدا کی نعمت کی بے حرمتی کرتے ہوئے لعنت کو گلے لگانا ہے۔

یہ عظیم سچائی کہ خُدا حاکم اعلیٰ ہے ہمیں اِس نتیجے پر لاتی ہے کہ آسان موت اور معاونتی خود کشی گناہ ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ جسمانی موت ہم فانی انسانوں کے لئے ناگزیر ہے (89 زبور 48آیت؛ عبرانیوں 9 باب 27آیت)۔ تاہم اِس بات پر واحد مختار خُدا ہے کہ کسی شخص کی موت کب اور کیسےواقع ہو گی۔ خُدا کا بندہ ایوب گواہی دیتا ہے، "کیونکہ مَیں جانتا ہوں کہ تُو مجھے موت تک پہنچائے گا اور اُس گھر تک جو سب زندوں کے لئے مقرر ہے" (ایوب 30باب23آیت)۔ واعظ 8 باب 8آیت بیان کرتی ہے، "کسی آدمی کو رُوح پر اختیار نہیں کہ اُسے روک سکے اور مرنے کا دن بھی اُس کے اختیار سے باہر ہے اور اُس لڑائی سے چھٹی نہیں ملتی اور نہ شرارت اُس کو جو اُس میں غرق ہے چھڑائے گی"۔ خُدا موت کے بارے میں حتمی تعلیم دے چکا ہے (1کرنتھیوں15 باب 26، 54- 56آیات؛ عبرانیوں 2 باب 9، 14- 15آیات؛ مکاشفہ 21 باب 4آیت)۔ آسان موت اور معاونتی خود کشی انسان کی طرف سے خُدا سے اُسکے اختیارکو چھیننے کی کوششیں ہیں۔

موت ایک قدرتی حادثہ ہے۔ بعض اوقات خُدا کسی شخص کو موت سے پہلے طویل عرصے تک تکلیف سہنے دیتا ہے، اور بعض اوقات کسی شخص کی تکلیف کم کر دی جاتی ہے۔ کوئی بھی مصیبت سے لطف اندوز نہیں ہوتا، لیکن اِس سے اِس بات کا تعین کر نا درُست نہیں ہے کہ کسی شخص کو تکلیف یا بیماری کے شدید ہوجانے کی وجہ سے مر جانا چاہیے۔ اکثر خُدا کے مقاصد کوتکلیف کے ذریعے جانا جاتا ہے۔ "اقبالمندی کے دن خوشی میں مشغول ہو پر مصیبت کے دن میں سوچ بلکہ خُدا نے اِسکو اُسکے مقابل بنا رکھا ہے تاکہ انسان اپنے بعد کی کسی بات کو دریافت نہ کرسکے" (واعظ 7 باب 14آیت)۔ رومیوں 5باب 3آیت سکھاتی ہے کہ مصیبتوں سے صبر پیدا ہوتا ہے۔ خُدا اُن لوگوں کی پرواہ کرتا ہے جو موت کے لئے روتے ہیں اور اپنی مصیبتوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ خُدا آخر تک زندگی میں مقاصد فراہم کرتا ہے۔ صرف خُدا ہی جانتا ہے کہ سب سے بہتر کیا ہے، اور خُدا کی طرف سے مقرر کردہ وقت کسی کی موت کے معاملے میں بھی کامل ہے۔

ہمیں زندگی ختم کرنے کی کوشش کبھی بھی نہیں کرنی چاہیے۔ اور نہ ہی زندگی کو محفوظ رکھنے کے لئے غیر معمولی وسائل پر تکیہ کرنا چاہیے۔ جلد بازی کی موت گناہ ہے، غیر فعال طریقہ سے علاج کو روکنا بھی غلط ہو سکتا ہے، لیکن قدرتی طور پر بیمار شخص کو قدرتی موت کی اجازت دینا گناہ نہیں ہے۔ جو کوئی اِس مسئلے کا سامنا کرتا ہے اُسے خُدا سے حکمت کی دُعا کرنی چاہیے (یعقوب 1 باب 5 آیت)۔ ہم سب کو سابق سرجن جنرل سی۔ایورٹ کُوپ کے الفاظ یاد رکھنے چاہییں جس نے خبردار کیا کہ طبی سرگرمیاں(شعبہ طب) ایک ہی وقت میں" ہمارا شافی اور ہمارا قاتل نہیں ہو سکتا ۔" (from KOOP, The memoirs of America’s Family Doctor by C. Everett Koop, M.D., Random House, 1991)

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل مُقدس کسی انسان کو سہل/بے ایذا/آسان موت دینے (معاونتی خودکشی) کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries